اپنے والد کا چالان کرنیوالی کانسٹیبل سمیر ا صدیق جب گھر پہنچی تو والدہ نے کیا سلوک کیا؟ دلچسپ خبر

اپنے والد کا چالان کرنیوالی کانسٹیبل سمیر ا صدیق جب گھر پہنچی تو والدہ نے ...
اپنے والد کا چالان کرنیوالی کانسٹیبل سمیر ا صدیق جب گھر پہنچی تو والدہ نے کیا سلوک کیا؟ دلچسپ خبر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

قصور (ویب ڈیسک)  چونیاں میں پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس میں تعینات خاتون کانسٹیبل سمیرا صدیق  نے دورانِ ڈیوٹی ہیلمٹ نہ پہننے پر اپنے والد کا چالان کر دیا۔سمیرا نے بتایا کہ جس روز والد صاحب کا چالان کیا اور ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد شام کو وہ گھر واپس آئیں تو ان کی والدہ نے ناراضگی کا اظہار کیا لیکن والد صاحب نے ان کا ماتھا چوما۔ ’مگر میں نے اور ابو نے انھیں سمجھایا تو بعد میں اماں جان بھی خوش تھیں کہ آج ہماری بیٹی نے اچھا کام کیا ہے۔‘

بی بی سی کے مطابق سمیرا صدیق کاکہناتھاکہ جب پولیس میں بھرتی ہوئی تو یہی عزم تھا کہ بے شک میں کانسٹیبل ہوں لیکن کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرنی اور سب سے انصاف کرنا ہے ۔ مگر یہ وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میرے اس انصاف کا شکار میرے ہاتھوں اپنے والد صاحب ہی ہو جائیں گے، والد کھیتی باڑی کرتے ہیں۔اپنے والد کا چالان کرنے سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پنجاب میں پولیس کی طرف سے صوبے کے تمام اضلاع میں موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ کی پابندی کے حوالے سے خصوصی مہم ان دنوں چل رہی ہے اور ہیلمٹ نہ پہننے والوں کے چالان بڑی تعداد میں کیے جا رہے ہیں، ہم تین اہلکار معمول کے مطابق قصور روڈ پر ناکہ لگائے کھڑے تھے اور ہیلمٹ نہ پہننے والوں کو روک کر ان کے چالان کر رہے تھے، ناکے پر ایک موٹر سائیکل روکی گئی جس پر اتفاق سے میرے والد صاحب ہی سوار تھے۔‘

سمیرا نے کہا کہ ’میں نے انہیں سلام کیا اور کہا کہ آپ کو ہیلمٹ پہننا چاہیے تھا، یہ آپ کی زندگی کی حفاظت کےلیے ضروری ہے۔ میں نے اپنی ساتھی اہلکار کو بتایا کہ یہ میرے والد صاحب ہیں تو اس نے بھی انھیں سلام کیا لیکن جب میں نے موقع پر موجود اے ایس آئی کو کہا کہ اُن کا بھی چالان کریں کیونکہ قانون سب کےلیے برابر ہوتا ہے تو دونوں ساتھی اہلکار حیران رہ گئے۔ پھر میرے دوبارہ کہنے پر اے ایس آئی نے دو سو روپے کی چالان رسید بنا کر میرے والد صاحب کے حوالے کر دی ۔ 
سمیرا صدیق نے کہا کہ جب ہم سڑک پر ناکہ لگا کر کھڑے ہوتے ہیں تو اس وقت پولیس کی وردی کی عزت کا سوال ہوتا ہے اور ہماری ذاتی شخصیت پیچھے رہ جاتی ہے،  علاقے کے لوگ آپ سے توقع کرتے ہیں کہ آپ ان سے نرمی برتیں گے۔ ’مگر اب سب لوگوں کو پتہ چل گیا ہے کہ اس لڑکی کے ہوتے ہوئے کوئی غلط کام نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس نے اپنے باپ کا چالان کر دیا ہے، یہ کسی کو نہیں معاف کرنے والی۔‘

سمیرا کا کہنا تھا کہ ’بڑی گاڑیوں کا چالان کریں تو وہ بُرا منا جاتے ہیں لیکن انھیں کسی کی پرواہ نہیں، ہم اپنے محکمے کو جوابدہ ہیں، اگر کوئی غیر قانونی کام کرے گا تو اسے سزا ہونی چاہیے ، یہ نہیں کہ موٹر سائیکل والوں یا چھوٹی گاڑیوں کو روکیں اور بڑی گاڑیوں والے گزر جائیں۔‘

سمیرا کے والد کہتے ہیں کہ ’میری بیٹی نے چند روز قبل ڈیوٹی پر جانے سے پہلے مجھ سے کہا تھا کہ ابو جی ہیلمٹ نہ پہننے والوں کے خلاف خصوصی مہم چل رہی ہے ، آپ نے ہیلمٹ پہن کر گھر سے نکلنا ہے، حقیقت یہی ہے کہ میں نے اس کی بات کو نظر انداز کر دیا تھا ، لیکن جب ناکے پر میری بیٹی نے ہی مجھے روکا تو مجھے اس وقت اس کی وہ بات یاد آ گئی، لیکن اب کیا ہو سکتا تھا ، اس نے کہا کہ ابو جی آپ کا چالان ہو گا ، میں نے کہا کہ بسم اللہ کرو بیٹی۔‘محمد صدیق نے کہا کہ ’اگر وہ مجھے چھوڑ دیتی تو شاید اتنی خوشی نہ ہوتی، جتنی چالان بھگت کر ہوئی ہے۔ بات دو سو روپے کی نہیں ، بات اصول کی ہے۔‘