کبھی نہ کہو کھبی نہیں! 

کبھی نہ کہو کھبی نہیں! 
کبھی نہ کہو کھبی نہیں! 
سورس: Pixabay.com (creative commons license)

  

ٹوکیو میں اولمپکس مقابلے زور سے جاری ہیں۔ زور و شور اس لئے نہیں کہا کیونکہ وہاں کوئی تماشائی موجود نہیں ہیں لہذا مقابلوں میں زور و شور موجود نہیں ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ مقابلے منعقد ہو رہے ہیں۔ 25 تاریخ کو ٹوکیو اولمپکس کے دوران ایک دلچسپ منظر دیکھنے کو ملا۔ میں ٹی وی سکرین پر  جودیکھ رہا تھا  اس نے مجھے یہ تحریر لکھنے پر مجبور کیا۔ ایک مشرقی نظر آنے والی "خالہ" مسکراہٹ کے ساتھ میدان میں داخل ہوئیں، انکے بعد ایک نوجوان لڑکی کورٹ میں آئی ۔ مجھ سمیت  بہت سے لوگ یہ سمجھے کہ کوچ کھلاڑیوں کو میدان میں لے کر آئی ہیں۔ لیکن جناب یہ تو  ایک بہت بڑے مقابلے کا آغاز ہونے جا رہا تھا ۔

خواتین ٹیبل ٹینس سنگلز کے دوسرے راونڈ کے مقابلے میں  58 سالہ چینی نژاد کھلاڑی محترمہ  نی شا لین نے  لکسمبرگ کی نمائندگی کرتے ہوئے شریک ہورہی تھیں۔ ان کی حریف جنوبی کوریا کی 17 سالہ ایتھلیٹ شن یوبین تھیں۔ دونوں کھلاڑیوں کی عمر میں 41 سال کا فرق تھا۔ 

وہ خالہ جو ابھی مسکراتے ہوئے میدان میں داخل ہوئی تھیں مقابلہ شروع ہوتے ہیں انہوں نے اپنے چہرے سے مسکراہٹ کو دور کر دیا  اور زبردست انداز میں مقابلے کا آغاز کیا۔ مقابلہ بہت جاندار تھا۔ دنوں کھلاڑیوں کی عمر میں واضح فرق تھا لیکن اس کے باوجود محترمہ  نی شا لین تر نوالہ ثابت نہیں ہوئیں۔ انہوں نے اپنی مدمقابل کھلاڑی کو ناکوں چنے چبوا دئیے۔ یہ مقابلہ تقریباً 51 منٹ تک جاری رہا۔ 

 محترمہ  نی شا لین اس میچ کو جیت نہیں پائیں ، لیکن وہ اس میچ  کے نتیجے سے مطمئین تھیں۔ یہ اطمینان ان کے چہرے اور ان کی باڈی لیگوئج میں صاف دکھائی دے رہا تھا انہوں نے میچ کے بعد نہایت نفاست سے تولیے کی مدد سے اپنا پسینہ صاف کیا سامان اپنے بیگ میں رکھا اور باہر جانے کے لئے چلنے لگیں ۔ انہیں دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسا وہ کسی جمنیزیم میں صبح کی ورزش کرنے کے لئے آئیں تھیں اور اب واپس جا رہی ہیں۔ دوران مقابلہ ان کے چہرے پر موجود سنجیدگی اب جا چکی تھی اور وہ پھر سے مسکرا رہی تھیں۔ 

 بہت کم لوگوں کو یاد ہے کہ 38 سال پہلے وہ ٹوکیو میں ہی ایک نا قابل شکست ملکہ تھیں۔

1983 میں ، ٹوکیو میں 37 ویں ورلڈ ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں ، 20 سالہ نی شیالین نے چینی ٹیم کے ساتھ خواتین کی ٹیم چیمپئن شپ جیتی۔اس کے علاوہ انہوں نے اپنے ساتھی گو یوہوا کے ساتھ  مکسڈ ڈبل چیمپئن شپ میں بھی  کامیابی حا صل کی۔1986 میں ، نی شا لین نے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا۔ 1980 کی دہائی کے آخر میں ، نی شالین اپنے آبائی گھر  شنگھائی سے جرمنی چلی گئیں۔ بعد میں لکسمبرگ میں آباد ہوئیں  اور  لکسمبرگ کی نمائندگی  کرتے ہوئے بین الاقوامی مقابلوں  میں شرکت کرتی رہیں۔ 2000 میں ، 37 سالہ نی شالین نے  پہلی بار اولمپک کھیلوں میں شرکت کی اور  خواتین کے سنگل مقابلےکے کواٹر فائنل میں داخل ہوئیں۔ 

وہاں موجود ایک رپورٹر نے فوری طور پر ان کا انٹرویو کیا جو خاصا دلچسپ تھا۔ان کی نظر میں ،  جیت یا شکست عام بات ہے ، ان کے نزدیک  خوشی زندگی کی اصل دولت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں زندگی بھر چین ہی کی نمائندگی کرتی ہوں۔ چین میں ٹیبل ٹینس کا کھیل سکول کی سطح سے شروع ہو جاتا ہے لہذا یہاں مسابقتی ماحول بہت سخت ہے۔ یہاں ہر سال کئی عالمی پائے کے نئے کھلاڑی آتے ہیں جو دنیا میں چین کا نام روشن کرتے ہیں۔ محترمہ  نی شا لین کے حالیہ مقابلوں میں شرکت کی وجہ یہ تھی کہ لکسمبرگ کے مئیر نے انہیں دعوت نامہ بھیجا کہ آپ ہماری نمائندگی کرتے ہوئے ان مقابلوں میں حصہ لیں۔ نی شالین کو 1996 میں بھی اولمپکس کھیلنے کی دعوت دی گئی تھی تاہم اس وقت انہوں نے اپنی گھریلو مصروفیات کی وجہ سے معذرت کر لی تھی۔ ان کے نزدیک خاندان عورت کے نزدیک سب سے پہلے ہونا چاہیے۔ 1998 میں محترمہ نی عالمی نمبر 4 کھلاڑی تھیں۔ انہوں نے کہا میرا تعلق شنگھائی سے جو ہمیشہ میرا فخر ہے۔ اپنی جدوجہد  کی ترغیب کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، نی شیالین نے کہا: "کیونکہ ، لکسمبرگ میں نی شیالین چینیوں کی  نمائندگی کرتی ہیں! " جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اگلے اولمپکس میں شرکت کریں گی یا نہیں  تو ، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا : "کبھی نہ کہو کبھی نہیں!"  

.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -