قومی اتحاد کے تقاضے

قومی اتحاد کے تقاضے
قومی اتحاد کے تقاضے

  

خطے اور بین الاقوامی حالات اس قسم کے ہیں کہ قومی اتحاد و یگانگت کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھارت کی آنکھوں میں میں بُری طرح کھٹک رہا ہے۔ اس طرح پاکستان ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرلے گا۔ اس خیال سے ہی انڈیا بلبلا اُٹھا ہے۔ اقتصادی راہداری کے منصوبے کی تفصیلی بات ذرا بعد میں کروں گا پہلے براہِ راست کالم کے موضوع پر اظہار خیال کرتا ہوں۔ قومی اتحاد و یگانگت کے لئے پہلی بات یہ ہے کہ سارے ملک میں ایف۔ اے، ایف ایس سی تک یکساں نظام تعلیم ہو۔ امریکہ اور برطانیہ میں بھی ایسے ہی ہے۔ اس طرح لوگوں میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔تخصیص کرنے سے انسان اپنے اپنے شعبوں تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقات میں ذہنی ہم آہنگی پیدا نہیں ہوتی۔ یکساں علم یا تجربہ جب دوسروں کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے، تو اس طرح مشترکہ تجربات سے یکساں سوچ پیدا ہوتی ہے۔ کالجوں میں ایسے ٹیوٹوریل پیریڈ (Periods) یا ایسی کلاسز ہونی چاہئیں، جہاں سائنس اور آرٹس کے طلباء کو مل بیٹھنے کا موقع ملے جہاں وہ اپنے علم کے علاوہ مختلف امور پر تبادلہ خیالات کریں، یوں وہ اپنے اپنے خانوں سے باہر نکلیں گے اور وسیع تر سوچ کے حامل ہوں گے۔

سٹوڈنٹس اور دوسرے طبقات اپنے جیسے لوگوں سے ملنے جلنے اور رابطے کے لئے ملک کے دوسرے علاقوں اور صوبوں میں جائیں اور مل بیٹھ کر تبادلہ خیالات کریں۔ اس مقصد کے لئے سفر کی زیادہ سے زیادہ سہولتیں ہونی چاہئیں۔ وزیر اعظم میاں نوازشریف نے موٹر وے بنا کر اور میاں شہباز شریف نے میٹرو بس سروس شروع کر کے قابل تعریف کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے فاصلوں کو کم کر دیا ہے۔ جب مختلف صوبوں کے مختلف طبقات دوسرے صوبوں میں مختلف طبقات سے تبادلہ خیالات کرتے ہیں تو کئی گتھیاں سلجھ جاتی ہیں، بہت سے اختلافات دور ہو جاتے ہیں۔ شاعر، شاعر سے ملتا ہے، گلوکار گلوکار سے ملتا ہے اور فن کار فن کار سے۔ اس طرح اگر مختلف علاقوں اور صوبوں کی ثقافتوں کے پھول اکٹھے کر کے ایک گلدستہ بنا دیا جائے تو یہ پاکستان کی ثقافت کا گلدستہ ہوگا۔ میاں برادران نے خصوصاً لاہور کی سڑکیں کھلی کر کے، انڈر پاس بنا کر اور موٹر وے اور میٹرو بس سروس شروع کر کے رسل و رسائل اور سفر کی سہولتیں پیدا کر کے قومی اتحاد پیدا کرنے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گو کہ کچھ اور مسائل بھی بڑے اہم ہیں جیسے رمضان المبارک میں مہنگائی کو کم کرنا اور ہسپتالوں کی ناگفتہ بہ حالت کو بہتر بنانا۔

افواج پاکستان تخریب کاروں سے نبرد آزما ہیں اور ملک کی امن و امان کی پوزیشن کو سنبھالا ہوا ہے۔ اسی طرح قومی اتحاد و یگانگت پیدا کرنے کے سلسلے میں سیاسی جماعتوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے تو کئی مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔اقتصادی راہداری سے جہاں پاکستان میں ترقی کی کئی نئی شاہراہیں کھلیں گی، وہاں چین کی درآمدات اور برآمدات پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اُس کے مشرقِ وسطی اور یورپ و امریکہ کے ساتھ رابطوں میں آسانی پیدا ہو گی۔ ایک اندازے کے مطابق جو مال دوسرے راستوں سے 30 دن میں چین پہنچتا تھا، وہ بہت کم لاگت سے دس دن میں منزل پر پہنچ جائے گا۔

پاک چین راہداری کو وزیر اعظم میاں نوازشریف، میاں شہباز شریف اور آرمی چیف راحیل شریف کامیاب بنا رہے ہیں اور بنائیں گے۔ ان رہنماؤں نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا ہے کہ یہ منصوبہ مکمل ہو کر رہے گا اور اس میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ چینی پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ وہ ایسے مشکل حالات میں پاکستان کے عوام اور اس کی حکومت پر اعتبار کر رہے ہیں۔ان کی بڑی عظمت ہے اس بات سے ثابت ہو گیا ہے کہ چین پاکستان کا حقیقی دوست ہے۔ ایک معاصر روزنامہ کے مطابق چینی سفیر اپنی تقریر میں پاکستان کی حکومت اور فوج کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ چینی انجینئروں اور ٹیکنیشن حضرات کی حفاظت کے لئے کس قدر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کئے جاتے ہیں۔ چین نے پاکستان کی حکومتوں کی بجائے ہمیشہ عوام کے ساتھ تعلق رکھا ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی حکومت ہو چین پاکستان کا دوست رہا ہے۔

مزید :

کالم -