مظلوم مدینہ ، امیر المومنین،سید ناعثمان غنی رضی اللہ عنہ

مظلوم مدینہ ، امیر المومنین،سید ناعثمان غنی رضی اللہ عنہ
مظلوم مدینہ ، امیر المومنین،سید ناعثمان غنی رضی اللہ عنہ

  

تاریخ اسلام بہت سی لازوال قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔حضرت عثمان غنیؓ قریش کی مشہور شاخ بنو امیّہ سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؓ  کےوالدکانام عفان تھا۔پانچویں پشت پر آپؓ کا سلسلہ نسب رسول اکرم ﷺ سےجاملتاہے۔ آپؓ کاذریعہ معاش تجارت تھا۔قریش کےدولت مندترین لوگوں میں شمار کیےجاتےاور اپنی سخاوت کی وجہ سے غنی کے لقب سے پکارے جاتے تھے۔

آپؓ کی عمر اس وقت چونتیس سال تھی جب اسلام کا ظہور ہوا،حضرت ابوبکر صدیقؓ سے آپؓ  کے گہرے مراسم تھے۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خصوصی کاوشوں نے انہیں اسلام کی طرف مائل کیا۔حضرت عثمان غنیؓ خود اپنے قبول اسلام کا واقعہ اس طرح بیان فرمایا کرتے تھے : ’’میں اپنی خالہ اروی بنت عبدالمطلب کےپاس اُن کی بیمار پرسی کے لیے گیا۔ ابھی میں ان کے پاس موجود ہی تھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے، ان دنوں حضورﷺ کی نبوت کا تذکرہ تھوڑا بہت ہوچکا تھا، میں آپﷺ کو غور سے دیکھنے لگا۔ آپ ﷺ نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: ’اے عثمان! کیا بات ہے ‘ میں نے کہا میں اس بات پر حیران ہوں کہ آپﷺ کا ہمارے ہاں بڑا مرتبہ ہے، اور پھر آپ ﷺ کے بارے میں ایسی باتیں کہی جارہی ہیں۔

اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا: ’’ لاالہ الااللہ ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ) اللہ گواہ ہے کہ میں یہ سن کرکانپ گیا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی:  اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے، تو یہ آسمان اور زمین کے مالک کی قسم یہ قابل یقین ہے، جس طرح تم بات کرتے ہو۔‘‘ (الذریات) پھر حضورﷺ کھڑے ہوئے اور باہر تشریف لے گئے، میں بھی آپﷺ کے پیچھے چل دیا اور آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر دست نبوتﷺ پر اسلام قبول کرلیا۔ (حیاۃ الصحابہؓ)

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے اور میں ان کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھی۔ اسی دورا ن حضرت ابوبکر صدیقؓ اجازت لے کر اندر تشریف لے آئے، پھر حضرت عمرؓ اجازت لے کر اندر تشریف لے آئے، پھر حضرت سعد بن مالکؓ اجازت لے کر اندر تشریف لے آئے۔ اس دوران رسول اللہ ﷺ گفت گُو میں مصروف تھے اور آپﷺ کی پنڈلیاں کھلی ہوئیں تھیں۔ اتنے میں حضرت عثمان غنیؓ اجازت لے کر اندر تشریف لائے۔

حضرت عثمان غنیؓ کے اندر تشریف لانے پر رسول اکرم ﷺ نے اپنی ٹانگوں پر کپڑا ڈال لیااور سیّدہ عائشہؓ سے فرمایا! ذرا پیچھے ہٹ کر بیٹھ جائیں۔ جب سب حضرات حضور ﷺ کی محفل سے اٹھ کر چلے گئے تو سیّدہ عائشہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیﷺ ! میرے والدؓ اور دوسرے صحابہؓ اندر آئے تو آپﷺ نے نہ پنڈلیوں پر کپڑا ڈالا اور نہ ہی مجھے پیچھے ہونے کا کہا اور جب حضرت عثمان غنیؓ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے پنڈلیوں پر کپڑا بھی ڈال لیا اور مجھے بھی پیچھے ہونے کا حکم ارشاد فرمایا، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا: ’’ کیا میں اس آدمی سے حیا نہ کروں؟ جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، فرشتے عثمانؓ سے ایسے حیا کرتے ہیں جیسے اللہ اور اللہ کے رسولﷺ سے۔ اگر وہ اندر آتے اور تم پاس بیٹھی ہوتی تو نہ وہ بات کرسکتے اور نہ واپس جانے تک سر اٹھا سکتے۔ (بہ حوالہ: حیاۃ الصحابہؓ)

پیکر شرم و حیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے جہاں اور بہت سے اعزازات تھے وہیں انہیں یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی دو صاحبزادیاں آپؓ کے نکاح میں آئیں۔ سب سے پہلے حضرت رقیہؓ کا نکاح حضرت عثمان غنیؓ سے ہوا۔ جب وہ انتقال فرما گئیں تو اللہ رب العزت کے حکم سے حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت اُم کلثومؓ کا نکاح بھی حضرت عثمانؓ  سے کردیا۔ چناںچہ جب ان کا بھی انتقال ہوگیا تو آپﷺ نے فرمایا، مفہوم : اگر میری اور کوئی بیٹی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی عثمانؓ سے کردیتا۔

چوںکہ حضور ﷺ کی دو نورِنظر یکے بعد دیگرے آپؓ کے نکاح میں آئیں۔ اسی لیے آپؓ  کو ذوالنورینؓ کے لقب سے نوازا گیا۔ تاریخ الخلفاء میں علا مہ جلال الدین سیوطیؓ  لکھتے ہیں: حضرت عثمانؓ  کے سوا دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں گزرا جس کے نکاح میں کسی نبیؑ کی دو بیٹیاں آئی ہوں۔

آپؓ  نے جس طرح داماد رسول ﷺ ہونے کا اعزاز دو مرتبہ پایا، اسی طرح ہجرت کا شرف بھی دو مرتبہ حاصل کیا۔ جن اصحابؓ نے مشرکین و کفار کے ظلم و جبر سے تنگ آکر ہجرت کی ان میں آپؓ اپنی زوجہ حضرت رقیہؓ کے ساتھ شریک تھے۔ اس موقع پر حضور ﷺ نے فرمایا:حضرت ابراہیمؑ  اور حضرت لوطؑ  کے بعد عثمانؓ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنے اہل بیت کے ہم راہ ہجرت کی۔ دوسری ہجرت آپؓ نے مدینہ طیبہ کی طرف کی۔ اس طرح آپؓ  ’ذوالنورین‘کے ساتھ ’ذوالہجرتین‘ بھی ہوئے۔

سیدنا عثمان غنیؓ  کے دور خلافت کے پہلے چھےسال انتہائی پُرامن گزرے۔مشرق و مغرب میں ہزاروں مربع میل عہد خلافت میں مملکت اسلامی کا حصہ بنا۔ البتہ آخری چھے سالوں میں نفاق سے لبریز تحریکیں زور پکڑنا شروع ہوگئیں۔ حضرت مرہ بن کعبؓ  روایت فرماتے ہیں،’میں نے رسول اللہ ﷺ کو فتنوں کا ذکر کرتے اور ان کا قریب ہونا بیان فرماتے سنا۔ پھر اُدھر سے ایک شخص منہ پر کپڑا ڈالے گزرا۔

(آپ ﷺ نے اشارہ کرکے)فرمایا: اس دن یہ ہدایت پر ہوگا، میں نے اٹھ کر ان کو دیکھا تو وہ عثمانؓ بن عفانؓ تھے۔ میں نے ان کا چہرہ آنحضرتﷺ کے سامنے کرکے عرض کیا کہ ’یہی ہیں؟‘فرمایا ’ہاں‘ یہی ہیں۔ (ترمذی)

آخر کار وہ وقت بھی آیا جب باغیوں نے اپنے ارادوں پر عمل کرتے ہوئے امام مظلومؓ  کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا۔ سب سے پہلے آپؓ کا مسجد میں خطبہ بند کیا گیا، پھر باجماعت نماز کی ادائی بھی جبراً بند کر دی گئی، مگر اتنے پر ہی بس نہیں، یہاں تک کہ آپؓ  کو گھر میں محصور کردیا گیا اور مدینہ کی گلیوں میں آوازیں بلند ہونے لگیں کہ عثمانؓ تک نہ تو کوئی شخص کھانا پہنچائے گا، اور نہ ہی پانی۔جب باغیوں نے حضرت عثمانؓ  پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تو حضرت علیؓ نے اپنے جگر گوشوں حضرت حسنؓ اورحضرت حسینؓ کو امیرالمومنین سیدنا عثمانؓ  کےدروازے پر پہرہ دینے کے لیے بھیجا اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ تم دونوں عثمانؓ کے دروازے پر پہرہ دو، اور کسی بھی باغی کو حجرہِ عثمانؓ تک مت پہنچنے دینا۔ چناں چہ دونوں شہزادے بیت عثمانؓ کی طرف چل پڑے ۔

امیر المومنین حضرت عثمانؓ  نے باغیوں کو متعدد بار سمجھانے کی کوشش کی۔ ایک دن دوران محاصرہ آپؓ اپنے گھر کی چھت پر تشریف لائے اور باغیوں کو مخاطب کرکے فرمانے لگے: ’’اے لوگو ! وہ وقت یاد کرو جب مسجد نبویﷺ کی زمین تنگ تھی اور رسول کریمﷺ نے فرمایا! کون ہے جو اللہ کے لیے اس زمین کو خرید کر مسجد کے لیے وقف کرے گا اور جنت کا وارث بنے گا۔ وہ کون تھا ؟ جس نے اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کی تعمیل کی تھی؟ سب نے بہ یک آواز ہوکر کہا۔ آپؓ نے تعمیل کی تھی۔

پھر فرمایا! میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ تم وہ وقت یاد کرو جب مدینہ میں بیر رومہ کے سوا میٹھے پانی کا کنواں نہ تھا، تمام مسلمان روزانہ قلت آب کی وجہ سے تکلیفیں اٹھاتے تھے۔ وہ کون تھا کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے کنویں کو خریدا اور تمام مسلمانوں پر وقف کر دیا؟سب نے بہ یک آواز کہا: آپؓ نے وقف فرمایا تھا۔حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ آج اسی کنویں کے پانی سے تم مجھے روک رہے ہو۔پھر فرمایا ! لشکر عُسرت کو ساز و سامان کس نے آراستہ کیا تھا ؟لوگوں نے کہا: آپؓ نے۔

پھر فرمایا کہ میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ تم میں سے کوئی ہے جو اللہ کے لیے حق کی تصدیق کرے اور یہ بتائے کہ جب ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ احد پہاڑ پر چڑھے تو وہ ہلنے لگا تھا، پھر آپؐ نے اس پہاڑ کو ٹھہرا دیا اور فرمایا: اے اُحد! ٹھہر جا! اس وقت تیری پیٹھ پر ایک نبیﷺ، ایک صدیقؓ، اور دو شہید کھڑے ہیں، اور میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔

سب نے بہ یک آواز کہا: آپؓ نے سچ فرمایا۔

پھر فرمایا: اے لوگو! خدا کے لیے مجھے بتاؤ کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے حدیبیہ کے مقام پر اپنا سفیر بنا کر قریش کے پاس بھیجا تو کیا واقعہ پیش آیا تھا ؟کیا یہ صحیح نہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کو میرا ہاتھ قرار دے کر میری طرف سے خود اپنی بیعت لی تھی؟لوگوں کے مجمع سے آوازیں آنے لگیں کہ آپؓ نے سچ فرمایا۔لیکن افسوس کہ بلوائیوں کے پس ماندہ دماغوں سے بدنیتی کا خمار چھٹ نہ سکا۔ اور انہوں نے چالیس روزہ پیاس سے نڈھال، پیکر صبر و حیا، امیرالمومنینِ سیدنا عثمان غنیؓ کو شہید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

سرکار دو عالم ﷺ حضرت عثمانؓ کے متعلق شہادت کی پیش گوئی بھی فرما چکے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت عثمانؓ نے بالکل بھی مزاحمت نہ کی۔ بلکہ خاموشی سے اللہ کے نبی ﷺ کی گئی وصیت کی تکمیل کا انتظار فرماتے رہے۔ اٹھارہ ذی الحجہ اور جمعہ کا دن تھا۔ آپؓ روزے کی حالت میں تھے۔ اسی صبح آپ ؓنے خواب میں دیکھا کہ حضور نبی کریم ﷺ تشریف لائے ہیں، آپﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی موجود ہیں۔ نبی کریم ﷺ حضرت عثمانؓ سے ارشاد فرماتے ہیں:عثمانؓ! جلدی آؤ ہم یہاں افطاری کے لیے تمہارے منتظر بیٹھے ہیں۔ آنکھ کھلی تو آپؓ نے اپنی اہلیہ سے فرمایا: ’میری شہادت کا وقت قریب آگیا ہے، باغی مجھے قتل کر ڈالیں گے‘۔

انہوں نے کہا! امیرالمومنینؓ ایسا نہیں ہو سکتا۔ ارشاد فرمایا ’ میں یہ خواب دیکھ چکا ہوں‘۔ پھر وہ لباس زیب تن کیا جو پہلے نہیں پہنا تھا۔ اپنے بیس غلام آزاد کیے اور اپنے گھر کا دروازہ باغیوں کے لیے کھول کر تلاوتِ قرآن میں مشغول ہوگئے۔ گویا اب شہادت کا انتظار تھا اور صرف انتظار ہی نہیں بلکہ شدید انتظار تھا۔ کیوں کہ شہادت کے رنگین پردہ و حجاب کے پیچھے محبوب سے ملاقات متعین تھی۔

آخر کار وہ گھڑی بھی آن پہنچی باغیوں نے مکان پر حملہ کردیا۔ چار باغی دیوار پھلانگ کر چھت پر چڑھ گئے۔ حضرت عثمانؓ نیچے کے مکان میں تن تنہا قرآن کی تلاوت میں مصروف تھے۔ اتنے میں ایک بلوائی نے حضرت ِعثمان غنیؓ کی ریش مبارک کو پکڑ کر زور سے کھینچا۔ ایک نے پیشانی مبارک پر لوہے کی سلاخ سے درد ناک ضرب لگائی کہ آپؓ پہلو کے بل گر پڑے اور زبان سے ’’بسم اللہ توکلت علی اللہ‘‘ نکلا۔ دوسرے نے دوسری ضرب لگائی جس سے خون کا فوارہ جاری ہوگیا۔ ایک سینے پر چڑھ بیٹھا اور جسم کے مختلف حصوں پر پے در پے نو زخم لگائے۔ ایک اور بے رحم نے تلوار کا وار کیا تو آپؓ کی اہلیہ حضرت نائلہؓ نے آگے بڑھ کر روکنا چاہا تو ہاتھ کی تین انگلیاں کٹ کر الگ ہوگئیں۔

اسی کش مکش کے دوران جمعے کے دن عصر کے وقت ’ذوالنورینؓ ‘ کی شمعِ حیات ہمیشہ کے لیے بجھتی چلی گئی ، اور آپؓ نبی کریم ﷺ کی بشارت کے مطابق شہادت کے منصب پر فائز ہوگئے۔

حضرت زبیر بن مطعمؓ نے آپؓ کی نماز پڑھائی اور کتاب اللہ کے سب سے بڑے خادم، سنت رسول اللہ ﷺ کے سب سے بڑے عاشق اور محسنِ اسلام کو جنت البقیع کے گوشے میں ہمیشہ کے لیے سلا دیا گیا۔

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -