ٹرمپ مودی گٹھ جوڑ، خطے کے امن کے لئے خطرہ

ٹرمپ مودی گٹھ جوڑ، خطے کے امن کے لئے خطرہ
ٹرمپ مودی گٹھ جوڑ، خطے کے امن کے لئے خطرہ

  

امریکہ نے بھارتی وزیرِ اعظم مودی کے دورہ امریکہ کے موقع پر سید صلاح الدین کو ’خصوصی طور نامزد عالمی دہشت گرد‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سید صلاح الدین نے ستمبر 2016 میں وادی میں مزید خودکش بمباروں کو تربیت فراہم کرنے اور اسے انڈین فورسز کے قبرستان میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔امریکہ کے اس اقدام سے کشمیریوں کی تحریک آزادی پر اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔کشمیری عسکریت گلوبلائز ہوسکتی ہے ۔حزب المجاہدین، جس کے دیرینہ سربراہ صلاح الدین ہی ہیں، کشمیریوں کی مقامی تنظیم ہے۔ حزب نے 27 سال کے دوران کبھی کسی عالمی ایجنڈے کا ذکر نہیں کیا۔ یہ تنظیم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور اس نے اکثر اوقات القاعدہ اور دولت اسلامیہ کی لہر سے باقاعدہ فاصلہ بنائے رکھا۔ گذشتہ چند برس سے بعض کشمیری مظاہرین دولت اسلامیہ یا داعش کا پرچم لہرانے لگے تو صلاح الدین نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ داعش نوازی کی لہر سے دْور رہیں۔صلاح الدین کو عالمی دہشت قرار دیے جانے کے بعد کشمیری عسکریت پسند لوکل ایجنڈے کی افادیت پر سوال اْٹھا سکتے ہیں اور کشمیری مسلح مزاحمت کو شام اور افغانستان میں جاری مسلح مزاحمت کے خطوط پر اْستوار کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔اس طرح کشمیر کی مسلح تحریک ،جس کا ابھی تک کردار اور ایجنڈا بھی مقامی رہا ہے۔

خطے کی سب سے پرانی اور بڑی مسلح تنظیم کے سربراہ کو جب عالمی سطح کا مطلوب دہشت قرار دیا جاتا ہے تو انڈیا کی کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف دنیا بھر میں جاری جنگ کا ہی مرحلہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایک طرف مسلح گروپ ’عالمی جہاد‘ کے نام پر سرگرم ہوں گے، اور دوسری طرف بھارتی کارروائی کو عالمی جواز حاصل ہو گا۔ ظاہر ہے کشمیر میں مسلح شورش کو دبانے کی کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی پامالیاں ہوئی ہیں۔ کشمیر کی مسلح مزاحمت کا کردار مقامی اور لہجہ قانونی تھا اس لئے امریکہ اور یورپ کے اداروں نے انڈیا پر نکتہ چینی بھی کی۔

گذشتہ دنوں فوج کے سابق کمانڈر وجے اوبرائے نے مسلح گروپوں کے ٹھکانوں اور ان کی حمایتی بستیوں پر فضائی بمباری کی تجویز پیش کی تھی۔ ابھی تک ایسا اس لئے نہیں ہورہا تھا کہ عالمی ادارے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھیں گے، کیونکہ حزب المجاہدین نہ صرف اقوام متحدہ اور امریکہ کا وجود تسلیم کرتی ہے، بلکہ ان ہی سے رائے شماری کے انعقاد کی خاطر مداخلت کی اپیل کرتی رہی ہے،لیکن جب حزب المجاہدین ہی طالبان یا القاعدہ اور داعش کے ہم پلہ قرار پائے گی تو ایسی کارروائیوں کے لئے حکومت ہند کو سفارتی اور قانونی جواز مل سکتا ہے۔علیحدگی پسندوں کے اتحاد ’’حریت کانفرنس‘‘ کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کا ’پْرامن‘ حل چاہتی ہے، لیکن عوامی سطح پر وہ عسکریت پسندوں کی ’شہادت‘ کو تحریک کا عظیم سرمایہ قرار دیتی ہے۔

بعض حلقے کہتے ہیں کہ صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد فہرست میں شامل کرنا بھارتی وزیراعظم کے لئے ٹرمپ کی ’ٹوکن رعایت‘ ہو سکتی ہے جو انھیں دو سے تین ارب ڈالر مالیت تک اسلحہ کی خریداری ڈیل کے عوض دی جائے گی۔انڈیا کو توقع تھی کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے منسوخ کر کے اسلام آباد کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی عائد کرے گا، چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس لئے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا۔محکمہ خارجہ کے بیان میں کشمیر کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کہا گیا ہے جو امریکہ کی طرف سے کشمیر کی متنازع حیثیت تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ محض مودی کو خوش کرنے کے لئے کیا گیا۔ وزیر داخلہ چودھری نثار کہتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھارتی زبان بولنا تشویشناک ہے۔ بھارتی حکومت کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور پامالی کر رہی ہے۔ امریکی حکام کے بیان سے لگتا ہے معصوم شہریوں کے خون کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ بات انتہائی قابل تشویش ہے کہ امریکی انتظامیہ ہندوستان کی زبان بولنے لگی ہے جو نا صرف کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، بلکہ روز اول سے حق خود ارادیت کی جائز اور منصفانہ تحریک کو دبانے اور آزادی کی کاوشوں کو دہشت گردی کے طور پر پیش کرنے میں مصروف ہے جس کے غاصبانہ طرز عمل پر ہر بااصول اور باضمیر ملککو تشویش ہونی چاہئے۔

بھارتی وزیر اعظم کی وائٹ ہاؤس یاترا کے بعد امریکی حکومت کے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ امریکا کے نزدیک معصوم کشمیریوں کے خون کی کوئی اہمیت نہیں۔ شاید انسانی حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کا کشمیر میں اطلاق نہیں ہوتا اور وہاں انسانی حقوق کی پامالی اور معصوموں کے خون سے ہولی کھیلے جانے جیسے سنگین جرائم کو بھی فراموش کیا جاسکتا ہے۔ اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قومی اتفاق، عزم ، حوصلے اور یک جہتی کا مظاہرہ کریں اور اپنے کشمیری بھائیوں کو واضح پیغام دیں کہ حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے اپنے کشمیری بھائیوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت میں کسی قسم کی کمی نہیں آئے گی اور ہم ثابت قدمی سے دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر کشمیریوں کا مقدمہ لڑتے ہوئے بین الاقوامی برادی کا ضمیر جھنجھوڑتے رہیں گے۔ کشمیری عوام کے حقوق پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں ہوگی اور انصاف کے تقاضوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا جائز حق ملنے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ بھارتی تسلط سے آزادی اور حق خود ارادیت کشمیریوں کا مقدر ہے اور دنیا کی کوئی طاقت انہیں اس حق سے محروم نہیں کرسکتی۔

مزید :

کالم -