پروپیگنڈ ا

   پروپیگنڈ ا
   پروپیگنڈ ا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


  ”پروپیگنڈا“ انگریزی زبان کا لفظ ہے اور عام بول چال میں اس لفظ کے معنی دروغ گئی، ترغیب، تحریص یا غلط افواہ پھیلانا ہے،یہ ہمیشہ سے حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کا بنیادی ہتھیار رہا ہے، ابتداً اس لفظ سے مرادپادریوں کی وہ جماعت تھی جنہیں تبلیغی ضروریات کے تحت دور دراز ممالک میں جا کرلوگوں کو ”کلیسا“کے اصولوں سے روشناس کرانا ہوتا تھا۔تاریخ انسانی میں پروپیگنڈے کا سب سے بڑے پیمانے پر بے دریغ استعمال جرمنی کی نازی پارٹی کے سربراہ ایڈولف ہٹلر نے کیا انہوں نے 1926ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب”مین کیمپف“میں سوشلزم کے تصورات کو پھیلانے کے لئے پروپیگنڈے کے استعمال کی وکالت کی جس میں نسلی امتیاز اور بالشویکی تحریک کی مخالفت شامل ہے،بعد ازاں 1933ء میں نازیوں کے بر سر اقتدار آنے کے بعد ہٹلر نے عوامی روشن خیالی اور پراپیگنڈے کی وزارت قائم کی جس کا سربراہ جوزف گوئبلز تھا۔وزارت کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ آرٹ، موسیقی، تھیٹر، فلموں، کتابوں، ریڈیو، تعلیمی مواد اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے نازی پیغام کو کامیابی کے ساتھ فروغ دیا جائے۔ہٹلر نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا کہ ”پروپیگنڈا تمام لوگوں پر ایک نظریئے کو مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے، پہلے پہل یہ عام لوگوں پر ایک خیال کی حیثیت سے اثر انداز ہوتا ہے اور پھر اس کی فتح کے لئے اُنہیں تیار کرتا ہے“۔


ابلاغیات کے تیز ترین ذرائع اور جدت نے پروپیگنڈا کو انتہائی آسان بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت میں بھی بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ آرٹ، موسیقی، تھیٹر، فلموں، کتابوں، ریڈیو، تعلیمی مواد، ٹی وی اور اخبارات و جرائد جیسے روایتی ذرائع ابلاغ کی جگہ فیس بُک، یو ٹیوب، ٹویٹر اور انسٹا گرام نے لے لی ہے، یہ اتنے زبرداست ”پروپیگنڈا ٹُولز“ ہیں جو رائے عامہ خصوصاً نوجوانوں کی ذہن سازی میں موثر ترین ہتھیار کے طور پر کام کررہے ہیں۔پاکستان تحریک انصا ف ملک کے اندر وہ پہلی جماعت ہے جس نے ان پروپیگنڈا ٹولز کواس قدر چالاکی اور مہارت کے ساتھ استعمال کیا ہے کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ اس سے اثر انداز ہوئے، 2018 ء کے انتخابات سے قبل روایتی سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین جب حلقوں اور اپنی اپنی فیلڈز تک محدود تھے تب پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کر کے نوجوانوں میں اپنے لئے جگہ بنائی،اس وقت سینئر سیاستدانوں نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا مذاق اُڑایا کہ اگر فیس بک پر الیکشن ہوں تو عمران خان جیت جائیں گے بصورت دیگر ان کا کوئی مستقبل نہیں،تاہم آج اسی پروپیگنڈے کا نتیجہ ہے کہ لوگ انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھ بیٹھے ہیں، 2018 ء کے انتخابات میں اگرچہ فوج کی سپورٹ کے بغیر عمران خان کا بر سراقتدار آنا ممکن نہیں تھا تاہم اس کے باوجود ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بطور پروپیگنڈا ٹولز استعمال کر کے انہوں نے اپنی مقبولیت میں اضافہ کیا کیونکہ فوج کے لئے کسی غیر مقبول لیڈر کو اقتدار کی مسند تک پہنچانا نسبتاًمشکل ہو جاتا ہے لہٰذا اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کے باوجود سیاستدانوں کو کسی حد تک اپنی عوامی مقبولیت بھی قائم رکھنا پڑتی ہے۔


فیس بک، یو ٹیوب اور دیگر کامیاب وارداتوں کے بعد اب عمران خان ”ٹک ٹاکر“ بن گئے ہیں  جنہوں نے دو ہفتے قبل ٹک ٹاک پر دھواں دار انٹری دی ہے، ظاہر ہے ان کے پیچھے ایسی نادیدہ قوتیں ہیں جو مطلوبہ اہداف کو پوری ریسرچ کے ساتھ حاصل کرتی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت نوجوانوں کی مجموعی تعداد کتنی ہے، ان میں اکثریت بے روزگار ہے، ان کے کیا کیا رجحانات ہیں، وہ کیسے سوچتے اور کیا کرنا چاہتے ہیں، ایسے نوجوان موجودہ کرپٹ نظام کا ذمہ دار کس کو ٹھہراتے ہیں اور ناکامیوں اور محرومیوں کا سارا مدعا کس پر ڈالتے ہیں، ان سب کو مد نظر رکھ کر ٹک ٹاک پر عمران خان کی ویڈیوز اپ لوڈ کی جا رہی ہیں جن میں ”اسلامک ٹچ“ سب سے نمایاں ہے۔ان ویڈیوز میں عاجزی، انکساری، ریاست مدینہ، راہ حق، صراط مستقیم، مظلوم کا ساتھ دینا، ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا، آسان زندگی چھوڑ کر مشکل راستہ اپنانا وغیر وغیرہ کا میسج دیا جاتا ہے۔مثلاً ایک جگہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ میں جب بھی کوئی بڑا ٹورنامنٹ جیت کر یا کوئی ٹرافی لے کر گھر لوٹتا تھا تو سیدھا اپنی ماں کے پاس جاتا جو مجھے پاس بٹھا کر ایک ہی سبق دیتیں کہ بیٹا اپنے اندر کبھی تکبر پیدا نہ کرنا،اس کے ساتھ ہی عمران خان کو چائے کے کپ میں روٹی کا نوالہ ڈبو کر کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے حالانکہ عمران خان اپنی شخصیت کے اعتبار سے اس بالکل مختلف ہیں،رسمی رکھ رکھاؤ، میل ملاقات میں گرم جوشی، وسعت قلبی، خود پر تنقید برداشت کرنا یا پھر افہام و تفہیم کا حوصلہ ان میں نہیں ہے۔ چھپر ہوٹل سے روٹی والی بات سے بھٹو صاحب کا ایک واقعہ بہت مشہور ہے جب وہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ بذریعہ سڑک ملتان جا رہے تھے تو ساہیوال کے قریب ایک بڑھیا کا ڈھابہ تھا جو سڑک کنارے ساگ اور مکئی کی روٹی وغیرہ بیچ رہی تھی، اسے دیکھ کر بھٹو صاحب کی بھوک چمک گئی اور وزیراعظم کا سارا قافلہ اس بڑھیا کے ہوٹل پر رک گیا جہاں بھٹو صاحب نے تناول فرمایا اور عام لوگوں سے ملاقات کی جسے اگلے روز کے اخبارات میں نمایاں تصویری کوریج ملی۔تاہم اس واقعے کے بارے میں چند برس بعد کسی واقف حال نے لکھا کہ وہ ڈھابہ خفیہ ایجنسی کا  پلانٹ کیا ہوا تھا، وہ بڑھیا آئی ایس آئی کی ایجنٹ تھی جبکہ بھٹو صاحب نے وہاں جو کھانا کھایا وہ وزیر اعظم کے پروٹوکول کے عین مطابق لیبارٹری سے ٹیسٹ شدہ تھا اور یہ ساری ”ایکسر سائز“ صرف اس لئے کی گئی کہ عام لوگوں میں یہ تاثر دیا جا سکے کہ بھٹو ایک عوامی لیڈر ہیں،اسی نظریئے کے تحت عمران خان نے ”ٹک ٹاکر“ بننے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں وہ آئے روز اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کر رہے ہیں اور ان کے چاہنے والے کمنٹس کی شکل میں اش  اش کرتے ہوئے اپنے لیڈر پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔


امریکہ کی مشہور لابنگ فرمز کا مقولہ ہے کہ ”اگر تم اپنے مخالف کو قائل نہیں کر سکتے تو کم از کم اسے الجھا دو تاکہ اس کی یکسوئی برقرار نہ رہے“۔یہی وہ لابنگ فرمیں ہیں جو معاشرے اور اس کے نادیدہ میکنزم کو کنٹرول کرتی ہیں، جس کے ذریعے لوگوں کی پسند نہ پسند تشکیل دی جاتی ہے اور ان کے ذہنوں کو تبدیل اور خیالوں کو متاثر کیا جاتا ہے۔پاکستان جیسے پسماندہ اور ترقی پذیر معاشروں کے بسنے والے یہ سمجھتے ہیں ہم اپنے لیڈروں کو چنتے ہیں اور اپنی مرضی کے فیصلے کرتے ہیں تاہم درحقیقت ایسا نہیں ہے، ہمارے آس پاس ”ٹک ٹاک“ جیسے بے شمار پروپیگنڈا ٹولز موجود ہیں جن کے ذریعے نادیدہ طاقتیں ہماری سوچوں اور خیالات کو تبدیل کرنے کی صلاحیت سکتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -