جدوجہد آزادی کشمیر اور بھارت، امریکہ گٹھ جوڑ

جدوجہد آزادی کشمیر اور بھارت، امریکہ گٹھ جوڑ
 جدوجہد آزادی کشمیر اور بھارت، امریکہ گٹھ جوڑ

  

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کادو روزہ دورہ کر کے واپس پہنچ چکے ہیں ۔ ان کی طرف سے یہ دورہ ایسے وقت میں کیاگیا ہے جب کشمیر میں تحریک آزادی پورے عروج پر ہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوج ہر قسم کے وسائل صرف کرنے کے باوجود جدوجہد آزادی کشمیرکی نئی لہر پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ۔ بھارتی فورسز نے پیلٹ گن، پاوا شیل اور دیگر مہلک ہتھیار استعمال کر کے دیکھ لئے۔ سینکڑوں کشمیر یوں کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی ، ہزاروں زخمی ہوئے۔کشمیری تاجروں کو اربوں روپے مالیت کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کی فصلیں اور املاک تباہ کر دی گئیں، لیکن کشمیریوں کے جذبہ حریت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وہ روزانہ اپنے جگر گوشوں کی لاشیں اٹھاتے اور پاکستانی پرچموں میں لپیٹ کر دفن کرتے ہیں۔سبز ہلالی پرچم کشمیر میں عام نظر آتے ہیں ۔ہندوستانی حکومت اور فوج کیخلاف نفرت کا ایک طوفان ہے جو ہر کشمیر ی بچے، بوڑھے اور نوجوان کے دل میں ہے۔ کشمیری قوم اس وقت سڑکوں پر ہے حتیٰ کہ طالبات بھی پیلٹ گن کے چھرے برسائے جانے کے باوجود احتجاج کرتی نظر آتی ہیں۔ اس سار ی صورت حال نے ہندوستانی حکام، فوج اور عسکری اداروں کو سخت تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بھارتی جرنیل اور عسکری دانشور علی الاعلان یہ باتیں کر رہے ہیں کہ کشمیر بھار ت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔

ہندوستانی آرمی چیف ، وزیر دفاع اور دیگر اداروں کے جرنیل باری باری کشمیر کے دورے کر رہے ہیں اور بھارتی فورسز کے مورال کو سہاراد ینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بی جے پی کی نریندر مودی حکومت کی جانب سے کشمیریوں کی دن بدن مضبوط ہوتی جدوجہد آزادی کو کچلنا اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔بھارتی ایجنسیاں کشمیر میں داعش جیسے تکفیری گروہوں کو بھی پروان چڑھانے کی کوششیں کر رہی ہیں، لیکن کشمیری سیاسی و جہادی تنظیموں کے باہمی تعاون کے سبب کشمیر میں مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی یہ سازش کامیاب نہیں ہو سکی ۔اس لئے تحریک آزادی کشمیر کی حالیہ لہرپر قابو پانے کے لئے اب بھارت نے واضح طور پر امریکہ سے مدد مانگی ہے اور نریندر مودی کا حالیہ دورہ بھی اسی مقصد کے لئے تھا۔ بھارتی حکام کی طرف سے آئے دن یہ ہرزہ سرائی کی جاتی رہی ہے کہ پاکستان مبینہ طور پر سوشل میڈیا کے ذریعہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کو پروان چڑھا رہا ہے ۔ اسی طرح دراندازی کے پرانے الزامات کا ڈھنڈورا بھی پیٹا جاتا رہاہے۔ اس دوران بھارتی سفارتکار اور ان کا میڈیا مسلسل بیرونی دنیا کو گمراہ کرنے میں مصروف رہے ہیں۔ مودی کے چونکہ انتخابات سے قبل ہی ٹرمپ سے گہر ے مراسم استوار ہو چکے تھے اورامریکی صدر نے 2014ء میں دورہ بھارت کے دوران ہندوستانی وزیر اعظم کے حوالہ سے خیر سگالی کے جذبات کا برملا اظہار کیا تھا اس لئے ٹرمپ کے برسر اقتدار آتے ہی دونوں طرف سے تعلقات میں گرم جوشی آئی اور پاکستان جس کی دشمنی میں دونوں ایک ہیں‘ اب کھل کر سامنے آتے نظر آرہے ہیں۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ کس طرح روزانہ بے گناہ کشمیریوں کا خون بہایا جارہا اور ممنوعہ ہتھیار استعمال کر کے کشمیریوں کی زندگیاں اجیرن بنائی جارہی ہیں، لیکن ٹرمپ کو یہ سب کچھ نظر نہیں آیااورالٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق پاکستان سے ہی اپنی سرزمین دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال ہونے سے روکنے کے باتیں کی جارہی ہیں۔ دونوں ملکوں کے سربراہان کا کہنا ہے کہ پاکستان ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کے ملزموں کو سزا دے۔

ایک رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے بھارتی خوشنودی کے لئے مودی کے دورہ امریکہ سے چند گھنٹے قبل کشمیری لیڈر سید صلاح الدین کوبھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیاہے۔ امریکی صدر ٹرمپ اور مودی کے ایک دوسرے سے ہاتھ ملا کر پاکستان کیخلاف الزامات کی بوچھاڑ کرنے سے ان کے آئندہ کے عزائم کھل کر واضح ہو رہے ہیں۔سید صلاح الدین پر کشمیریوں کی مددکا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے امریکہ میں اثاثے منجمد کردیے گئے اور کہا گیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل میں رکاوٹ ہیں۔یعنی ہندوستان کی آٹھ لاکھ مسلح بھارتی فوج جوکشمیر میں دن رات ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہی ہے وہ امن پسند ہے اور اپنی عزتوں وحقوق کے تحفظ کے لئے آواز بلند کرنے والے کشمیری امریکہ کی نظر میں دہشت گرد ہیں۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

چند ماہ قبل جماعۃالدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے جب 2017ء کشمیر کے نام کرنے کا اعلان کیا اور اس عزم کا اظہا رکیا گیا کہ وہ آنے والے دنوں میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے بڑے جلسوں، کانفرنسوں و ریلیوں کا انعقاد کریں گے توہندوستانی میڈیا نے شور مچایا اور پھر مودی سرکار کے کہنے پر ٹرمپ انتظامیہ نے حکومت پاکستان کو فی الفور رپیغام دے ڈالا کہ اگر حافظ محمد سعید اور ان کے ساتھیوں کیخلاف کارروائی نہ کی گئی تو اسے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جس کے چند دن بعد ہی جماعۃالدعوۃ کے سربراہ سمیت چار رہنماؤں کو ان کی رہائش گاہوں پر نظربند کر دیا گیا جنہیں تاحال رہا نہیں کیا گیا۔ سید صلاح الدین اور حافظ محمد سعید دونوں لیڈروں پر کشمیریوں کی مددوحمایت کا الزام ہے اور انہی الزامات کی بنیاد پر ان کیخلاف دہشت گردی کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے۔ پاکستان سے اپنی سرزمین دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال روکنے کا واویلا بھی اسی پروپیگنڈا کا حصہ ہے۔امریکہ کی طرف سے سید صلاح الدین کو دہشت گردقرار دیے جانے پر دفتر خارجہ اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خاں کا ردعمل سامنے آیا ہے ،جس میں کشمیریوں کے حق میں بولنے والوں کو دہشت گردقرار دیے جانے پر افسوس کا اظہا رکیا گیا ہے۔

حکومت پاکستان نے حافظ محمد سعید اور ان کے ساتھیوں کو نظربند کیا ، لیکن ہندو، صلیبی و یہودی اس سے خوش نہیں ہوئے، بلکہ ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے اب سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے۔آنے والے دنوں میں وہ کسی اور مذہبی لیڈر کے دہشت گرد ہونے کا اعلان کر دیں گے۔ بیرونی قوتوں کے سامنے جھکنے والی پالیسی اختیار کرنے سے یہ سلسلہ کبھی نہیں رکے گا۔ ان کے مطالبات روز بروز بڑھتے جائیں گے۔ اگر ماضی میں اس حوالہ سے بیرونی دباؤ قبول نہ کیا جاتا تو آج صورت حال اس سے مختلف ہوتی۔ کشمیری پاکستان کو اپنا سب سے بڑا وکیل سمجھتے ہیں اور الحاق پاکستان کی خاطر لاکھوں جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں، لیکن اس سب کے باوجود اپنا فریضہ صحیح معنوں میں ادا نہیں کیا گیا اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اور بین الاقوامی سطح پر جدوجہد آزاد ی کشمیر کو آزادی کی تحریک کے طور پر منوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ مودی اور ٹرمپ کی حالیہ ملاقات کے بعد تحریک آزادی کیخلاف ایک مرتبہ پھر نئے سرے سے سازشوں کے جال بنے جائیں گے۔حافظ محمد سعید کی طرح سید صلاح الدین جیسے لیڈروں کی نظربندیاں اور ان کی سرگرمیاں محدود کرنے کے لئے بھی دباؤ بڑھے گا۔

مزید : کالم