شہیدانِ کربلا کی عظمت کو سلام 

 شہیدانِ کربلا کی عظمت کو سلام 
 شہیدانِ کربلا کی عظمت کو سلام 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 چشم فلک نے یہ دلخراش منظر کب دیکھا ہوگا۔ انسانی تاریخ میں ایسا ہولناک واقعہ کب ہوا ہوگا، خانوادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھ ماہ کے معصوم علی اصغر سے لیکر گھر کے بزرگ سیدنا امام حسینؓ تک، پردہ دار بیبیوں سے لے کر کنیزوں اور معصوم بچیوں تک اہل ِ کوفہ کی دعوت پر بجانب کوفہ رواں دواں ہیں۔ نہ کوئی لڑائی کا منصوبہ، نہ کسی جنگ کی پیش بندی کہ جو لوگ کسی معرکے کے لئے آتے ہیں وہ چھ ماہ کے معصوموں اور پردہ دار بیبیوں کو ساتھ نہیں لایا کرتے، مگر اہل کوفہ کے دل اور دماغ یزیدیت کی طاقت کے سامنے بدل چکے ہیں۔ منافقت اور عہد شکنی کی ایک افسوسناک تاریخ مرتب ہونے جارہی ہے۔ قافلہ حسین ؓ کو کر بلا کے بے آب و گیاہ دشت میں رکنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ سیدنا امام حسینؓ کے سامنے یزید کی بیعت کرنے کی شرط رکھی جاتی ہے۔ آپ متبادل کے طور پر اپنی شرائط پیش کرتے ہیں، مگر ابن ِ زیاد جو پہلے یزید کے ایلچی کو انکار کر چکا تھا کہ وہ سیدنا امام حسینؓ کو نہیں روکے گا پھر دنیاوی خواہشات کے تابع یہ کہہ کر امام حسینؓ  کو روکنے کی حامی بھرتا ہے کہ دنیا نقد ہے اور آخرت ادھار، مگر وہ ایسا گھاٹے کا سودا کرتا ہے کہ قیامت تک اس پر لعنت بھیجی جاتی رہے گی اور رہی کوفہ کی گورنری تو وہ بھی زیادہ دیر نہ دیکھ سکا۔             


سیدنا امام حسین ؓ اگر مصلحت سے کام لیتے تو خود کو اور اپنے اہل و عیال اور جان نثار ساتھیوں کو بچا کر کربلا سے نکل سکتے تھے، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نواسہ، مولا علی شیر خدا کا فرزند اور بی بی فاطمہؓ  کا لال اپنے نانا کا دین بچانے کے مشن پر تھا۔ امام حسینؓ نے اپنی جان تو قربان کر دی، اپنے بیٹوں اور اپنے عزیزوں کی قربانی تو دے دی، مگر یزید جیسے فاسق و فاجر حکمران کی بیعت قبول نہ کی۔ امام حسینؓ ایک چٹان کی طرح ڈٹے رہے اور یزید کا لشکر جرار بھی ان کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہ لا سکا۔ بازوئے اسلام پر حملہ ہوا تو امام حسین نے اپنے جانثار اور وفا کے پیکر بھائی عباس کے بازو کٹوا لئے، قلب اسلام کو چھیدنے کے لئے یزیدیت کی برچھی کے سامنے اپنا پچیس سال کا خوبرو بیٹا ہمشکل پیغمبر علی اکبر کا سینہ پیش کر دیا، جب کوئی تیر اساس اسلام کو زک پہنچانے کے لئے آیا تو اپنے چھ ماہ کے معصوم علی اصغر کا نازک گلا پیش کر دیا اور جب نانا کے دین کی طرف آخری بھرپور وار آیا تو خود آگے بڑھ کر باوقار انداز میں اپنی شہادت پیش کر دی۔


سانحہ کربلا جہاں خانوادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے مثل اور لازوال شہادتوں سے گلستان اسلام کو لالہ زار بنا گیا وہیں رہتی دنیا تک یزید اور اس کے حواریوں کو بے آبرو اور بے نقاب بھی کرگیا۔ آج چودہ سو سال گزرنے کے باوجود نام حسین اور ذکر حسین پوری آب و تاب سے زندہ و تابندہ ہے، مگر یزید کا ایک بھی نام لیوا نہیں۔ کیا یہ معجزہ نہیں کہ ہر مسلمان گھرانے میں حسین اور ان کے بیٹوں اور دیگر شہدا ء کربلا کے نام لوگ اپنے بچوں کے رکھنے پر فخر و انبساط محسوس کرتے ہیں، مگر کسی ایک نے بھی یزید مردود کا نام رکھنا گوارا نہیں کیا۔ اس لئے کہ حسین ابن علی ان محاسن خصائل،رضوان و فضیلت، بلند کرداری، دین کی پاسبانی، حریت فکر، صبر و رضا،علم و حلم، قربانی اور جانثاری کا وہ پیکر عظیم ہے کہ تاریخ اس طرح کا کردار دوبارہ پیدا کرنے سے عاری رہی۔اس کے برعکس یزید ایک استعارہ ہے مکر و فریب کا، ظلم کا، بر بریت کا، جہل کا، خود غرضی کا، حرص و طمع کا، کمینگی اور رذیل پن کا، تکبر و نخوت اور فسق و فجور کا۔ آج بھی حق کے لئے کھڑا ہونا، اور حق کاساتھ دینا حسینؓ  کی سنت ہے اور یہ تا قیامت جاری رہے گی۔ سیدنا امام حسینؓ کے چاہنے والے اور ماننے والے ان کی یاد میں اشک بہاتے رہیں گے، شہیدانِ کربلا کا نام تاریخ کے اوراق میں درخشاں اور تابندہ رہے گا۔واقعہ کربلا نے نے یہ گتھی بھی سلجھا دی کہ جب توفیق الٰہی دستگیری فرماتی ہے تو نور حق نظر آتا ہے، دِل میں شہادت کا شوق امڈتا ہے، حق کے لئے کھڑا ہونے اور جان قربان کرنے کا راستہ آسان ہو جاتا ہے اور پھر جزب الٰہی راہ عشق و محبت کے سرفروشوں کو اپنے حریم ناز میں داخل فرما دیتا ہے۔


حسینیت اور یزیدیت میں فرق جانچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو قوت عقل و فکر، قوت استدلال و استنباط، قوت خیال، قوت تمیز وقوت فیصلہ سب کچھ عطا کیا ہے۔ آپ حق کی راہ کے مسافر ہیں یا یزیدیت کے پیروکار،فیصلہ ہر انسان نے خود کرنا ہے، حسینیت امر ہے، سرخرو ہے، کامیاب و کامران ہے، ابد تک اسکا نام زندہ و تابندہ ہے، حسینیت ایک نظریہ کا نام ہے، جبکہ یزیدیت فسطائیت اور جبر کانام ہے۔ یزیدیت ناکام و نامراد ہے۔ 
زندہ حق از قوت شبیری است 
باطل آخر داغ حسرت میری است  علامہ اقبالؒ
(حق قوت شبیری سے زندہ ہے، باطل کی قسمت میں حسرت و یاس کی موت کا داغ ہے۔)

مزید :

رائے -کالم -