ہر آن بڑھتا ہی جاتا ہے رفتگاں کا ہجوم

ہر آن بڑھتا ہی جاتا ہے رفتگاں کا ہجوم
 ہر آن بڑھتا ہی جاتا ہے رفتگاں کا ہجوم

  

دُنیا فانی ہے اور جان بھی اک دن جانی ہے اس لئے کہا گیا، کر ڈال جو دل میں ٹھانی ہے مگر بعض اوقات جو دل میں ٹھانی ہوتی ہے اس کے تکمیل پذیر ہونے کی مہلت بھی اجل نہیں دیتی۔ اس کیفیت میں دو تازہ شعر قطعے کی صورت میں وارد ہوئے!

عجیب چیز ہے دُنیا کہ جس کے آنگن میں

کوئی بھی پُھول کبھی جاودِاں نہیں کھلِتا

ذرا سی دیر میں خواب و خیال ہوتا ہے

کسی کی آمد وُ شد کا پتا نہیں ملتا

ناصر زیدی

سہ ماہی ’’انشا‘‘ حیدر آباد (سندھ) آیا تو جنوری تا جون2017ء کے شمارے کے اداریے میں یہ خبر بھی لایا کہ نصیر کوٹی بھی اسی سال کے گزشتہ مہینوں کے شب و روز میں اِس جہانِ فانی سے ر خصت ہو گئے۔ وہ کراچی کے بزرگ اساتذہ شعراء میں سے تھے اور حضرت بہار کوٹی کے جانشین تھے تین شعری مجموعوں کے خالق تھے جن میں سے ایک ’’شہرِ آرزوِ‘‘ اُن کے دستخطوں کے ساتھ میری ذاتی لائبریری میں مدتوں سے موجود ہے۔ وہ ہندوستان سے ہجرت کر کے کراچی میں آ کر مقیم ہوئے تھے اور یہیں درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہ کر سپردِخاک ہوئے۔۔۔!

نصیر کوٹی نے کراچی میں اپنے اُستادِ گرامی حضرت بہار کوٹی کے نام پر ایک ادبی تنظیم ’’بہارِ ادب‘‘ کے نام سے قائم کر رکھی تھی جس کے زیر اہتمام برسوں شاندار شعری نشستوں اور بڑے مشاعروں کا بھی اہتمام ہوتا رہا، ایسے ہی کسی ایک مشاعرے میں شرکت کا مجھے بھی موقع ملا تھا اور وہیں اُنھوں نے اپنا شعری مجموعہ ’’شہر آرزو‘‘ عنایت کیا تھا۔ جب ہمارے ایک دوست جمیل گشکوری نے اپنے اولین مجموعہ کلام کا نام اتفاق سے ’’شہر آرزو‘‘ رکھ لیا تو مَیں نے وہ مجموعہ انھیں دکھایا اَور اُنھوں نے اپنے مجموعے کا بنا ہُوا ٹائٹل ضائع کر کے دوبارا اَور نام سے اپنا مجموعہ چھپوایا مگر اس چکر میں میری کتاب’’شہر آرزوِ‘‘ مدتوں ان کے پاس یرغمال رہی اور برسوں بعد وہ معجزانہ طور پر واپس مل سکی۔۔۔’’معجزانہ‘‘ اِس لئے کہ کوئی بھی عاریتاً لے کر کبھی کتاب واپس نہیں کرتا اور وہ بھی اتنے برسوں بعد کہ اس کتاب کے وجود سے عدم میں چلے جانے کے امکانات واضح تھے۔جمیل گشکوری واحد شریف آدمی ٹھہرے اگر وہ کتاب نہ لوٹاتے تو اِس وقت مَیں نصیر کوٹی کے مجموعہ کا نام بھی اپنے قارئین کی نذر نہ کر سکتا۔

محب عزیز کنول فیروز نے فون پر اطلاع دی کہ اتوار18جون2017ء کو لندن میں خان پرویز80سال کی عمر میں چل بسے۔لندن، امریکہ میں قبرستان اور گورکنوں کی بھی اتوار کی چھٹی ہوتی ہے لہٰذا یقینی طور پر تدفین اگلے روز پیر19جون کو ہوئی ہو گی۔ خان پرویز 60ء کی دہائی میں سرگودھا سے لاہور آئے تو فریش ٹی سال/نگینہ بیکری پاک ٹی ہاؤس میں اُن کے ساتھ کنول فیروز اظہر جاوید اور یونس جاوید کے ساتھ ہماری اکثر چوکڑی جمتی تھی۔ خان پرویز کے والد پولیس افسر تھے۔لیکن خان پرویز سخت گیر پولیس افسر باپ کی سخت گیری کے باوجود شاعر ہوئے، شاعر کے طور پر ایک مجموعہ کلام بھی بعنوان ’’ زندہ دارِ وامنِ شب‘‘ کنول فیروز کے ذریعے چھپوایا۔ اس کا دیباچہ مجھ سے لکھوایا۔ خان پرویز کا ایک شعر ہے۔

یہ تیری آمد ہے فصلِ گُل ہے وگرنہ ہر پھول مضمحل ہے!

مری بہاروں کی شاہزادی تجھی سے گلشن میں تازگی ہے

پنجابی کے معروف و مقبول شاعر اقبال زخمی ایک غریب، نادار مگر انتہائی خود دار عوامی شاعر تھے۔ پنجابی زبان میں ایک رسالہ بھی ’’لکھاری‘‘ کے نام سے نکالتے تھے جسے اُن کے صاحبزادے ارشد اقبال ارشد جاری رکھے ہوئے ہیں، ارشد اقبال ارشد کا ایک بیٹا ایم بی بی ایس کر کے ڈاکٹر بنا اور برسر روزگار ہو گیا تھا کہ اچانک ایک ٹریفک حادثے میں لقم�ۂ اجل بن گیا۔ بقول ارشد اقبال ارشد جب سب دلّدر دُور ہونے کے دن تھے تو قدرت نے یہ سہارا چھین لیا۔ اس موقع پر مجھے ناطق گلاؤٹھوی کا ایک شعر یاد آ رہا ہے:

ساتھ بھی چھوڑا تو کب جب سب بُرے کٹ گئے

زندگی! تُو نے کہاں آ کر دیا دھوکا مجھے!

رانا نذر الرحمن کی قیام گاہ پر 8مارچ2017ء کو جب مَیں عیادت کے لئے گیا تو وہ امریکہ میں اپنے ڈاکٹر بیٹے سے فون پر بات کر رہے تھے، علالت کے باوجود آواز کا والیم پیک پر تھا۔ بتا رہے تھے اپنے ڈاکٹر بیٹے کو:

’’نیند کبھی آتی ہے کبھی نہیں آتی ہے، آتی ہے تو آنکھ کُھل جاتی ہے/بیٹے سے کہہ رے تھے‘‘ مَیں نے کبھی شرک نہیں کیا۔ باہر بارش ہو رہی تھی اولے پڑ رہے تھے،موسم کا حال بتاتے بتانے نجانے کس بات پر بیٹے کو کسی سائنسی موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے بتایا کہ47ہزار کہکشائیں ہیں۔ مَیں اس گفتگو پر دَم بخود تھا۔۔۔!

مختار مسعود15دسمبر1926ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔15اپریل2017ء کو لاہور میں 93برس کی عمر میں انتقال کیا۔ زندگی اور موت میں15کا ہندسہ مشترک رہا:

روز وحشت ہے مرے شہر میں ویرانی کی

اب کوئی بات نہیں، بات پریشانی کی

باقی احمد پوری

اس صورت حال میں جمال احسانی کا یہ شعر حسب حال ہے:

ہر آن بڑھتا ہی جاتا ہے رفتگاں کا ہجوم

ہُوا نے دیکھ لئے ہیں چراغ سب میرے

مزید : کالم