مودی، ٹرمپ گٹھ جوڑ، خطرہ، سانحہ احمد پور شرقیہ!

مودی، ٹرمپ گٹھ جوڑ، خطرہ، سانحہ احمد پور شرقیہ!
 مودی، ٹرمپ گٹھ جوڑ، خطرہ، سانحہ احمد پور شرقیہ!

  

عیدالفطر سے لمحوں پہلے وہ حادثہ جانکاہ ہو گیا،لکھا یوں ہی تھا،لیکن نہیں؟ ذرا غور بھی کر لیں، کہ حادثہ تو ہونا تھا،لیکن اتنی جانیں کیوں ضائع ہو گئیں، مرنے والوں کی تعداد 160 تک پہنچ گئی اور اب تو وہ ڈرائیور بھی اللہ کو پیارا ہوا، جو ٹرک یا ٹینکر چلا رہا تھا، اِس خوفناک المیے نے مُلک بھر کو سوگوار کر دیا، عید کے رنگ پھیکے پڑ گئے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے تو عید کی نماز بھی ادھر ہی پڑھی، وزیراعظم اپنا نجی دورہ ادھورا چھوڑ کر اپنے طیارے میں واپس آ گئے اور سیدھے بہاولپور ہی پہنچے، جہاں انہوں نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور حالات سے آگاہی حاصل کی، آرمی چیف اور ائر چیف نے بھی تعزیت اور عیادت کی، مرنے والوں کی تدفین اور زخمیوں کے علاج کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے اور مالی امداد بھی ہوئی، گزشتہ روز وزیراعلیٰ دوبارہ گئے اور چیک تقسیم کئے، مُلک بھر سے تعزیت کی گئی۔

یہ سب تو ہوا، تاہم ایک پہلو پر بوجوہ بات سے گریز کیا گیا تو سوشل میڈیا میں بعض حضرات نے سوال اُٹھا ہی دیا، مسئلہ یہ ہے کہ ٹینکر الٹ گیا، پٹرول بہنے لگا، کھیتوں کی کیاریوں میں پانی کی صورتِ حال پیدا ہو گئی، جلد ہی قریبی گاؤں سے لوگ بالٹیاں، برتن اُٹھا کر پٹرول لے جانے آ گئے، موٹر سائیکل والے اپنی سواریاں لے آئے،بعض کار سوار تماشہ دیکھنے رُک گئے۔ یوں جائے حادثہ پر سینکڑوں لوگ درجنوں موٹر سائیکلیں اور چند کاریں بھی اگلے وقت کے انتظار میں رُک گئیں اور پھر وہ سب ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ کسی لاپرواہ کی سگریٹ سے ایسا ہوا، پٹرول نے آگ پکڑی اور پلک جھپکنے میں موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور پٹرول لینے والے سینکڑوں لوگوں کو لپیٹ میں لے لیا، پھر کوئی فریاد سننے والا بھی نہیں تھا، ہزاروں لیٹر پٹرول جہنم کی آگ والی صورت اختیار کر گیا اور لوگ جھلستے چلے گئے، موقع پر جاں بحق ہونے والوں کی شناخت مشکل ہو گئی اور بدقت جن افراد کو علاج کے لئے منتقل کیا گیا وہ بھی شدید نوعیت کے مریض ہیں، نصف درجن کے قریب زخمی بھی چل بسے اور بعض اب بھی خطرے میں ہیں، کوئی کچھ کہے یہ حادثہ لالچ کی وجہ سے تو پیش آیا، تاہم اس میں جہالت بھی کارفرما تھی کہ پٹرول سے یہی توقع تھی اور سگریٹ پینے والے کو یہ بھی دھیان نہیں تھا کہ تمباکو نوشی سے تو پٹرول پمپ والے مالکان بھی منع کرتے ہیں، حالانکہ وہاں پٹرولیم مصنوعات کھلی نہیں ہوتیں، یہاں تو پٹرول پانی کی طرح بہہ رہا تھا لالچ (جسے اب محرومیت سے منسوب کیا جا رہا ہے) نے عقل پر پردہ ڈال دیا۔

ہم اس حادثے سے ابھی تک سنبھل نہیں پائے۔ طبیعت تو کام پر بھی مائل نہیں ہوتی، لیکن فرائض اپنی جگہ اور حالات اپنی جگہ ہیں، اسی دوران بھارت کے انتہا پسند وزیراعظم مودی نے امریکہ کا مختصر دورہ کیا، مقصود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات تھی جو خود بھی مودی جیسے خصائل کا مالک ہے، بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ ہے، قوم کا بہت بڑا حصہ اسے نفسیاتی مریض قرار دے رہا ہے، اسے کسی کی پرواہ نہیں اور وہ اپنے ہی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ملاقات، مذاکرات اور مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دُنیا کی واحد سپر پاور کے چہرے سے بھی نقاب اُتر گئی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی وزیراعظم مودی سے مل گئے دونوں نے دہشت گردی کو اسلام سے منسوب کر دیا اور کہا دونوں مُلک مل کر ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ کا مقابلہ کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو امریکہ کا حقیقی دوست بھی قرار دے دیا اور مودی کی فرمائش پر حزب المجاہدین کے سربراہ صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دے ڈالا، حزب المجاہدین حریت فکر کی تنظیم اور مقبوضہ کشمیر کو بھات کے غیر آئینی قبضہ سے واگزار کرانے کی حامی ہے، مودی مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی سے بوکھلایا ہوا، ہر حربہ استعمال کر رہا ہے اور یہ بھی ایک حربہ ہی ہے کہ صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دیا گیا تو حزب المجاہدین کو بھی بلیک لسٹ تنظیم قرار دیا گیا ان سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بالادستی کو خطرہ ہے یوں یہ نیا حربہ اختیار کیا گیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بجا طور پر احتجاج کیا ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ یہ سب یکایک تو نہیں ہوا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ مسلسل پاکستان اور مسلمان ممالک کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے، ماض�ئ قریب میں یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ امریکہ، بھارت اور افغان حکومت ایک پیج پر ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ جال بچھانے کی فکر میں ہے اور اس نے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ چار ملکی مذاکرات سے خود کو الگ کر لیا، اس کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر سے آہ و بکا کی آوازیں آنے لگیں۔ مودی انتظامیہ کی مکمل شہ پر بھارتی فوج نے ظلم کے پہاڑ ڈھانا شروع کر دیئے، مقبوضہ کشمیر میں تحریک سی بن گئی اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے لگ گئے۔

دفتر خارجہ نے احتجاج کیا اور وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے تنقید کی، وزیراعظم شاید یوں کچھ نہیں کہہ سکے کہ لندن میں غیر ملکی پریس سے بات کرتے وقت مودی، ٹرمپ ملاقات نہیں ہوئی، اب ان سے پالیسی بیان مانگا جا رہا ہے۔ یہ تشویش ناک صورتِ حال ہے، اِس دوران مُلک کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی اور یہاں اس انسان ہی کو ’’قتل‘‘ کیا جا رہا ہے جو دُعا کے لئے مراقبے میں بھی رہا۔کیا ضروری ہے کہ یہاں چاروں اوٹ محاذ آرائی ہو، مسلم لیگ(ن) تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے علاوہ جے آئی ٹی اور عدالت عظمیٰ سے بھی نبرد آزما ہے اور کھل کر تنقید کی جا رہی ہے، حالانکہ وہ فیصلے کی طرف بڑھ رہے ہیں،جہاں مسلم لیگ (ن) کو عدلیہ سے محاذ آرائی نہیں کرنا چاہئے وہاں مخالف فریقوں کو بھی قوی اور آئینی حوالوں سے بات اور کوشش کرنا چاہئے چہ جائیکہ تحریک کی بات کی جائے۔

حکومت کے لئے یہ لمحہ فکریہ بھی ہے۔ ملکی دانشور اِس سلسلے میں خاموش ہیں تاہم دہشت گردی کا خاتمہ ضروری اور’’مَیں‘‘ کی نفی ہونا چاہئے اور اَنا چھوڑ کر قومی مصالحت اور وحدت کے لئے سب سے بات کرنا چاہئے، مکالمہ ضروری ہے اور یہ ایک مخصوص دائرہ کار میں ہونا چاہئے۔

مزید :

کالم -