حامد میر کا خون ہی ایسا ہے

حامد میر کا خون ہی ایسا ہے
 حامد میر کا خون ہی ایسا ہے

  

حامد میر ہمارے استاد گرامی، ممتاز دانشور اور حریت فکر کے ایک عظیم مجاہد پروفیسر وارث میر کا بیٹا ہے۔ وارث میر شعبہ صحافت پنجاب یونیورسٹی میں اپنے عِلم کی گہرائی ، فکر وتدبر اور درویشانہ مزاج کی وجہ سے سب سے بڑھ کر مقبول استاد تھے، چونکہ ان کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔ اس لئے ہمیں وہ اپنے دوسرے شاگردوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی عزیز رکھتے تھے۔ اگرچہ محبت وہ اپنے تمام شاگردوں ہی سے کرتے تھے اور ہر شاگرد بھی ان پر جان و دل سے نثار اور ان کی خوئے دلنولزی کا اسیر تھا۔ میرے لئے تو وہ ایک شجر سایہ دار تھے۔ ان کی مسافر نوازی کا یہ عالم تھا کہ کہ اکثر اپنے گھر کھانے پربلالیتے۔ یہ میں 1983ء سے لے کر 1985ء کے دور کی بات کررہا ہوں۔ حامد میر اس وقت سترہ اٹھارہ سال کا نوجوان ہوگا، اگرچہ مقدارِ عمر کے اعتبار سے حامد میر کی زندگی میں 32سال کا اضافہ ہو چکا ہے اور اب یقینی طور پر اس کی عمر 50سال سے کچھ زیادہ ہی ہوگی، لیکن معلوم نہیں اس کے حوالے سے میرے یہ احساسات کیوں ہیں کہ حامد میر آج بھی مجھے اپنے عالم شباب جیسا ہی نظر آتا ہے۔ وہ یقیناًاب اپنے تجربے اور عمر کے اعتبار سے ایک پختہ کار اور میدان صحافت کا ایک یکتا و منفرد کردار ہے، مگر اس کے چہرے کی معصومیت آج بھی قائم و دائم ہے۔ شاید وہ حرفِ صداقت لکھنے اور بولنے والا ایک بیباک صحافی ہے، اس لئے اس کے چہرے کی تروتازگی اور نرماہٹ اب بھی برقرار ہے۔ میرا یہ تجربہ اور مشاہدہ ہے اور مجھے یقین ہے اورآپ بھی مجھ سے اتفاق کریں گے کہ جھوٹ اور مسلسل جھوٹ لکھنے والے صحافیوں کے چہروں پر میں نے رونق نہیں دیکھی اور یہ ممکن ہی نہیں کہ سچ لکھنے اور حرمتِ قلم پر یقین رکھنے والے صحافیوں کا رنگ روپ، چمک دمک، خوبصورتی، چہل پہل، بہار اور جوبن کبھی غائب ہوا ہو۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ حامد میر میرے استاد گرامی وارث میرکے تمام اوصاف کا وارث ہے، لیکن حریت فکر کی جو میراث حامد میر نے اپنے عظیم باپ سے پائی تھی، اس کی حفاظت حامد میر نے ضرور کی ہے۔

علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ:

باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبرہو

پھر پسر قابلِ میراثِ پدر کیونکر ہو

دمِ تحریراور دمِ گفتار جب میں حامد میر کو عدل اور اعتدال کے ساتھ کسی صاحبِ اقتدار و اختیار سے ڈرے بغیر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے فخر محسوس ہوتا ہے کہ حامد میر نے اپنے سراپا کردار باپ وارث میر کے بیٹے ہونے کا حق ادا کردیا ہے۔ بعض اوقات حامد میر خطرناک حد تک سچ بول دیتا ہے۔ ایسی حق گوئی کا اظہار اپنی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر ممکن نہیں۔ سچائی کی شمعیں روشن رکھنا ہوں تو اس میں اپنے دل کا لہو جلانا ہی پڑتا ہے:

ان میں لہو جلا ہو ہمارا کہ جان و دل

محفل میں کچھ چراغ فروزاں ہوئے تو ہیں

پاکستان میں سچ کا راستہ مقتل سے گزر کر جاتا ہے۔ جن کو جان چلی جانے کا خوف ہو وہ اس راہ پر نہیں چل سکتے۔ حامد میر کا خون ہی ایسا ہے کہ یہ مٹ تو سکتا، فنا تو ہو سکتا ہے، لیکن حق گوئی سے اسے باز کرنا ممکن نہیں۔ یارلوگوں نے حامد میر کو مقتل سے گزار کر بھی دیکھ لیا ہے، لیکن اس کی ثابت قدمی اور مستقل مزاجی میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ خدا اسے ایسے ہی مستقیم الاحوال رکھے تاکہ قیامت کے دن اسے اپنے باپ وارث میر کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ہمارے قابل فخر استاد وارث میر مرحوم نے بھی اپنی آخری سانس تک آزادی صحافت کی جنگ کو جاری رکھا تھا۔ انہوں نے بھی جان دینا گوارا کرلیا تھا، لیکن حق وصداقت کے پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا تھا۔ وارث میر اور حامد میر دونوں باپ بیٹوں پر یہ مصرع صادق آتا ہے۔

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق

حامد میر میں مَیں نے وارث میر جیسا درویشانہ اور قلندرانہ رنگ تو نہیں دیکھا، مگر یہ بھی غنیمت ہے کہ اس نے کبھی حکمرانوں کے حاشیہ برداروں اور وظیفہ خواروں میں شامل ہونا پسند نہیں کیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نواز شریف نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوسرے دور میں حامد میر کو وزیراعظم ہاؤس میں بلاکر پی ٹی وی کا ڈائریکٹر نیوز بننے کی پیش کش کی تھی، لیکن حامد میر نے اس دام میں گرفتار ہونے سے صاف انکار کردیا تھا۔ ایک تیس اکتیس سال کے نوجوان صحافی کو خود ملک کا وزیر اعظم ایک پرکشش عہدے کی پیش کش کرتا ہے، لیکن حامد میر کے لئے اپنے قلم اور ضمیر کی غلامی قابل قبول نہیں تھی۔ جب وارث میر کے بیٹے نے ان چکروں میں پھنسنے سے انکار کردیا تو حکومت کی طرف سے اس سے بڑا ’’تحفہ‘‘ اور ’’ہدیہ‘‘ حامد میر کو قبول کرلینے کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن حامد میر نے اپنے سچ کی یہ قیمت قبول کرنے سے بھی معذرت کرلی۔ حامد میر اگر حکومت کی یہ پیش کش قبول کرلیتا تو اس کی دولت اور جائیدا دوں میں تو بے پناہ اضافہ ہو سکتاتھا، لیکن ایک صحافی کے طور پر اس کی عزت ختم ہو جاتی۔ یہ اپنی اپنی ترجیحات کی بات ہے کہ کوئی عزت قبول کرلیتا ہے اور کوئی دولت۔ جو صحافی بک جاتے ہیں، پھر حکمرانوں کے حکم پر یا اہل اقتدار کی خوشنودی کے لئے سیاہ کو سفید، گدھے کو گھوڑا اور ظلمت کو روشنی لکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جو صحافی اپنی قیمت وصول کرلیتے ہیں پھر وہ حکمرانوں کے قدموں پر سجدہ کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ ایسے صحافی پھر وہی کچھ لکھتے ہیں، جسے پڑھ کر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لوگ جھوم اٹھیں۔لیکن جن صحافیوں کی حامد میر کی طرح وفاداری کا رشتہ پاکستان اور اس کے عوام سے ہوگا، وہ منڈی کا بکاؤ مال بننے سے انکار کردیتے ہیں۔ پاکستان میں فوجی حکمران ہوں یا جمہوریت کے ذریعے منتخب ہونے والے اہلِ اقتدار، تنقید کرنے والے صحافیوں سے یہ دونوں ہی ناخوش اور خفا رہتے ہیں۔ جب نواز شریف کا بطور وزیر اعظم پہلا دور تھا تو حکومت کے خلاف لکھنے والے کچھ صحافیوں سے وہ سخت ناراض تھے۔ حامد میر بھی نواز شریف کے ناپسندیدہ صحافیوں میں شامل تھے۔ اس دور میں حکومت کی طرف سے حامد میر کو جنگ سے نکلوانے کی کوشش بھی کی گئی۔ گویا جو صحافی حکمرانوں کی ہاں میں ہاں ملانے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ پاکستان میں حکومتیں ایسے صحافیوں کے روزگار کی بھی دشمن بن جاتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کا دوسرا دور تھا کہ حامد میر نے اخبار میں ایک کالم لکھا۔ جس میں ایک بہت بڑے اسکینڈل کو بے نقاب کیا گیا تھا۔ یہ کالم ایسا جرم بن گیا، یعنی ہمارے ملک میں بڑی سے بڑی کرپشن کرنا جرم نہیں، بلکہ کرپشن کی نشاندہی کرنا جرم ہے۔ حامد میر کو اخبار سے فارغ ہونا پڑا اور اسے بتایا گیا کہ آصف زرداری نے اس کو اخبار سے نکلوایا ہے، لیکن بے نظیر بھٹو کی معلومات کچھ مختلف تھیں۔ ممکن ہے حامد میر پروار کسی اور نے کیا ہو، لیکن نام آصف علی زرداری کا لگادیا گیا ہو۔ ہمارے ہاں صحافت کے شعبے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بعض اخبارات کے مالکان اپنے مفادات پر اپنے ہی کارکن قربان کردیتے ہیں۔ ایک المیہ حامد میر کا بھی ہے۔ اس کو کوئی بھی سیاست دان اپنا دوست نہیں سمجھتا۔ جب ٹی وی پر اپنے پروگرام میں حامد میر کسی سیاست دان جس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں شامل ہیں، سے سوال کرتا ہے تو وہ کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتا۔ جن سوالات کا جواب سیاست دانوں کے پاس نہ ہو وہ اس سے پریشان ہوتے اور ایسے انٹرویو نگار کو سخت ناپسند کرتے ہیں، مگر جن صحافیوں کی اپنے پیشہ کے ساتھ سچی کومٹ مینٹ (Commitment)ہو وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ کون ان سے ناراض ہوتا ہے اور کون خوش رہتا ہے۔

بعض سیاست دان بالخصوص اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لوگ حامد میر کو ایک خطر ناک صحافی قرار دیتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اکثر اوقات وزیروں اور مشیروں کے پاس بھی وہ معلومات نہیں ہوتیں جو اطلاعات حامد میر کو ہوتی ہیں۔جب وزیر اور مشیر حضرات کی معلومات حامد میر کے مقابلے میں کم ہوں گی تو ان کا خوف زدہ ہونا ایک فطری بات ہے۔ حامد میر قطعی طور پر خطرناک نہیں۔ حامد میر کا زیادہ باعلم ہونا، زیادہ باخبر ہونا اور اس کے پاس معلومات کا زیادہ خزانہ ہونا اس کی اصل طاقت ہے۔ کسی صحافی کے تبصرے، تجزیے، مضمون، فیچر اور کالم میں بھی جان اسی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے، جب اس کا علم اور معلومات زیادہ ہوں گی۔ علم اور معلومات اس کی زیادہ ہوتی ہیں جو کتابیں پڑھنے کا بے پناہ ذوق رکھتا ہو۔ حامد میر کے گھر میں کتابوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے اور وہ کتابیں پڑھتا نہیں، بلکہ کتابوں کو چاٹ جانے پر یقین رکھتا ہے۔ وہ بنیادی طور پر رپورٹر ہے اور خبر کی تلاش و جستجو اسے ہر وقت چوکنا اور بیدار رکھتی ہے۔ اکثر اوقات اس کے کالم بھی ایسے ہوتے ہیں، جیسے اخبار کے صفحہ اول کی کوئی خبر۔ اس کے کالموں کے زیادہ مقبول ہونے کی وجہ بھی یہ ہے کہ ان کے مطالعہ سے قومی سیاست کے بہت سارے خفیہ اور پوشیدہ راز قاری پرمنکشف ہوتے چلے جاتے ہیں۔ پھر محنت ایک بنیادی عنصر ہے، جس نے حامد میر کی کامیابیوں اور کامرانیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حامد کا یہ کہنا بھی سوفیصد درست ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا جو خصوصی فضل و کرم ہے، وہ اس کی والدہ مرحومہ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ وارث میر مرحوم کے نقوش حیات بھی قدم قدم پر حامد میر کے راہنما ہیں۔ اس نے اپنے باپ کی اس وصیت کو کبھی فراموش نہیں کیا کہ ’’میرے بچے اسلام اور پاکستان کی جنگ جاری رکھیں گے‘‘۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ صحافت کے اس مرد آزاد کو اپنی حفاظت رکھے۔ آمین

مزید : کالم