وہ وقت جب سیالکوٹ ایئرپورٹ کی تعمیر شروع ہوئی اور چین و کوریاکے انجینئرزنے مقامی لوگوں کو گوشت کیلئے کتے پکڑنے پر لگادیا

وہ وقت جب سیالکوٹ ایئرپورٹ کی تعمیر شروع ہوئی اور چین و کوریاکے انجینئرزنے ...
وہ وقت جب سیالکوٹ ایئرپورٹ کی تعمیر شروع ہوئی اور چین و کوریاکے انجینئرزنے مقامی لوگوں کو گوشت کیلئے کتے پکڑنے پر لگادیا

  

لاہور(نطام الدولہ )مجھے اچھی طرح یاد ہے جب سیالکوٹ ائرپورٹ کی تعمیر شروع ہوئی اور وزیرآباد سے سیالکوٹ تک دورویہ سڑک پر کام جاری ہوا تو چین اور کوریا سے تعلق رکھنے والے انجینئرزنے مقامی لوگوں کو ایک عجیب اور انتہائی شرمناک کام دے دیا کہ وہ ان کے لئے کتے پکڑ کر لایا کریں اور بدلے میں دس دس ڈالر وصول کیا کریں ۔نوجوانوں کویہ دلچسپ مشغلہ بھا گیا اورجب تک یہ باشندے یہاں رہے پورے علاقہ سے کتے غائب ہوگئے ۔یہ لوگ کتوں کا گوشت روزانہ کھاتے تھے ۔گزشتہ دنوں چین سے آنے والے ایک بزنس مین میاں افتخار نے انکشاف کیا چینی آج بھی کتے کا گوشت بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔

یولن نامی شہر میں تو کتوں کے سوا دوسرا گوشت کھانے کو نہیں ملتا لہذا یولن جانے والے بزنس مین کھانے پینے میں احتیاط کیا کریں۔انہوں نے کہا کہ چین کی اپنی روایات ہیں اور اسکو دنیا کی کڑوی کسیلی باتوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔یہاں ان دنوں جانوروں کے حقوق کے علمبرداروں کا یہ نعرہ عام سننے کو مل رہا ہے کہ چین میں جانوروں کو انسانی خوراک کے طور پر استعمال کرنا بند کیا جائے ۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چین کے شہر یولن میں کتوں کو بے دردی سے مار کر ان کا گوشت دوسرے ہر قسم کے گوشت پر ترجیح دے کر کھایا جاتا ہے ۔یولن میں ہر سال گلی محلوں میں کتوں کے گوشت کا میلہ بھی لگایا جاتا ہے جس میں بیس ہزارکتے ہلاک کردئیے جاتے ہیں ۔دنیا میں ایسا منظر کسی اور ملک میں نظر بھی نہیں آتا کہ جیسے مرغیوں اور بکروں کو پال پوس کر بیچا جاتا ہے اور پھران کوپنجروں میں بند کرکے ،موٹر سائیکلوں پر لاد کر لے جایا جاتا ہے یا بازاروں میں بیچا جاتا ہے اسیطرح یولن میں کتوں کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے۔لوگ گوشت کے لئے کتے پالتے اور چوری کرتے ہیں،پنجروں میں بند کرکے بازاروں میں بیچے جاتے ہیں ۔یولن پر کتوں کے گوشت کی وجہ سے کڑی تنقید ہوتی ہے لیکن یہ لوگ اسکی پراہ نہیں کرتے اور کہتے ہیں” ہمارے پُرکھوں نے کتے کھا کھا کر ہمیں پیدا کیا ۔ہم اپنی روایت اور غذا ترک نہیں کرسکتے“۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -