ٹاول مینوفیکچررز کا صنعتیں منتقل کرنے پرمجبور ہونا تشویشناک ہے، میاں زاہد حسین

ٹاول مینوفیکچررز کا صنعتیں منتقل کرنے پرمجبور ہونا تشویشناک ہے، میاں زاہد ...

  

کراچی(اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بہت سے ٹاول مینوفیکچررز کا مایوسی کے عالم میں اپنی صنعتیں بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہونا تشویشناک ہے۔ٹاول مینوفیکچررز اور ایکسپورٹرز ٹیکسوں، بڑھتی ہوئی کاروباری لاگت، توانائی کی قیمت اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف انکی برآمدات گر رہی ہیں بلکہ بہت سے صنعتی یونٹ بھی دیوالیہ ہو گئے ہیں۔میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ٹاول مینوفیکچررز پر عائد ٹیکسوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، بیمار یونٹوں کی بحالی کیلئے اقدامات کیئے جائیں اور ان کے پھنسے ہوئے ریفنڈ ادا کیئے جائیں۔ اسکے علاوہ برآمدات کو حقیقی معنوں میں زیرو ریٹڈ قرار دیا جائے تاکہ برآمدکندگان کو کلیم اور ریفنڈ کے چکر سے نکالا جا سکے۔ توانائی کی سپلائی مستقل ہو اور اسکی قیمت حریف ممالک میں توانائی کی قیمت کے برابر ہو جبکہ برآمدات پرمختلف نوعیت کے عائدگیارہ فیصد ٹیکسز پر دوبارہ غور کیا جائے ۔

کیونکہ کئی علاقائی اور دیگر ممالک میں برآمدات پر کوئی ٹیکس نہیں۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ مرکزی بینک، کمرشل بینکوں اور تمام شراکت داروں پر مبنی ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنائی جائے جو قرضے ڈیفالٹ کرنے والے یونٹس کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے کر قرضوں کو ری اسٹرکچر کرے تاکہ روزگار، برآمدات اور محاصل کی صورتحال بہتر ہو سکے۔انھوں نے مطابہ کیا کہ بعض حکومتی پالیسیاں اس شعبے کی ترقی کے بجائے تنزل کا سبب بن رہی ہیں جنھیں بدلا جائے۔

مزید :

کامرس -