کوئٹہ میں پولیس کے سب انسپکٹر کا قتل

کوئٹہ میں پولیس کے سب انسپکٹر کا قتل

مکرمی!

آپ کے موقر روزنامہ کی وساطت سے عرض ہے کہ کوئٹہ میں گزشتہ دنوں رکن صوبائی اسمبلی بلوچستان عبدالمجید اچکزئی کی تیز رفتار گاڑی نے ٹریفک پولیس کے سب انسپکٹر عطا ء اللہ کو روند کر شہید کر دیا، اس پر قوم دل گرفتہ ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کوئٹہ پولیس کی جانب سے گاڑی کو تحویل میں لینے اور اس میں سوار افراد کیخلاف نامزد مقدمہ درج کرنے کی بجائے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیاجو بے حسی اور جانبداری کی انتہا ہے ۔ میڈیا پر اس دلخراش واقعہ کی فوٹیج کے بعد بھی آئی جی بلوچستان ، کوئٹہ پولیس کے سربراہ حکومتی ترجمان کی جانب سے شہید کے لواحقین سے کوئی اظہار افسوس اور ہمدردی نہ کیا گیا یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہید سب انسپکٹر ٹریفک پولیس عطا ء اللہ کے بیٹے نے کہاکہ والد کی نماز جنازہ ہم نے اپنے آبائی گاؤں میں ادا کی لیکن ان کی میت کیساتھ کوئی پولیس اہلکار تک نہ آیاانہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور نہ ہی قبر پر پاکستانی پرچم لہرایا گیا ۔ہمارے گھر کا چراغ گل کر دیاگیا بلوچستان پولیس نے ہمارے شہید والد کو لاوارث سمجھ کر چھوڑ دیا ۔انھوں نے کہاکہ میرے والد اپنے فرائض منصبی ادا کر رہے تھے دوسری طرف ابھی تک بلوچستان حکومت اور بلوچستان پولیس کے کسی افسرنے شہید کے گھر جاکر اظہار تعزیت تو دور کی بات ہے ان کے لیے ہمدردی کے دو بول تک نہیں ادا کئے۔ رکن صوبائی اسمبلی کی رعونت و تکبر کا عالم دیکھیے وہ پولیس کی بکتر بند گاڑی سے اترتے ہی میڈیا نمائندوں پر غصے کا اظہار کرتے ہیں ان کو عدالت میں پیش کیا گیا تو ہاتھ میں ہتھکڑی تک نہ تھی ۔ ڈی ایس پی اور دیگر پولیس افسران ان کو پروٹوکول دیتے ہوئے سہمے سہمے دکھائی دے رہے تھے ۔ اس عمل سے واضح ہوگیا کہ عام آدمی کے لیے اور اشرافیہ کے لیے پاکستان میں الگ الگ قانون اور ضابطے ہیں ۔

(چوہدری فرحان شوکت ہنجرا ،لاہور)

مزید : اداریہ