ایک اور جنگ

ایک اور جنگ
ایک اور جنگ
کیپشن: dr amjed

  

کیا امریکا ایک اور جنگ کی تیاری کررہا ہے۔کشت وخون،آگ،راکھ اور دھواں۔

بہت سے لوگ، جن میں سرِ فہرست خود امریکی ہیں، ان خدشات کا اظہار کررہے ہیں کہ امریکا عراق میں ایک اور جنگ پہ آمادہ ہورہا ہے۔ کشت و خون، آگ، راکھ اوردھواں ....ابھی ہماری ذہنوں میں 2003ءکی اس جنگ کے نقوش تازہ ہیں جو عراق میں لڑی گئی اور جس میں امریکا نے بہت کچھ جھونک دیا۔ رعب، دبدبہ، جاہ حشمت اور پیسہ۔ ہربڑی جنگ کی طرح اس جنگ میں بھی نقصان صرف انسانیت کا ہوا۔ کم از کم ساڑھے چار ہزار امریکی اورپانچ لاکھ سے زیادہ مقامی باشندے لقمہ اجل بن گئے۔ زخمیوں کی تعداد کئی گنا ہوگی۔یتیم بچے اور بیوائیں۔مال اور کاروبار کے نقصان کا تو کوئی شمار ہی نہیں اور پھر اس جنگ کے نتیجہ میں جس دکھ اور کرب نے جنم لیا اس کی کسک بیسیوں برس قائم رہے گی۔ ہارورڈ یونی ورسٹی کی ایک پروفیسر Linda Bilmes کا کہنا ہے کہ اس جنگ پر امریکا کو چارکھرب ڈالر خرچ کرنا پڑے۔ چار کھرب امریکی ڈالر، چارسو کھرب پاکستانی روپے بنتے ہیں اور پاکستان کا ایک سال کا بجٹ صرف چار کھرب ہے۔ یہ معمولی رقم نہیں اور نہ ہی یہ رقم صرف امریکا بہادر کی ہے۔ آسمانوں اور زمینوں کے بیچ میں جو کچھ ہے خدا کا ہے اور خدا کے لئے ہے۔ جو شخص خدا پہ یقین رکھتا ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ رقم محض چند لوگوں کی ملکیت ہے۔

پروفیسرLinda کا کہنا ہے کہ ہر امریکی شہری پینتیس ہزار ڈالر بطورٹیکس ادا کرے تو چار کھرب ڈالر کی یہ رقم حاصل ہوتی ہے۔اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس رقم سے بہت سے کام ہو سکتے ہیں۔ ایسے کام جن کی انسایت کو ضرورت ہے۔ یعنی کرئہ ارض کا ہر بچہ سکول جاسکتا ہے۔ دنیا بھر میں ایڈز کے شکار ہر شخص کا علاج ہوسکتا ہے۔ ہر نابینا مردوزن کی بینائی واپس لوٹ سکتی ہے۔ تمام بے گھروں کو چھت میسر آسکتی ہے۔ اس کے باوجود امریکا ایک اور جنگ کی تیاری میں مگن نظر آتا ہے۔ کشت و خون،آگ اور دھواں۔ عراق میں امریکاکے ایک سابق سفیر کا اصرار ہے کہ امریکا کے بحری اور ہوائی جہازوں کو فور ی طور پر میدان ِ جنگ میںپہنچ جانا چاہیے اور پھر وہ بدنام ِ زمانہ ڈِک چینی جو کبھی امریکا کا نائب صدر تھااور عراق کے خلاف جنگ میں پیش پیش تھا جس نے نیوکلیر ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا ئی۔ وہ ایک بار پھر ایک اور جنگ کی آواز بلند کررہا ہے۔امریکا کی وار انڈسٹری کس طرح لوگوں کو خرید لیتی ہے اور پھر وہ عمر بھر کس طرح اپنے ضمیر کو سلائے رکھتے ہیں۔اس کی اس سے نادر مثال اور کیا ہوگی۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کبھی کبھی جنگ ناگزیز ہوجاتی ہے ۔ ناسور سے نبٹنے کے لئے نشتر اُٹھانا پڑتا ہے، لیکن یہ کیسا نشتر ہے جو واپس نہیںہوتا۔جاپان، ویت نام، کوریا، لاطینی امریکا، وسطِ ایشیا، مشرق وسطیٰ، افغانستان، پاکستان ....نہ جانے کہاں کہاں اس نشتر کی نوک نے لہو بہایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ مذہب کی آڑ میں خون بہانے والوں کا بھی صفایا ہونا چاہیے۔ یہودیت، عیسائیت، اسلام ۔ دنیا کا کوئی مذہب خون بہانے کی اجازت نہیں دیتا۔ امن، سلامتی، ایثار اور قربانی، مذہب کے خمیر میں ہیں۔ جو لوگ ان تصورات کا انکار کرتے ہیں وہ مذہب کی بنیادی تعلیمات سے انکار کرتے ہیں۔ تشدد کے ان پیروکاروں سے ضرور نبٹنا چاہیے ،لیکن کچھ اور مقاصد کے حصول کے لئے ان وجوہات کو آڑ بنا کر دنیا کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنابھی ظلم ہے۔اس جہانِ رنگ و بو میں ہر روز کوئی بچہ جنم لیتا ہے، کوئی پھول کھلتا ہے، کوئی کونپل مسکراتی ہے۔ یہ سب اس امر کا اعلان ہیں کہ خدا دنیا سے مایوس نہیں۔اگر خدا مایوس نہیں تو ہم کیوں مایوس ہیں۔ ہم دنیا کو آگ کے سمندر میں کیوں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ بچے، پھول، کونپلیں....یہ سب قدرت کا انعام ہی تو ہیں۔ان کی حفاظت کیا ہمارا فرض نہیں۔

چارکھرب ڈالر اگر زخموں کے مرہم کے طور پر استعمال ہوں تو شاید یہ دنیا اور بھلی ہو جائے۔ وہ تشدد جنم ہی نہ لے جسے دبانے کے لئے آج ایک بار پھر امریکا عراق کا رخ کرنا چاہتا ہے۔ وقت بہت سنگ دل ہے ۔ اس کی جھولی میں کئی طرح کے تیر ہیں۔ سنا ہے اس نئی جنگ میں ایران امریکا سے تعاون کرے گا۔ پہلی جنگ میں سعودی عرب اتحادی تھا اور اب ایران....سیاست کے سینے میں واقعی دل نہیں ہوتا۔

مزید :

کالم -