فنکار سیاست دان

فنکار سیاست دان
 فنکار سیاست دان

  

دو دہائیاں پہلے کی بات ہے۔ ہم صبح ماڈل ٹاؤن پارک میں واک کرنے کے بعد گپ شپ میں مگن ہوتے تو کبھی کبھار ایک صاحب آ جاتے ، شکل سے بیمار لگتے ، مسکین سی صورت بنائی ہوتی۔ چند دوستوں سے ان کی پرانی واقفیت تھی۔ باقی سب بھی جانتے تھے ،مگر پھر بھی ان کا تعارف ایک بار پھر کرایا جاتا کہ بہت بڑے فنکار ہیں ۔فن کی ناقدری کے سبب مالی طور پر انتہائی پریشان ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ان کی مدد کریں۔ حقیقت میں وہ صاحب ایک بڑے فنکار ہیں۔ واقعی جگت بازی میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ انہوں نے اپنے فن کا ہلکا پھلکا مظاہرہ بھی کرنا، دوستوں نے کچھ امداد کرنی اور انہوں نے سب کا شکریہ ادا کرکے چلے جانا۔وہ اکیلے ہی نہیں ، لاہور میں ایسے حالات کے مارے بہت سے لوگ پائے جاتے تھے۔لوگ انہیں مراثی کہتے اور مذاق بھی اڑاتے۔ مگر وہ برا ماننے کی بجائے کسی شاندار جگت کی صورت بہت کرارا جواب دیتے اور ہنس کر چل دیتے۔گھر کے اخراجات کی خاطروہ محلے ،گاؤں یا علاقے کے کسی صاحب ثروت شخص کے ساتھ خود کو نتھی کر لیتے اور اسی سے گزارہ الاؤنس وصول کرکے کسمپرسی میں کسی طرح زندگی کی گاڑی چلائے رکھتے،جس شخص کے ساتھ خود کو نتھی کرتے اس کی ہر طرح سے تعریف اور توصیف کرتے اور اپنی فنکاری کے حوالے سے علاقے میں اس کی قدرومنزلت میں اضافے کی پوری سعی کرتے،جہاں اس شخص کو ضرورت ہوتی یہ پہنچ جاتے اور اپنا پورا کمال دکھاتے ۔ کسی کی کیا مجال جو ان کے چوہدری کو کچھ کہہ سکے ۔ان کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ یہ کسی شخص سے خود کو مستقل بنیادوں پر منسوب نہیں کرتے تھے۔ جو ان کا زیادہ مہربان ، علاقے میں زیادہ بااثر،یہ اس کے زیادہ بہی خواہ۔ مفاد پرستی کے دور میں کوئی کسی کا سگا نہیں ہوتا۔جب یہ نئے چوہدری سے وابستہ ہوتے تو پرانا چودھری بھی ان سے بچ نہیں پاتا۔شاید یہی قانون فطرت ہے۔

وقت بڑی تیزی سے بدلا ہے۔ نئے ٹی وی چینلز کی بہتات کے سبب فنکاروں کی قلت ہو گئی ہے۔ہر چینل پر آٹھ دس فنکار ہر وقت اپنے فن کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ بعض تو تین تین اور چارچار چینلز پر کام کر رہے ہیں۔ اب ان کی صورتیں مسکین نہیں رہیں۔ اب ان کے گھروں سے مفلوک الحالی رخصت ہو چکی۔ اب وہ بڑی بڑی گاڑیوں میں نظر آتے ہیں۔ عوام کو تعلیم سے کوئی سروکار نہیں ۔حالات کا ستم یہ ہے کہ مسائل کا رونا رونے والے انہیں اچھے نہیں لگتے ۔اس لئے انہیں لوگ کم توجہ دیتے ہیں۔ حکومت اور موجودہ سیاسی قیادتوں کی کوشش بھی یہی ہے کہ نہ تعلیم ہو گی نہ شعور آئے گا۔ نہ لوگ سوچیں گے نہ حالات بدلیں گے ۔نہ کسی کی لوٹ مار کا کسی کو پتہ چلے گا۔ بس سٹیٹس کو چلتا رہے گا۔ جگت بازی البتہ ہماری قیادتوں کے سیاسی ایجنڈے کے مطابق بہت تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔ اس لئے ان فنکاروں کی انگلیاں گھی میں ہیں اور سر کڑاہی میں۔ اب کوئی میراثی پریشان اور روتا ہوا نہیں ملتا۔ ٹی وی چینلز نے اس نسل کے نابالغوں کو بھی کام پر لگا دیا ہے۔

مَیں ایک کالج میں پڑھاتا تھا۔ وہاں ایک نوجوان جونےئر استاد پرنسپل صاحب کے بہت وفادار تھے۔ صلے میں بہت سی اہم ذمہ داریاں انہوں نے سمیٹ رکھی تھیں، پڑھانا جو ان کا اصل کام تھا انہوں نے چھوڑ دیا تھا۔وفاداری کے حوالے سے ان کی کارکردگی ان فنکاروں کو بھی مات کرتی تھی۔ وہ کسی بڑے یا چھوٹے کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ کالج کے ایک سینئر ترین پروفیسر سے بھی وہ بد تمیزی کر جاتے، جس پر پروفیسر صاحب ان سے بہت نالاں تھے۔ اکثر گلہ کرتے کہ عجیب آدمی ہے اسے نہ عمر کا لحاظ ہے، نہ سینارٹی کا۔ سوائے پرنسپل کے اسے کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔ ایک استاد ہے مگر وفاداری میں استاد کے مرتبے کو بھی بر قرار نہیں رکھتا ۔ لوگ ہنس کر کہتے ، پروفیسر صاحب برا نہ مانیں وہ استاد کم، فنکار زیادہ ہے۔ ایسے بندے کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں ، اس کی باتوں کو نظر انداز کر دیں بہتر ہے۔

سوئے اتفاق وہ سینئر پروفیسر چند دنوں بعد پرنسپل ہو گئے۔کئی برسوں تک اس نوجوان استاد کے ہاتھوں بے عزت ہونے کا غصہ انہیں بہت تھا۔ نوجوان استاد ساری ذمہ داریوں سے فوراً فارغ ہو گئے اور انہیں پڑھانے کا حکم ہو گیا جو ان کے بس کی بات نہ تھی۔۔اقتدار کے نشے میں لوگوں سے بدتمیزی اورجاہل پن ان کی زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔ وہ ماہی بے آب کی طرح کالج میں دوسرے با اثر اساتذہ سے منت کرتے پھر رہے تھے کہ کسی طرح پرنسل صاحب سے انہیں معافی دلوا دی جائے، لیکن پرنسپل صاحب اس کے بارے کسی کی کوئی بات سننے کو تیار نہ تھے۔ ایک دن کالج کے ایک انتہائی محترم استاد نوجوان کو لے کر پرنسپل صاحب کے پاس پہنچ گئے اور گویا ہوئے، پرنسپل صاحب تھوڑا غور کریں ۔ یہ شخص انتہائی وفادار ہے، مگر کسی فرد کا نہیں۔ اس کرسی کا جس پر آپ بیٹھے ہیں۔ آپ ذرا اٹھ کر پرے ہوں اور کسی گدھے کو اپنی جگہ بٹھا دیں یہ اس کے آگے سر جھکا دے گا۔یہ وفاداری اس کے خون میں شامل ہے، یہ اپنی فطرت سے مجبور ہے۔پرنسپل ہنس دئیے اور اگلے دن نوجوان پھر پوری فارم میں کالج میں دندناتا پھر رہا تھا۔

فطرت کا اپنا ایک نظام ہے وہ کہیں خلا پیدا نہیں ہونے دیتی۔ لوگ مر جاتے ہیں، لوگ ہجرت کر جاتے ہیں ، لوگ بدل جاتے ہیں اور ان کی جگہ لینے کو کچھ اور لوگ آ جاتے ہیں۔مجھے یہ واقعات اسی حوالے سے یاد آئے۔ ٹی وی چینلز نے سارے پروفیشنل فنکاروں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا ہے ۔ اس خلا کو پورا کرنے کے لئے لگتا ہے چودھری آ گئے ہیں ۔ ویسے تو میں بھی ذات کے حوالے پیدائشی چودھری ہوں، مگر یہ کچھ خاص نسل کے چودھری ہیں۔پانامہ کیس کے حوالے سے اپنے اپنے سیاسی لیڈر کی حمایت میں یہ روز سکرین پر آ کر جو کچھ کہتے ہیں وہ عوام کے لئے تفریح کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس لحاظ سے ان کی کارکردگی کسی پیشہ ور فنکارسے کم نہیں۔ پھر اپنے مفادات کی خاطر اپنی سیاسی وفاداری اگر انہیں آج بدلنا پڑ گئی تو کل ان کی زبان اپنے نئے لیڈر کے لئے وقف ہوگی۔ ان کا ماضی اس چیز کا گواہ ہے۔یہی ہماری لیڈر شپ ہے او ریہی اس کا کیریکٹر جو عملی طور پر ہمارے جمود اور ہمارے مسائل کا باعث۔ کہادت ہے کہ دولت چلی جائے تو سمجھو کچھ نہیں کھویاا،صحت چلی جائے تو سمجھو کچھ کھو گیا،لیکن اگرکردار چلا جائے تو سمجھو سب کچھ کھو دیا

مزید :

کالم -