پروفیسر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری (1) نابغۂ روزگار اسکالر اور انسان دوست شخصیت

پروفیسر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری (1) نابغۂ روزگار اسکالر اور انسان دوست شخصیت
 پروفیسر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری (1) نابغۂ روزگار اسکالر اور انسان دوست شخصیت

  

’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ کے مدیر اعلیٰ الطاف حسن قریشی نے ایک مضمون میں پروفیسر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کو ’’عظمت کا کوہِ گراں‘‘ لکھا ہے تو اسے مبالغہ نہیں کہا جاسکتا۔ بلکہ یہ ایک حقیقت کا اظہار ہے۔ ڈاکٹر انصاری واقعی علمی دنیا کا وہ قابلِ فخر کے سپوت تھے، جن پر پاکستان اور دنیا کی اعلیٰ ترین جامعات اور تحقیق کرنے والے علمی ادارے اور حلقے ہمیشہ فخر کریں گے۔ اور مؤرخ ان کی علمی اور تحقیقی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرنے پر مجبور ہوگا۔ میں اپنی علمی کم مائیگی کے باعث ان کے مقام و مرتبہ اور حیات و خدمات پر مفصل بات کرنے کی اہلیت و صلاحیت نہیں رکھتا ۔ یہ کام اہلِ علم کے کرنے کا ہے اور وہی کریں گے۔ میں تو معروضات پیش کرتا چاہتا ہوں، جن کا تعلق خالصتاً میرے مشاہدے سے ہے۔

ڈاکٹر ظفر اسحٰق انصاری اپنے علمی مقام و مرتبہ اور اعلیٰ شخصی خوبیوں کے باعث عالمی درسگاہوں اور علمی حلقوں میں راست فکر، راست گو اسکالر کے طور پر مانے اور جانے جاتے تھے۔ اُن کو اسلامی فکر کا حامل ماہرِ تعلیم و محقق تعلیم کہا جاتا تھا۔ اسلامی قانون کے شعبے میں بھی عالمی سطح پر اُن کی خدمات کو جہاں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا وہاں عالمی سیاست کے منظرنامے پر بھی اُن کی تجزیاتی نظر تھی۔ آزادی کی عالمی تحریکوں کا مطالعہ بھی اُن کے موضوعات میں شامل تھا۔ خصوصاً پاک و ہند کی آزادی کی تحریکات اور عالم عرب میں چلنے والی تحریکوں کے عروج و زوال کی داستان اُن کو ازبر تھی۔ انہوں نے نصف صدی قبل ان تحریکوں کا جائزہ عرب ممالک میں جاکر لیا تھا۔ انہوں نے بین الاقوامی کانفرنسوں میں جو مقالے پڑھے اور کلیدی خطبے دئیے اُن کے تجزیے اور اخذ کردہ نتائج نہ یک رُخے ہیں اور نہ ہی ان میں خواہشات و تعصبات کی جذباتیت کا کوئی شائبہ موجود ہے۔ تمام کے تمام مبنی بر حقائق اور صداقت کے ترجمان ہیں۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری نے تدریسی سطح پر مذہبی فکر کی اس انداز سے آبیاری کی کہ طلبہ غور و فکر پر مجبور ہوئے اور آج بھی ہر طرف اسی رائے کا شہرہ ہے۔ وہ ایک بالغ نظر ماہر سماجی علوم تھے، اس لیے اُن کو نئی نسل کی راست خطوط پر تربیت کی فکر دامن گیر رہتی تھی۔ ڈاکٹر انصاری جن تدریسی اور علمی اداروں سے وابستہ رہے، اُن اداروں کے در و بام آج اُن کے انتقال پر اداس ہیں کیوں کہ اب اِن اداروں میں نصف صدی سے گونجنے والی آواز خاموش ہوگئی ہے۔

گزشتہ پچاس برس تک مجھ کو اُن کی اور اُن کے والد مرحوم مولانا ظفر احمد انصاری کی شفقت اور محبت حاصل رہی۔ اُن کا انتقال 24؍اپریل 2016ء کو اسلام آباد میں ہوا تھا، لیکن آج ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے باوجود میں ابھی تک خود کو اس صدمے سے بحال نہیں کرسکا ہوں۔ اپنی منتشر یادوں کو لکھنے کی کوشش کے باوجود میرا ذہن خیالات کو مربوط نہیں ہونے دے رہا ہے، وہ تعلق جو مجھے مرحوم ظفر اسحق انصاری سے رہا ہے اُس کا تقاضا ہے کہ میں کچھ تو لکھوں تاکہ گزشتہ محبتوں اور صحبتوں کا قرض ادا ہوسکے۔

ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کی شخصیت علمی اعتبار سے تو اپنے معاصر اہلِ علم میں بلند قامت اور راسخ فکر کی حامل تھی ہی لیکن وہ اپنے اعلیٰ شخصی اوصاف کی بنا پر بھی ایک بڑے انسان تھے۔ ایک دل کش انسان، سراپا محبت اور خلیق و ملنسار انسان۔ ایسے انسان کم ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اُن کے لہجے میں نرمی و شائستگی پیوست تھی۔ گفتگو اس قدر سنجیدہ اور باوقار انداز میں کرتے تھے کہ آدمی ہمہ تن گوش اُن کی گفتگو سنتا رہتا تھا۔ انہی اوصاف نے اُن کے اندر دلربائی کا ایک ایسا جوہر پیدا کردیا تھا کہ اُن سے ملاقات کرنے والا ہر شخص اُن کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔ اگر میں یہ کہوں کہ یہ تمام اوصاف اُن کو اپنے والدِ مرحوم میں ورثے میں ملے تھے تو بے جا نہ ہوگا۔ کیوں کہ ایک طویل عرصے تک مجھے مولانا ظفر احمد انصاری مرحوم کی صحبت میں بیٹھنے کا شرف حاصل رہا ہے۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق کو خدا نے ایسی بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا جو خدا اپنے شکر گزار بندوں اور دوسروں کے کام آکر خوشی و طمانیت محسوس کرنے والے انسانوں کو ہی عطا کرتا ہے۔ وہ انسانیت اور انسانوں سے محبت کرنے والے باعمل مسلمان تھے۔کچھ شخصیات نہ صرف قابلِ رشک ہوتی ہیں بلکہ اپنے رابطے میں آنے والے افراد پر اپنے علم و تدبّر، اخلاق و شرافت اور فہم و ادراک کا ایسا تاثر قائم کرتی ہیں کہ اُن سے رابطے میں جو افراد آتے ہیں وہ اپنی کردار سازی کے لیے انہیں اپنا آئیڈیل بنالیتے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری اور اُن کے والدمرحوم میں بھی یہ صفت اپنی پوری رعنائی کے ساتھ جلوہ گر رہی۔ انہی صفات کی بنا پر جو شخص بھی اُن سے قربت اختیار کرتا تھا وہ اپنی آخری سانس تک اُن سے جڑا رہتا تھا۔ میں اپنا شمار بھی ایسے ہی اشخاص میں کرتا ہوں جو اِن دونوں عظیم المرتبت باپ بیٹے سے پہلی ملاقات کے بعد سے ہی ان کی فہم و فراست اور شفقت و محبت کا ایسا اسیر ہوا کہ آج بھی بادیدۂ نم اُن کی یادوں کے حجلۂ انوار میں بیٹھا ہوا ہے۔

ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری علم سے بھرے ہوئے انسان تھے، لیکن کسی نے بھی اُن کو کبھی تفاخر پسند نہیں پایا۔ انکساری، عاجزی اور دھیمی آواز میں اپنے علمی خیالات کا اظہار اُن کی فطرتِ ثانیہ بن گئی تھی۔ وہ روایت کے تسلسل کے قائل بھی تھے اور اس پر عمل پیرا بھی رہتے تھے۔ مگر اس کے باوجود تفسیر کے تقاضوں کو ہمیشہ مدنظر رکھتے تھے۔ ڈاکٹر انصاری مسلمانوں کے علمی زوال کی طرف سے فکر مند ضرور رہتے تھے، مگر وہ صرف اس صورتحال کی نوحہ خوانی کے بجائے اس کے تدارک کے لیے نوجوانوں کو علمی و تحقیقی میدان میں آگے بڑھانے پر توجہ دینے کے قائل تھے اور اس کام میں وہ اپنی بساط سے بڑھ کر آخری سانس تک مصروفِ عمل رہے۔ ایک اور خوبی اُن میں یہ تھی کہ وہ اپنے یا کسی اور کے تجزیاتی نتائج سے خوفزدہ نہیں ہوتے تھے اور حق و صداقت کے آگے سرتسلیم خم کردیتے تھے۔ مشرق و مغرب کے علمی دھاروں سے استفادے نے جہاں اُن کو راسخ العقیدہ مسلمان بنادیا تھا وہاں اُن کے اندر انسان دوستی کو بھی بہت پختہ کردیا تھا۔ اُن کی فکر میں سخت گیری نہیں تھی بلکہ ایک ایسی ملائمت تھی جو ہر لمحہ اُن کی ہردلعزیزی میں اضافہ کرتی رہتی تھی۔ انہوں نے کبھی اپنی شخصیت کو مرکز نہیں بننے دیا بلکہ ہمیشہ کوشش یہی کی کہ تدبّر، تفکر اور علم و دانش کو مرکزی حیثیت حاصل رہے۔ اُن کو علم و تحقیق کا ذوق ورثے میں ملا تھا، لہٰذا انہوں نے تدریس سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ابتداً انہوں نے اپنے لیے معاشیات کا شعبہ منتخب کیا تھا، لہٰذا 1954ء میں جامعہ کراچی سے معاشیات میں ایم اے کرنے کے بعد اس جامعہ کے شعبۂ معاشیات میں کئی سال تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ اُن کا شمار جامعہ کراچی کے مقبول ترین اساتذہ میں ہوتا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے اپنی تحقیق کا میدان علومِ اسلامیہ کے مضمون ’’اسلامی قانون‘‘ کو بنایا اور پھر انہوں نے اس موضوع کے حوالے سے اپنی تمام عمر بسر کی۔

ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری جہاں اپنے اخلاق اور منکسر المزاجی کی بنا پر اپنے حلقۂ احباب اور طالب علموں کے درمیان ہر دلعزیز تھے، وہاں اُن کی فکر انگیز اور خیالات افروز تحریریں بھی علمی حلقوں میں اپنا ایک مقام و مرتبہ رکھتی تھیں۔ انہوں نے زمانۂ طالب علمی سے ہی اپنی علمی و تحقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا شروع کردیا تھا۔ اب شاید کسی کو یاد بھی نہ ہو کہ ڈاکٹر انصاری اپنے زمانۂ طالب علمی میں انگریزی زبان کے ایک کامیاب صحافی اور ایڈیٹر تھے۔ اُن کی اور پروفیسر خورشید احمد کی مشترکہ ادارت میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر انتظام 1955ء میں ایک رسالہ ’’اسٹوڈنٹس وائس‘‘ نکلا کرتا تھا۔ یہ رسالہ اپنے نظریاتی معیار اور فکری اصابت کی بنا پر طالب علموں میں بہت مقبول تھا اور باقاعدہ فروخت ہوتا تھا۔ اُس زمانے میں اس کی سات ہزار سے زائد کاپیاں پورے ملک میں فروخت ہوا کرتی تھیں۔ ڈاکٹر انصاری کی ’’اسٹوڈنٹس وائس ‘‘ میں شائع ہونے والی تحریروں کو پسند کرنے والوں میں روزنامہ ’’ڈان‘‘ کے مشہور زمانہ ایڈیٹر الطاف حسین اور معروف قانون دان اے کے بروہی بھی شامل ہوا کرتے تھے۔ اے کے بروہی کے ایک مضمون کے جواب میں ڈاکٹر انصاری نے ایک بڑا اہم اور قابل توجہ مضمون تحریر کیا تھا، جس پر اے کے بروہی نے اپنی رائے سے رجوع کرنے کا فراخ دلانہ اعلان کیا تھا۔ انگریزی کے علاوہ ڈاکٹر انصاری کو اُردو، عربی، فارسی، جرمنی اور فرانسیسی زبانوں پر بھی دسترس حاصل تھی۔ معروف اسکالر اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر پروفیسر ممتاز احمد کہا کرتے تھے کہ ’’امریکہ میں بھی کم ہی لوگ ہوں گے جو ڈاکٹر انصاری جیسی انگریزی لکھتے ہوں‘‘۔ اُردو میں بھی وہ نہایت شستہ اور بصیرت افروز مضامین لکھتے تھے جو زبان و بیان کے ہر معیار پر پورے اترتے تھے۔ ڈاکٹر انصاری نے میٹرک تک فارسی پڑھی تھی، مگر اُن کو اس زبان پر ایسا عبور حاصل تھا کہ وہ ایرانی اسکالروں اور دانشوروں سے فارسی میں ہی گفتگو کرتے تھے۔ جن افراد نے ڈاکٹر انصاری کو عربوں سے مکالمہ کرتے ہوئے دیکھا ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ عربوں کے ہی لب و لہجے میں فصیح و بلیغ عربی بولنے پر قادر تھے۔ عربی اور فارسی کا ذوق اُن کو اپنے والد مرحوم اور تایا سے ورثے میں ملا تھا۔ مولانا ظفر احمد انصاری مرحوم اپنے تمام بچوں کے شادی کارڈ عربی اور اُردو میں ہی لکھا کرتے تھے۔ یہ کارڈ مولانا انصاری کی ہی تحریر میں ہوا کرتے تھے۔ کیوں کہ مولانا کا اُردو اور عربی کا خط بڑا دیدہ زیب تھا۔

ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کو اپنے والد کی طرح شاعر مشرق علامہ اقبال کا اُردو اور فارسی کلام ازبر تھا۔ باپ بیٹے دونوں کو علامہ اقبال سے عشق تھا اور وہ علامہ اقبال کو آفاقی شاعر اور ملت اسلامیہ کا محسن کہا کرتے تھے۔ مجھے ڈاکٹر انصاری کے ساتھ جب بھی سفر میں جانے کا شرف حاصل ہوتا تو وہ نہ صرف کلام اقبال با آواز بلند پڑھتے تھے بلکہ اُس کے مطالب و معنیٰ بھی بیان کرتے جاتے تھے۔ اُردو میں بھی اُن کا ادبی مطالعہ وسیع تھا۔ قدیم و جدید شعرا کے اُن کو لاتعداد اشعار یاد تھے اور اکثر وہ یہ اشعار گفتگو کے دوران برجستہ سناکر حیرت میں ڈال دیا کرتے تھے۔ (جاری ہے)

انہیں اقبال کی طرح قائد اعظم کی شخصیت سے بے پناہ محبت تھی۔ ڈاکٹر انصاری کوئی شخصیت پرست یا جذباتی آدمی نہیں تھے۔ انہوں نے اپنے والد محترم کی وجہ سے تحریک پاکستان کو قریب سے دیکھا تھا اور 1946ء کے انتخابات میں میٹرک کے طالب علم کی حیثیت سے مسلم لیگ کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کا موقع بھی ملا تھا۔ انہیں قائد اعظم اور دیگر بانیانِ پاکستان کو قریب سے دیکھنے اور ملنے کا اور تعارف کا اعزاز بھی حاصل رہا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہیں بچپن سے مطالعے، غور و فکر اور سوچ بچار نے ان میں یہ تیقن پیدا کردیا تھا کہ قائد اعظم ؒ ہی وہ مقناطیسی شخصیت ہیں، جن کی قیادت نے مسلمانوں میں وہ تحرک پیدا کیا تھا، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے فکری اور ذہنی انتشار کو ختم کرکے ان کے دلوں میں دبی آزادی کی چنگاری کو شعلہ مستعجل بنایا۔ جس کے بغیر انگریز کے رخصت ہونے کے بعد مسلمانوں کو انگریز کی غلامی سے بھی بدتر غلامی کے شکنجے میں جانے سے بچایا جانا ناممکن تھا۔ ان کے والد تو ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ ’’میں نے تحریک پاکستان میں عملی شرکت کا فیصلہ اس یقین اور شعور کے ساتھ کیا تھا کہ اگر خدانخواستہ مسلمانانِ ہند یہ جنگ ہار گئے تو مسلمانوں کو ہندومت کا اجتماعی بپتسمہ قرار دے کر وہ کچھ کیا جائے گا جس کے سامنے ہسپانیہ میں مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کی تاریخ بھی دنیا بھول جائے گی‘‘۔

معروف صحافی، کالم نگار، ادیب و شاعر طفیل احمد جمالی مرحوم (جو خود بھی تحریک پاکستان میں فعال تھے اور قائد اعظم کے شیدائی تھے) کہا کرتے تھے کہ میں نے ظفر اسحٰق انصاری کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیکھا جو لڑکپن سے ہی معیاری تحریر لکھتا ہو۔ خدا نے ظفر اسحٰق انصاری کو اختصار کے ساتھ بھی لکھنے کا ملکہ دیا تھا اور قلم برداشتہ طویل تحریر لکھنے پر کامل درجہ کی قدرت عطا کی تھی۔طفیل احمد جمالی ہمیشہ کہتے تھے کہ اگر ظفر اسحٰق انصاری زمانۂ طالب علمی کے بعد تدریس کے ساتھ ساتھ اپنی صحافت کو بھی جاری رکھتے تو وہ تعلیم و تحقیق کی طرح صحافت کا بھی ایک بڑا نام ہوتا۔ انہوں نے عملی صحافت میں رہنے کا طفیل جمالی کا مشورہ تو قبول نہیں کیا تھا، مگر وہ زندگی بھر علمی مجلات کی ادارت سے وابستہ رہے۔ وہ دنیا کی اعلیٰ ترین جامعات کے تحت نکلنے والے علمی مجلات کی ادارتی بورڈ میں شریک رہے۔ انہوں نے جن تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی ان کا شمار دنیا کے نامور تعلیمی اداروں میں شامل ہے۔ اور جن جامعات میں پڑھایا ہے اور جن تحقیقی اداروں میں تحقیق، تصنیف و تالیف کا کام کیا ہے وہ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، سعودی عرب اعلیٰ ترین جامعات میں تھیں۔ ان جامعات میں سے ۔۔۔ کی جامعات کا شمار تو دنیا کی دس اعلیٰ ترین جامعات میں ہے۔ ڈاکٹر انصاری 27؍ دسمبر 1930ء کو الہ آباد کے مضافات میں شہر سے چند میل کے فاصلے پر واقع ’’منڑارہ‘‘ نامی گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم اسی گاؤں کے اسکول میں حاصل کی تھی۔ میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ 1946ء میں الہ آباد ہائی اسکول سے پاس کیا تھا۔ باقی تعلیم قیام پاکستان کے بعد فرسٹ ایئر سے لیکر ایم اے معاشیات تک کراچی میں حاصل کی اور ایم اے کرنے کے فوراً بعد جامعہ کراچی میں معاشیات کے لیکچرار ہوگئے۔ جامعہ کراچی نے ہی انہیں مینگل یونی ورسٹی مانٹریال کی اسکالر شپ پر علوم اسلامیہ میں ایم اے کرنے کے لیے کینیڈا بھیجا تھا۔ بعد ازاں وہ دوبارہ مینگل یونیورسٹی کی اسکالر شپ پر کینڈا گئے تھے۔ جہاں سے انہوں نے مشہور مستشرق اسکالر پروفیسر ولفریڈ کینٹ دل اسمتھ کی نگرانی میں ’’اسلامی قانون‘‘ میں پی ایچ ڈی کی۔ ان کے تخصیص کا عنوان تھا:

’’کوفہ میں فقہ کا ارتقاء: امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن شیانی کی تصانیف کا خصوصی مطالعہ‘‘

ڈاکٹر انصاری کی پی ایچ ڈی کو نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ مگر اہل علم ان کی تحقیق کو آج بھی اتھارٹی تسلیم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر انصاری نے جس مینگل یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ اس میں تدریس اور تحقیق کے شعبے سے وابستہ بھی رہے، دیگر دنیا کی جن جامعات میں پڑھایا ہے۔ ان میں امریکہ کی برنسٹن یونیورسٹی، شکاگو یونیورسٹی، آسٹریلیا کی میلبورن یونیورسٹی، سعودی عرب کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی، جدہ دھران کی یونیورسٹی آف پیٹرولیم اینڈ منرلز۔ریاض کی امام محمد بن سعود یونیورسٹی اور بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد ہے۔ ڈاکٹر انصاری 1985ء میں دھران یونی ورسٹی میں ڈین فیکلٹی تاریخ اینڈ شریعہ لا میں فل پروفیسر کی حیثیت میں مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد امام محمد بن سعودی یونیورسٹی میں تاریخ شریعہ اینڈ لا فیکلٹی کے ڈین ہوگئے تھے۔ جہاں سے 1986ء میں بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے صدر (وائس چانسلر) کی خصوصی درخواست پر ریاض یونی ورسٹی نے ڈاکٹر انصاری کی خدمات اپنی یونیورسٹی کی طرف بین الاقوامی اسلامک یونی ورسٹی کو ڈپوٹیشن پر فراہم کردی تھی۔ جہاں آپ فیکلٹی شریعہ اینڈ لا کے ڈین اور شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے وابستہ ہوگئے۔ 1988ء سے لیکر 2008ء تک ڈاکٹر انصاری نے ادارۂ تحقیقات اسلامی (اسلام آباد) کی سربراہی کی۔ ادارۂ تحقیقات اسلامی کا علمی مجلہ (انگریزی زبان میں) ’’اسلامک اسٹیڈیز‘‘ کی آپ نے طویل عرصے تک ادارت کی۔ اس مجلے کا شمار آج دنیا کی اعلیٰ ترین جامعات کے علمی مجلات میں ہوتا ہے۔ یہ مجلہ اب بھی باقاعدگی کے ساتھ ادارۂ تحقیقات اسلامی میں ڈاکٹر انصاری کے جانشین ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ضیاء الحق کی نگرانی میں نکل رہا ہے۔ ڈاکٹر انصاری نے ڈھائی عشرے تک بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی میں شریعہ اینڈ لا فیکلٹی کے ڈین، شریعہ اکیڈمی کے اور ادارۂ تحقیقات اسلامی کے سربراہ۔ اور جامعہ کے نائب صدر (پرووائس چانسلر) اور صدر جامعہ (وائس چانسلر) اور جامعہ کے مختلف ذیلی اداروں کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔ ڈاکٹر انصاری بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی سے آخری سانس تک ’’پروفیسر ایمریطس‘‘ کی حیثیت سے وابستہ رہے۔ اور اپنی شدید علالت کے باوجود تحقیق و تصنیف اور تالیف کے کام میں مصروف رہے۔ آپ نے اپنے انتقال سے چند ماہ قبل ہی یونیسکو کے ایک بڑے اہم علمی پروجیکٹ کے تحت ’’فاؤنڈیشن اسلام‘‘ کی پہلی جلد کا کام مکمل کیا۔ اس کی مزید پانچ جلدیں اور آنی ہیں، جس پر کام ہورہا ہے۔ ڈاکٹر انصاری کا ایک بڑا اہم علمی کارنامہ قرآن پاک کے پیغام کو انگریزی داں طبقے تک پہنچانے کے سلسلے میں ہے۔ وہ ہے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی قرآن پاک کی تفسیر تفہیم القرآن کا انگریزی ترجمہ۔ ڈاکٹر انصاری نے مولانا مودودیؒ کا قرآن پاک کے اُڑدو ترجمہ کا انگریزی میں بہت پہلے مکمل کردیا تھا۔ جو برسوں سے مسلسل شایع ہورہا ہے۔ تفسیر تفہیم القرآن کا انگریزی میں بارہ جلدیں چھپ چکی ہیں، جس میں 26 پاروں کی مکمل تفسیر کا انگریزی میں ترجمہ ہے۔ دو جلدو ں کا کام نامکمل رہ گیا ہے جو وہ اپنی علالت کی وجہ سے مکمل نہ کرپائے۔ جس کا قلق انہیں اپنی رحلت سے چند گھنٹے پہلے تک بھی رہا۔ ان کے بیٹے یاسر انصاری اور بہو سمیرا انصاری نے بھی بتایا کہ جس صبح ان کا انتقال ہوا، اس رات دو بجے شب تک وہ ہم سے اپنے باقی رہ جانے والے علمی کاموں کے حوالے سے باتیں کرتے رہے۔ تفہیم القرآن کی دوجلدوں کا کام نامکمل رہ جانے کے قلق کا ذکر آخری رات بھی انہوں نے کیا۔ ڈاکٹر انصاری کے علمی کام پر کوئی جب تحقیق کرے گا تو صحیح طور پر ہمیں پتا چلے گا کہ ہمارے درمیان سے کتنا بڑا عہد ساز مسلم اسکالر اٹھ گیا ہے، ان کے کام میں کتنا تنوع تھا۔ اس کا اندازہ کرنے کے لیے ان مقالات کے عنوان ہی کافی ہیں جو انہوں نے مختلف مواقع پر ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس میں پڑھے اور علمی مجلات کے لیے لکھے تھے۔ ان کا تحریر کردہ مضمون 1973ء میں ’’انسائیکلوپیڈیا آف برٹینیکا‘‘ میں ’’امام ابوحنیفہؒ کی شخصیت اور ان کا علمی مقام‘‘ شامل کیا گیات ھا، جسے دنیا بھر کے اہل علم آج بھی اس کو اتھارٹی تسلیم کرتے ہیں۔

ڈاکٹر انصار مکالمہ کے آدمی تھے، انہوں نے اپنے امریکہ اور کینیڈا کے قیام کے دوران اس کے لیے ایک ادارہ ’’انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ‘‘ کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کے قائم کردہ ادارے کو آج بھی امریکی مسلمانوں نمائندہ ادارہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

ڈاکٹر انصاری نے درجنوں بین الاقوامی بین المذاہب انٹرنیشنل کانفرنسوں میں پاکستان اور مسلم اسکالرز کی نمائندگی کی ہے۔ ان کا غیر مسلم اسکالرز میں بھی بڑا احترام کیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر انصاری نے بین الاقوامی شہرت کے حامل نامور امریکی اسکالر پروفیسر جان ایس بوذیٹو کے ساتھ مل کر ایک کتاب کی تدوین کی تھی، جس کا موضوع تھا: ’’مسلمان اور مغرب آمنے سامنے‘‘۔ قبل ازیں ڈاکٹر انصاری کے ایک شہرۂ آفاق مقالہ ’’یہود و نصاریٰ سے مکالمہ کی بنیادیں‘‘ نے بھی مسلم اور غیر مسلم اسکالرز کے حلقوں میں بڑی مقبولیت حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر انصاری نے پروفیسر خورشید احمد کے اشتراک سے بھی دنیا بھر کے اسکالرز سے مقالات لکھواکر ایک کتاب مرتب کی تھی، جس کا عنوان تھا: ’’اسلامی منظر نامہ: مطالعہ برائے سید ابوالاعلیٰ مودودی‘‘۔ اس کتاب میں آپ کا تحریر کردہ ایک باب ہے۔ جس میں دو موضوعات پر آپ نے مقالے تحریر کیے ہیں۔

(1) ’’اسلامی اصول قانون پر ابتدائی بحث: کتاب الرد علی سیر الاوذانی کے کچھ نکات‘‘۔

(2)’’مولانا مودودی کا اسلام اور احیائے اسلام کے بارے میں فکر و بصیرت: ایک مطالعہ‘‘۔ دیگر جن موضوعات پر آپ کے تحریر کردہ مقالات نے شہرت پائی، ان میں سے چند کے نام یہ ہیں۔

(1)’’استعمال شدہ پانی کا دوبارہ استعمال اور اسلامی فلسفہ‘‘۔

(2)’’اسلامی قانون کی تشکیل میں قرآن اور پیغمبر علیہ السلام کا کردار‘‘

(3)’’امریکی سیاہ فام مسلمانوں کے مذہبی تصورات‘‘

(4)’’جامعات میں علومِ اسلامیہ کی تدریس: ایک تنقیدی جائزہ‘‘

(5)’’سلطنت عثمانیہ کے دور کے غیر مسلم‘‘

(6)’’اقبال اور مسئلۂ قومیت‘‘

(7)’’مصری قومیت بمقابلہ اسلام‘‘

(8)’’معاصر اسلام اور مسئلہ قومیت: مطالعہ مصر بطور مثال‘‘

(9)’’قرآن کا تصور امت‘‘

(10)’’علامہ تقتازانی کا نقطۂ نظر جبر و قدر‘‘

(11)’’قرآن کی قانونی آیات کا مطالعہ‘‘

(12)’’معاصر احیائے اسلام کا تاریخی پس منظر‘‘

(13)’’حجیتِ حدیث: شاخت کی دلیل سکوتی کا جائزہ‘‘

(14)’’ابتدائی اسلامی قانونی اصطلاحات‘‘

(15)’’۔۔۔۔۔۔تحریک‘‘

(16)’’امام غزالیؒ اور اسلامی حکومت‘‘

(17)’’قرآن مجید کی سائنسی تفاسیر‘‘

یہ ان کے چند مقالات کے عنوان ہیں۔ جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے ہاں موضوعات میں بھی کتنا تنوع تھا۔ ڈاکٹر انصاری نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے۔ وہ ایک بلاقامت علمی شخصیت ہونے کے باوجود خشک کتابی آدمی نہیں تھے۔ ان کی شخصیت میں تصنع تھا نہ ہی دو عملی۔ وہ قول و فعل کے تضاد کے مرض کے بھی شکار نہیں تھے۔ بدقسمتی سے ہمارے مذہبی اور غیر مذہبی علمی حلقوں تک یہ کینسر کے مرض کی طرح بیماری بن چکی ہے، اللہ نے انہیں خود نمائی، خود ستائی اور تعلی سے بھی بچائے رکھا۔ اللہ نے جیسے جیسے ان کی علم کی رفعتوں اور کشادگئ رزق میں اضافہ کیا، ویسے ویسے عجز و انکسار ان کی شخصیت میں مزید نکھار پیدا کرتا چلا گیا۔ ان کی زندگی ایک کتاب کی مانند رہی۔ وہ ایک شگفتہ اور پربہار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ بھی بھرپور وقت گزارتے تھے اور دوستوں اور احباب کی محفل کی بھی رونق رہتے تھے۔ دوستوں اور احباب کی محفل میں ان کی کوشش ہوتی کہ وہ دوستوں کو سنیں۔ مگر ایسا بھی نہ ہوتا تھا کہ کسی کو ان کی موجودگی کا احساس ہی نہ ہو۔ وہ اپنی کم آمیزی کے باوجود ہمیشہ رونقِ محفل رہے۔ ان کے قہقہے کا بھی اپنا ہی انداز تھا۔ مجال ہے کہ کسی محفل میں ان کی زبان سے مجلس میں موجود یا غیر دوست کے بارے میں کوئی ایسا لفظ نکلا ہو جو کسی کی دل آزاری کا موجب بنتا۔ ان میں خدا نے دوستوں کے درمیان پیدا ہونے والی بدگمانیوں اور غلط فہمیوں کو ختم کراکے جوڑے رکھنے کی خداداد صلاحیت عطا کی تھی۔وہ دوسروں کے کام کو معتبر بنانے میں کتنی جان ماری کرتے تھے۔ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے معروف مذہبی اسکالر اور کالم نگار جناب خورشید ندیم نے لکھا ہے کہ:

’’میں نے انہیں ادارۂ تحقیقات اسلامی اور عالمی فکر اسلامی کی بہت کتب کی ایڈیٹنگ کرتے دیکھا۔ یہ واضح ہے کہ اس باب میں ان جیسی محنت کرنے والا خوش ذوق شاید ہی کوئی ہوگا۔ وہ ایک کتاب کے مسودے پر اتنی بار نظر ثانی کرتے کہ اصل متن نظروں سے اوجھل ہوجاتا۔ میں نے ایک کتاب کے آٹھ مسودے دیکھیں ہیں۔ ان کی ایڈیٹنگ کے ساتھ چھپنے والی کتابوں پر مختلف مصنفین کے نام لکھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مصنف کہلوانے کے حق دار تو انصاری صاحب ہی تھے‘‘۔

جناب خورشید ندیم نے ان کے منصب و جاہ سے گریز ۔۔۔۔۔۔کے حوالے سے بھی یہ بات بالکل مبنی برحقیقت لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

’’میں نے دنیاوی مناصب کو ان کے دروازے پر دست بستہ کھڑا دیکھا ہے۔ انصاری صاحب نے پہلے سے انہیں کسی اور کے پتے پر بھیج دیا۔ ان کے کہنے پر کوئی وزیر بنا، کوئی مشیر بنا، کوئی مصنف بنا، کوئی منصب دار۔ وہ خود تمام عمر ان عہدوں سے بے نیاز رہے‘‘۔

خود میرے ذاتی علم اور مشاہدے میں کئی واقعات ہیں کہ جب باپ بیٹوں نے عہدوں و منصب سے اپنا دامن کس طرح بچایا تھا۔ خدا نے ان کی شخصیت میں محبوبیت یوں ہی تو پیدا نہیں کردی تھی۔ وہ دوسروں کو آگے بڑھاکر جو خوشی و اطمینان محسوس کرتے تھے، اس کے بدلے میں خدا نے انہیں نفس مطمئنہ بھی عطا کیا تھا اور رزقِ حلال کے ذریعے کشادگی رزق کی دولت بھی کسی کی دست نگری کے بغیر عطا فرماتی تھی۔ ڈاکٹر انصاری کے گھر میں قیامِ پاکستان مالی تنگ دستی کے کتنے ہی ماہ و سال گزرے ہیں۔ مگر خدا نے اس گھر کا بھرم بھی رکھا تھا اور کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی اذیت سے بھی بچائے رکھا تھا۔ اگر میں یہ بتاؤں تو کوئی یقین نہ کرے گا کہ ظفر اسحٰق انصاری کے چھوٹے بھائی اور میرے جگری دوست ظفر اشفاق انصاری تین ماہ تک اسکول اس لیے نہیں جاسکا تھا کہ اس کے گھر میں اسکول کی یونیفام کے جوتے خرید نے کے جتنے پیسے پس انداز کرنا ممکن تھا۔

مگر اس عالم میں بھی ان کے گھر سے کوئی مہمان بھوکا گیا نہ پیاسا۔ ڈاکٹر انصاری کے والد ہی عظیم انسان نہیں تھے بلکہ خدا نے ان کی والدہ محترمہ کو بھی بڑا انسان درست اور غریب پرور بنایا تھا۔ میرے نزدیک تو وہ کسی ولی اللہ سے کم نہ تھی۔ خدا نے کبھی توفیق دی تو ان کی انسان نوازی اور خدا ترقی کے واقعات کو قلم بند کرکے آنے والی نسلوں کو بتاؤں گا۔ ظفر اسحٰق انصاری جیسے آدمی کیسے پروان چڑھتے ہیں۔ انصاری گھرانے کی منفرد خصوصیت یہ تھی کہ اس گھر میں گھریلو ملازموں کے طور پر آنے والے بھی غریب اور بے سہارا افراد زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوکر سرکاری اور نجی اداروں میں اعلیٰ ملازتوں پر فائز ہوئے، ایسی ایک نہیں درجنوں مثالیں میرے سامنے ہیں۔ جو بچے اس گھر میں گھریلو ملازم کے طور پر آتے اور گھر کے افراد نے ان کو پڑھا کر میٹرک انٹر بی اے، ایم اے اور ایم بی اے تک کرایا۔

ڈاکٹر انصاری کو جب اللہ تعالیٰ برونِ ملک رزق کی کشادگی عطا فرمائی تو انہوں نے اپنے ارد گرد جانے والے محروم لوگوں کا بھی خیال رکھا اور جو قرابت دار صلہ رحمی کے زمرے میں آتے تھے، ان کی ضرورتوں کو بھی اس انداز میں پورا کیا کہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ خدا کسی کی نیکی ک کبھیب ھی ضایع نہیں ہونے دیتا۔ کل ڈاکٹر انصاری اپنے والد کی خواہش پر ایک ہفتے کے اندر اندر امریکہ کی اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے ’’برنسٹن‘‘ یونیورسٹی کی شاندار ملازمت کو خیر باد کہہ کر جامعہ کراچی کی چھ سو کچھ روپے کی ملازمت کرنے واپس چلے آئے تھے تو ڈاکٹر انصاری کا بڑا بیٹا یاسر انصاری نے بھی اپنی والدہ کے انتقال کے بعد والد کی خدمت کرنے اپنا شاندار کیریئر کو خیرباد کہہ کر واپس پاکستان آگیا تھا۔ ڈاکٹر انصاری کو اللہ نے والدین عظیم عطا فرمائے اور سعادت مند اولاد دی۔ اس سے بڑی زندگی میں کون سی نعمت ہے۔ جس کی کوئی تمنا کرے۔ مولانا ماہر القادری مرحوم نے ایک بار ایک مجلس میں کہا تھا کہ ’’انصاری صاحب کتنے خوش نصیب ہیں کسی کو اس کا اندازہ نہیں ہے۔ وہ خود بڑے آدمی ہیں اور ظفر اسحٰق انصاری جیسی اللہ نے اولاد دے دی ہے‘‘۔

ان کا حلقہ تعارف اور حلقہ اتنا وسیع تھا کہ اس کی تفصیل میں جایاجانا بہت مشکل کام ہے۔ ان کے قریب ترین دوستوں کی فہرست بھی اتنی طویل ہے کہ یہ مضمون اس کی تفصیل کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ابتدا میں تین دوستوں کی جوڑی تشکیل پائی تھی۔ ان میں خرم جاہ مراد، ظفر اسحٰق انصاری اورپروفیسر ڈاکٹر خورشید احمد تھے۔ اس جوڑی کے بارے میں کسی مبالغے کے بغیر کہا جاسکتا ہے کہ یہ زندگی کے آخری سانس تک یک جاں تین قالب کے مصداق رہے۔ انتقال سے کچھ دن قبل ڈاکٹر انصاری نے ان کے پوتے سے پوچھا کہ دادا بتاؤ آپ کے کون کون سے دوست بہت قریبی دوست ہیں۔ تو دادا نے خرم جاہ مراد، خورشید صاحب، ڈاکٹر سعید رمضان، ڈاکٹر انیس احمد، ڈاکٹر ممتاز احمد، ڈاکٹر انوار حسین صدیقی، ڈاکٹر منظور احمد، ڈاکٹر قاسم مراد، ڈاکٹر مدثر، ڈاکٹر مذمل سمیت سینکڑوں نام پوتے کو گنوادئیے۔ پھر سوال کیا کہ دادا مجھے یہ بتادیں آپ کا زندگی میں دی بیسٹ فرینڈ کون رہا۔ تو دادا کا جواب تھا خرم، پوتے نے بار بار یہی سوال دھرایا تو دادا کا جواب آتا خرم، جس کے بعد دادا اور پوتے کی آنکھیں خرم کی محبت میں نم ہوگئی تھیں۔

ڈاکٹر ممتاز احمد نے (جو خود ایک نابغہ روزگار اسکالر اور بے پناہ شخصی خوبیوں کے مالک تھے) اپنے انتقال سے چند ہفتے قبل اپنی مرتب کردہ آخری کتاب کا انتساب ڈاکٹر انصاری صاحب کے نام کرتے ہوئے اقبال کا یہ مصرعہ تحریر کیا تھا کہ ’’شاخ گل میں جس طرح بادِ صبح گاہی نم‘‘۔

میں ڈاکٹر انصاری کی عیادت کرنے کراچی سے 12؍مارچ 2016ء کو اسلام آباد گیات ھا۔ یہ میری ان سے زندگی کی آخری ملاقات تھی۔ وہ تازہ تازہ ایک سرجری سے گزر کر آئے تھے۔ جس کی اطلاع پر میں انہیں دیکھنے گیا تھا۔ انہوں نے اپنے بیڈروم میں ہی مجھے بلالیا، لگتا ہی نہ تھا کہ یہ اتنی بڑی سرجری کی تکلیف دہ عمل سے گزر کر آیا ہے۔ چہرے پر حسب سابق اطمینان اور تازگی اور شگفتگی، وہی شفقت و محبت کا عالم، میں نے اجازت چاہی کہ میری موجودگی کی وجہ سے ان کو بے آرامی ہورہی ہے تو کہنے لگے، بیٹھوں میں بھی تھوڑی دیر میں ہسپتال جانے والا ہوں۔ میں وہاں سے نکلا تو نہ جانے مجھے علامہ اقبال کے وہ الفاظ یاد آگئے جو انہوں نے مولانا گرامی کے بارے میں کہے تھے:

’’ لوگو! کو آج مولانا گرامی کو دیکھ لو کل اس پر فخر کرو گے کہ ہم نے مولانا گرامی کو دیکھا تھا‘‘۔ میں بھی اس پر فخر کرو تو کیا حرج ہے کہ میں نے ڈاکٹر انصاری اور ان کے والد کو دیکھا ہے۔

ooo

ڈاکٹر ظفر اسحٰق انصاری کا شمار اسلامی جمیعت طلبہ پاکستان ارکان میں ہوتا ہے۔ جمعیت طلبہ کا دستور بنانے کے لیے تین رکنی ٹیم بنائی گئی تھی، جس میں خرم جاہ مراد (مرحوم)، پروفیسر خورشید احمد اور ڈاکٹر ظفر اسحٰق انصاری شامل تھے۔ ظفر اسحٰق انصاری اسلامی جمعیت طلبہ میں اپنے دونوں ساتھیوں سے سینئر تھے۔ جمعیت کا دستور ان کی مشاورت سے انصاری صاحب نے تحریر کیا تھا، تاہم انصاری صاحب نے خرم جاہ مراد اور پروفیسر خورشید کے برعکس زمانۂ طالب علمی کے کبھی عملی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ اگرچہ عالمِ اسلام میں اسلامی فکر کی احیاء کے لیے کام کرنے والے مسلم دانشوروں اور اسکالرز سے ڈاکٹر انصاری کے رابطے اور شخصی تعلقات ہمیشہ رہے۔

آپ کے بزرگوں کا تعلق مدینہ طیبہ سے تھا۔ شجرۂ نسب حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔ محمود غزنوی کے دور میں ہندوستان آئے۔ غزنوی کے بھانجے سالار مسعود غازی کی فوج میں عرب نژاد فوجی دستے میں شامل تھے ۔ہندوستان آکر الہ آباد کے مضافات میں شہر سے چند میل کے فاصلے پر واقع ’’منٹرادہ‘‘ نامی گاؤں میں آباد ہوگئے تھے۔ قیامِ پاکستانت ک اس خاندان کا مسکن یہی گاؤں رہا۔ معاش کے لیے تجارت کو اختیار کیا۔ اور خدمت کے لیے علم و حکمت اور دعوت و مبلغ کو مشن بنایا۔ ڈاکٹر انصاری کے دادا حافظ فضل الرحمن کا سابق مشرقی پاکستان کے بارسال اور فرید پور میں بڑا اثر تھا، تحریکِ پاکستان میں اس کا فائدہ مسلم لیگ کو ہوا تھا۔

ڈاکٹر انصاری کو اپنے والد کی وجہ سے جہاں مطالعہ کا شوق ورثے میں ملا تھا، وہیں کتابیں خریدنے کی عادت بھی ورثے میں ملی تھی۔ ڈاکٹر انصاری کے ذاتی کتب خانے میں انگریزی، عربی، فارسی، اُردو، جرمنی اور فرانسیسی زبانوں کی نادر اور نایاب کتب موجود ہیں۔ انصاری صاحب کے ذاتی کتب خانے میں کتابوں کی تعداد 20 ہزار سے زائد ہے۔ خدا کرے ڈاکٹر انصاری کی اولدا اس قیمتی کتب خانے کو حفاظت اور محفوظ رکھنے کا خاطر خواہ بندوبست کرپائیں۔ ڈاکٹر انصاری نے تو اپنے والد کی لائبریری کو پوری طرح محفوظ رکھا تھا۔

مولانا ظفر احمد انصاری اور ڈاکٹر انصاری کا ایک قابل قدر کام ہے کہ انہوں نے دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے ذہین طلبہ میں انگریزی زبان اور عصری تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا کیا۔ ان کی کوشش ہوتی تھیں کہ دینی مدارس کے طلبہ عصری علوم پڑھیں۔ ان کی کوششوں سے اس طرف آنے والوں کی فہرست میں بہت سے نام ہیں۔ مگر اس کی تفصیل کی گنجائش اس مضمون میں ممکن نہیں ہے۔ تاہم اس حوالے سے دو نام بڑے اہم ہیں۔ ان میں ایک نام ہے جسٹس (ر) مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اور دوسرا بڑا نام مرحوم پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد غازی (سابق وائس چانسلر بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد) کاہے۔

مزید :

کالم -