افغانستان.... امریکہ کے بعد؟

افغانستان.... امریکہ کے بعد؟

  

وسطی ایشیا کی ریاستیں، افغانستان سے ایساف کی فوجیں جانے کے بعد حالات کی خرابی کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نظر آتی ہیں۔ اگر حالات کا جائزہ لیا جائے تو لگتا ہے کہ پاکستان کے علاوہ افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک نہ صرف پریشان ہیں، بلکہ انہوں نے تیاری کر لی ہے کہ اگر ایساف کی فوجیں جانے کے بعد افغانستان کے حالات مزید خراب ہوئے تو وہ ان حالات میں افغانستان کو کیسے دور رکھ سکتے ہیں؟ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کا خیال ہے کہ افغانستان جو کہ پہلے ہی خطرناک ملک ہے، پوری دنیا کے لئے انتہائی خطرناک ہو جائے گا، کیونکہ افغانستان اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ڈرگ پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے اور صرف اس سال اس نے5800 ٹن افیون پیدا کی ہے، جو پچھلے سال سے 21 فیصد زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ حالات مکمل طور پر قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔ اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ اگر ایساف کی فوجوں کی موجودگی میں اس قدر ڈرگ پیدا کر رہا ہے تو ان فوجوں کے جانے کے بعد حالات کیا ہوں گے؟

افغانستان کی معیشت70 فیصد بیرونی گرانٹ پر چل رہی ہے، جبکہ افغان نیشنل آرمی اور افغان پولیس کی 90 فیصد تنخواہیں اسی گرانٹ سے پوری ہوتی ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ افغان آرمی اور فوج کی تعداد3 لاکھ 50 ہزار افراد تک لے کر جانے کے لئے 4 بلین امریکی ڈالر فراہم کریں گے، جس میں سے2.3 بلین ڈالر جاپان، پاکستان، گلف کے ممالک فراہم کریں گے، جبکہ نٹیو اور ایساف ممالک صرف 1.3 بلین فراہم کریں گے۔ وسطی ایشیا کی ریاستوں کا خیال ہے کہ یہ سارے وعدے کبھی وفا نہیں ہوں گے اور ایساف کے جانے کے بعد اگر گرانٹ میں دیر ہوئی تو افغانستان کو اپنی فوج اور پولیس کی تعداد کم کرنا پڑے گی، جس سے حالات اور خراب ہو جائیں گے۔ امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی نئی پالیسی جو کہ نیو سلک روڈ کے نام سے جانی جاتی ہے، افغانستان کی معیشت بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی، مگر ایشیا کی ریاستیں یہ بات قطعی طور پر ماننے کو تیار نہیں، امریکہ کا نیا پلان جو نیو سلک روڈ کے نام سے جانا جاتا ہے، کبھی کامیاب ہوگا یا نہیں۔

اس پلان کے مطابق امریکہ کا خیال ہے کہ جنوبی ایشیا کی تمام تجارت افغانستان کے راستے یورپ تک جائے گی، جس سے افغانستان کی ترقی ہوگی اور اس کے معاشی حالات بہتر ہو جائیں گے، جس سے افغانستان اپنی فوج اور سیکیورٹی کا خرچہ نکالنے کے لئے معاشی طور پر مضبوط ہو جائے گا۔ امریکہ کی نئی سڑک یا یہ نیا تجارتی راستہ بھارت سے ہوتا ہوا پاکستان آتا ہے اور پاکستان سے ہوتا ہوا افغانستان جائے گا، جہاں سے یہ راستہ ترکمانستان جائے گا اور وہاں سے آذر بائی جان اور بعد میں مشرقی یورپ سے ہوتا ہوا یورپ پہنچے گا۔ اس راستے میں سب سے اہم رکاوٹ یہ ہے کہ امریکہ نے ایران کو اس راستے سے باہر رکھا۔ اسی وجہ سے یہ راستہ ترکمانستان سے ایران آنے کی بجائے اور یہاں سے ترکی جانے کی بجائے ترکمانستان سے بحیرہ کیسپئن کو عبور کرتا ہوا آذر بائی جان جائے گا جو کہ انتہائی مہنگا راستہ ہے۔ امریکہ کایہ خواب پورا ہوتا نظر نہیں آتا، کیونکہ جنوبی ایشیا کی ریاستیں اس راستے کو کسی بھی صورت میں تجارت کے لئے استعمال کرنے کو تیار نہیں اور ان کا یہ بھی خیال ہے کہ افغانستان کے حالات کبھی بھی درست نہیں ہوں گے اور تجارت کے لئے وہ یہ خطرہ مول لینے کو تیار بھی نہیں ہو سکتے۔

چین نے بھی ایک نیا راستہ تیار کر لیا ہے، اس کا نام بھی نیو سلک روڈ رکھا ہے،بلکہ اس پر تجارت بھی شروع کر لی ہے اور اس راستے پر دنیا کے دو ایسے ممالک، جن کے بارے میں خیال ہے کہ ان کے حالات کبھی درست نہیں ہوں گے۔ اس راستے سے دور رکھے گا، جس کا نام ہے افغانستان اور پاکستان۔ یہ راستہ ویتنام سے چائنہ سے ہوتا ہوا تاجکستان اور کرغستان کے قریب سے گزرتا ہوا پولینڈ اور پولینڈ سے یورپ پہنچتا ہے۔ اس راستے تجارت کرنے سے چین کا سامان دس روز میں یورپ پہنچ جائے گا اور چین کو نہ تو پاکستان کے گوادر پورٹ کی ضرورت رہے گی اور نہ افغانستان کے حالات بہتر ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ انہی حالات کی وجہ سے خیال کیا جاتا ہے کہ افغانستان کو نہ تو دنیا کی تجارت میں اس کا حصہ ملے گا اور نہ ہی پیسہ اور نہ ہی اس کی معیشت بہتر ہوگی، جس کی وجہ سے افغانستان کا انحصار ڈرگ پر اور زیادہ بڑھ جائے گا۔ ان حالات کے مدنظر تاجکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنا بارڈر مکمل طور پر سیل کر لیا ہے اور روسی بٹالین502 تاجکستان کے بارڈر کی حفاظت کرے گی۔

اسی طرح ازبکستان نے اپنے کمانڈر کو افغانستان کے بارڈر پر بھیج دیا ہے اور ایران نے سپیشل گارڈ اپنے بارڈر پر لگا دئیے ہیں۔ ان حالات میں صرف پاکستان ہی ایسا ملک نظر آتا ہے جو 2014ءمیں پیدا ہونے والے حالات سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کس آسانی سے افغان طالبان نے بنوں جیل سے اپنے قیدی رہا کرائے اور گھنٹوں میں اُنہیں جلال آباد پہنچا دیا۔ یہ بات بھی درست ہے کہ پاکستان میں اپنے افغان بھائیوں کے لئے انتہائی زیادہ محبت پائی جاتی ہے اور یہ محبت پاکستانی سرحدوں سے زیادہ مضبوط اور اہم ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر افغانستان کے حالات مزید خراب ہوئے تو پاکستان ہی وہ واحد ملک ہوگا، جس میں افغان داخل ہو سکیں گے۔ اسلحہ کے ساتھ یا ڈرگ کے ساتھ یا خاندان کے ساتھ۔  ٭

مزید :

کالم -