بہاولپور اور جنوبی پنجاب میں برن یونٹس کی سہولت

بہاولپور اور جنوبی پنجاب میں برن یونٹس کی سہولت

  

بہاولپور کے نزدیک احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر سانحے کے بعد یہ افسوسناک انکشاف ہوا ہے کہ بہاولپور کے کسی ہسپتال میں برن یونٹ کی سہولت موجود نہیں۔ اس وجہ سے کہا جا رہا ہے کہ بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال(بی وی ایچ) میں برن یونٹ نہ ہونے سے اموات زیادہ ہوئیں۔ جنوبی پنجاب میں صرف ایک برن یونٹ کام کر رہا ہے یہ برن یونٹ نشتر ہسپتال ملتان میں یوسف رضا گیلانی (جب وہ وزیراعظم تھے) کی دلچسپی کے باعث قائم ہوا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے موجودہ دور میں بہاولپور میں 300 بیڈ کا ایک ہسپتال بنوایا، لیکن اس کی عمارت کو ناقص اور خطرناک قرار دے دیا گیا۔ چار سال بعد آدھے سے زیادہ ہسپتال کی سہولتیں ختم کر دی گئیں جہاں تک برن یونٹ کی سہولت نہ ہونے کی بات ہے تو عوامی اور سیاسی حلقوں کی تنقید اس حد تک تو درست ہے کہ کئی سو کلو میٹر تک برن یونٹ کی سہولت نہ ہونے سے آگ وغیرہ سے جلنے کے واقعات میں متاثرہ افراد کو طویل فاصلہ طے کر کے ملتان پہنچنا پڑتا ہے۔ بہاولپور میں برن یونٹ نہ سہی، چند بیڈز کی سہولت تھی تو اسے مناسب دیکھ بھال اور فنڈز کی فراہمی سے فنکشنل رکھنے کی ضرورت تھی، آخر اِس سہولت کے خاتمے کی وجہ کیا تھی؟احمد پور شرقیہ سانحہ میں آتشزدگی سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد157 ہو چکی ہے جبکہ دو سو افراد زخمی ہیں(تادم تحریر) ۔ یہ تو ایک بہت بڑا حادثہ تھا، اکثر اوقات چند افراد کے جلنے کے واقعات پیش آتے ہیں تو اُنہیں علاج کے لئے ملتان بھیجنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ فوری طور پر بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں برن یونٹس کی سہولت مہیا کرنے کو ترجیح دی جائے تاکہ حادثات اور سانحات ہوں تو فوری طور پر نزدیکی برن یونٹس میں طبی امداد مہیا کی جا سکے۔ یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ جنوبی پنجاب میں بھی کم از کم ایک یا دو برن یونٹس بنائے جائیں۔ اس تجویز کا بھی عملی شکل دینے کے لئے جائزہ لینا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -