آصف علی زرداری کی للکار!

آصف علی زرداری کی للکار!
آصف علی زرداری کی للکار!

  

16جون 2015ء کو آصف علی زرداری نے انتہائی مایوسی اور بے چینی کے عالم میں جس طرح پاک فوج (زندہ باد) کے سپہ سالاروں کو ہتک آمیز انداز میں للکارا ایسے تو شاید آج تک پاکستان کے کسی بدترین دشمن ملک نے بھی نہ للکارا ہو۔ لگ یوں رہا ہے کہ آصف علی زرداری کو یقین ہو گیا ہے کہ ان کے اور ان کے ساتھی بھتہ خوروں اور لینڈ مافیا کے خلاف شکنجہ کس دیا گیا ۔ آصف علی زرداری کے اس بیان کے تانے بانے 15جون کو سندھ بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ میں رینجرز کی پکڑ دھکڑ سے شروع ہوئے اس سے قبل 4جون کی ایپکس کمیٹی میں ڈی جی رینجرز سندھ نے وزیراعلیٰ سندھ کو جو لسٹ دی تھی، اس میں کہا گیا تھا کہ یہ لوگ بہت سارے جرائم میں ملوث ہیں، انہیں گرفتار کیا جائے، جب وزیراعلیٰ سندھ نے اس لسٹ پر عملدرآمد نہ کیا تو ڈی جی رینجرز سندھ نے 11جون 2015ء کو پریس ریلیز جاری کر دی۔ جس میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں سالانہ 230 ارب روپے سے زائد رقم غیر قانونی طور پر اکٹھی کی جاتی ہے جو مختلف وارگینگز میں تقسیم کی جاتی ہے اور اس رقم میں سے خاصا بڑا حصہ سندھ کی اعلیٰ سیاسی لیڈروں میں تقسیم ہوتا ہے۔ کراچی کی بڑی سیاسی جماعتیں اس سارے گھناؤنے کاروبار میں شریک ہیں۔ یہاں تک کہ زکوٰۃ، فطرانہ قربانی کی کھالیں اور جبری بھتے سے جو پیسہ اکٹھا ہوتا ہے۔وہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس پریس ریلیز کے بعد پی پی اور ایم کیو ایم کی لیڈرشپ میں کھلبلی مچنا قدرتی امر تھا۔

16جون 2015ء کو آصف علی زرداری کا یہ کہہ کر پاک فوج کے جرنیلوں کے خلاف اعلان جنگ کرنا کہ آپ تو پہلے ہی مشرقی اور مغربی بارڈرز پر دشمن سے نبردآزما ہو۔ ہمیں تنگ مت کرو۔ یعنی ہمیں ہماری منشا کے مطابق لوٹ مار کرنے دو، نہیں تو ہم تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ آصف علی زرداری نے جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ آپ کو تو صر ف تین سال رہنا ہے۔ ہم نے ہمیشہ یہاں رہنا ہے۔ یہ مفروری کی آخری حد ہے، جس طرح آصف علی زرداری کے سسر ذوالفقار بھٹو نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ میری کرسی بہت مضبوط ہے۔ آصف علی زرداری نے مزید فرمایا کہ ہمیں لڑائی لڑنی آتی ہے، جس دن مَیں کھڑا ہو گیا، فاٹا سے کراچی تک سب بند ہو جائے گا اور جب تک مَیں نہ کہوں گا، کچھ بھی نہیں کھلے گا۔

آصف علی زرداری احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے اس وقت جنرل راحیل شریف اور ان کے ساتھی کمانڈروں کو للکارا ہے، جب پاکستان کے 100فیصد عوام جنرل راحیل شریف اور ان کے ساتھیوں کی پشت پر سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ 20کروڑ عوام اس وقت جتنا اعتماد موجودہ فوجی قیادت پر کررہے۔ شاید اتنا اعتماد کسی فوجی جرنیل نے حاصل نہ کیا ہو۔ عوام کی 100فیصد رائے فوج کے حاضر کمانڈروں کے ساتھ ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں، فوج ان نام نہاد لیڈروں کو جو دراصل ڈاکو لٹیرے بھتہ مافیا مذہبی دہشت گردوں اور معاشی دہشت گردوں کاہمیشہ کے لئے صفایا کر دیں۔ آصف علی زرداری کی سیاست میں سے اگر بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو سے رشتہ داری نکال دیں تو ان کے نامہ اعمال میں لینڈ مافیا، بھتہ مافیا، پانی مافیا اور بمبینو سنیما ہی بچتا ہے۔ آصف علی زرداری نے جنرل راحیل شریف کو للکارتے ہوئے فرمایا کہ ساری سیاسی جماعتیں میرے ساتھ ہیں۔

کیا چودھری شجاعت ، اسفند یارولی اور مولانا فضل الرحمن اپنی کھال بچائیں گے یا آپ کا ساتھ دیں گے؟ اور میاں محمد نوازشریف کیوں اپنے پاؤں پر کلہاڑی چلائیں گے۔ آصف علی زرداری سوچیں، سمجھیں آپ کے ساتھ تو آ پ کی اپنی پارٹی نہیں ہوگی۔ آپ کی کرپشن 2008ء تا 2013ء نے آپ کو پہلے پنجاب نے فارغ کیا۔ کے پی کے، بلوچستان سے آپ فارغ ہوئے۔ گلگت بلتستان حالیہ الیکشن میں آپ کی ضمانتیں ضبط ہوئیں، پورے ملک سے کنٹونمنٹ کے بلدیاتی الیکشن میں آپ کو صرف 7عدد کونسلرز کی سیٹیں ملیں، جبکہ جماعت اسلامی کو 9سیٹیں ملیں۔ آپ سارا ملک بند کرنے چلے ہیں۔ آصف علی زرداری اب کوئی جرنیل ایسا نہیں جو NRO کرکے آپ کے پرانے کھاتے بند کروا دے گا، اب نہ تو 1977ہے نہ 1986ء اور نہ ہی 2007ء ۔ آصف علی زرداری کو 16جون 2015ء کی بڑھک بہت مہنگی پڑے گی۔ لگ یوں رہا ہے کہ اسلامی اور معاشی دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ ہو گیا ہے۔ جمہوریت کا لبادہ اوڑھے بھیڑیوں کے دن گنے جا چکے ہیں، کیونکہ اللہ سبحان تعالیٰ کے ہاں دیر ضرور ہے، لیکن اندھیر بالکل بھی نہیں۔

مزید :

کالم -