نظام تعلیم ناقص حکمت عملی کے سبب الجھاؤ کا شکار ہے

نظام تعلیم ناقص حکمت عملی کے سبب الجھاؤ کا شکار ہے

تعارف

چاندباغ سکول مریدکے کا شمار پنجاب کے اہم ترین تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔ شاندار تعلیمی نتائج، کشادہ عمارات اور کھیل کے وسیع میدان اس کی شناخت ہیں۔یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے، وطن عزیز کے کم و بیش تمام شعبوں میں فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ آج اس ادارے کو تعلیم و تدریس، ہم نصابی سرگرمیوں اور کھیلوں میں جو امتیازی مقام حاصل ہے یہ اس ادارے کی انتظامیہ اساتذہ اور طلباء کی جہد مسلسل کا ثمر ہے۔یہ ادارہ 1998ء میں گورنر پنجاب غلام جیلانی خان (مرحوم) کے حکم سے وجود میں آیا۔اس نئے ادارے نے واضح تعلیمی مقاصد کو پیش نظر رکھا اور عزم نو کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کیا۔

***

تعارف: پرنسپل ایئر کموڈور (ریٹائرڈ)محمد طارق قریشی

آج کے دور میں جہاں لوگ کام کی بجائے نام کو ہی زندگی کا مقصد بنائے کھتے ہیں وہیں کچھ شخصیات ایسی بھی ہیں،جو حقیقت میں ملک وقوم اور انسانیت کے لئے ہمہ وقت مصروفِ عمل رہتی ہیں۔ ایئر کموڈور (ریٹائرڈ)محمد طارق قریشی نے 1971ء سے2009ء تک ائر فورس میں مختلف انتظامی عہدوں پر کام کیا، چار سال تک پاکستان ائر فورس کے’’ شاہین ‘‘ کے ایڈیٹر بھی رہے، دوران ملازمت پاکستان ائر فورس کی تاریخ پر کتاب ’’History of the Pakistan Air force لکھی ،جس پر انہیں تمغہء بسالت سے نوازا گیا۔چار سال پی اے اے پبلک سکول لوئر ٹوپہ، مری میں پرنسپل رہے۔ اس سکول کو قائم کرنے میں آپ کا بہت اہم کردار ہے۔

ریٹائر منٹ کے بعد آپ نے پرائیویٹ سیکٹر کو جوائن کیا۔شاہین سکول سسٹم (اسلام آباد)،علی ٹرسٹ کالج (اسلام آباد) اور دانش سکول (رحیم یار خان) میں بطور پرنسپل خدمات سر انجام دیں۔ان کی تعلیمی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ آپ نے بحیثیت استاد شاندار پذیرائی حاصل کی اور اپنی لعلیمی اور انتظامی صلاحیتوں کے ذریعے ہزاروں طلباء پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔

29 ستمبر، 2012 کو چاند باغ سکول (سی بی ایس) میں بطور پرنسپل تعینات ہوئے اور تاحال ادارے سے منسلک ہیں۔

پرنسپل ایئر کموڈور (ریٹائرڈ)محمد طارق قریشی کے بطور پرنسپل تقرر کے بعد سکول میں داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوا اور سکول میں نظم و ضبط کی صورت حال بھی بہتر ہوئی۔ انہوں نے غیر نصابی سرگرمیوں کے فروغ پر بھی توجہ دی۔اْمید کی جاتی ہے کہ محمد طارق قریشی اپنی بے پناہ تدریسی وتنظیمی صلاحیتوں کے باعث اس ادارے کی شہرت کو چا ر چاند لگا تے رہیں گے۔ سکول کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے کئی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔’’روز نامہ پاکستان‘‘ نے پرنسپل محمد طارق قریشی سے پُر مغز نشست کا اہتمام کیا، اس نشست میں سینیئر ہیڈ ماسٹر چودھری محمد افضل اور فنانس ہیڈ کرنل (ریٹائرڈ) محمد ظفر الحق بھی ہمارے ساتھ تھے ، نشست کا احوال نذرِ قائین ہے۔

گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے پرنسپل محمد طارق قریشی کہا کہ میں نے ا س سکول کے سربراہ کا چارج سنبھالتے ہوئے یہ عزم کیا تھا کہ سکول کی شاندارروایات کی نشاۃثانیہ کے لئے کام کروں گا۔ یہ سکول اعلیٰ تعلیمی وتدریسی ماحول، ہم نصابی اور غیر نصابی سر گرمیوں اور نظم و ضبط کی شاندار روایات کا حامل ہے۔ اسی سکول سے نہ صرف بعض نامور اساتذہ وابستہ رہے ہیں، بلکہ اس سکول کے کئی طالب علم بھی مختلف شعبوں میں شہرت اور ناموری حاصل کرچکے ہیں۔ بحیثیت پرنسپل میں نے اس سکول کی تعمیرو ترقی کے لئے جو اہداف مقرر کئے تھے ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بتدریج پورے ہو رہے ہیں۔ ان میں،سکول کے تعلیمی و تدریسی ماحول کو مزید بہتر بنا کر سکول کے نظام الا وقات کے مطابق ہر سطح کی کلاسز کا انعقاد بروقت اور یقینی بنانا۔سکول میں نظم و ضبط کو فروغ دینا ،سکول میں ہم نصابی سرگرمیوں مثلاً تقریری مقابلوں ، مباحثوں، شعری مقابلوں، اہم موضوعات پر سیمینارز اور سپورٹس کو فروغ دینا۔سکول میں سیکیورٹی کے انتظامات پر خصوصی توجہ دینا اور طلبا ء کے تحفظ کو یقینی بنانا۔سکول لائبریری کو مزید بہتر بنانا، تا کہ اے لیول اور او لیول کے طلباء کو ان کی مطلوبہ کتابیں آسانی سے میسر آسکیں۔ میرا شروع سے ہی یہ نقطہ نظر رہا ہے کہ طلبہ وطالبات کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے تاکہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سکول میں ہمارے پاس چھ سو طلباء موجود ہیں۔ ہمارا تدریسی عمل پر وقار انداز میں سارا سال جاری و ساری رہتا ہے۔ چاند باغ کو معیاری تعلیم کے حوالے سے خصوصی شہرت حاصل ہے۔ میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا ۔

سکول کی سرگرمیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہاں سارا سال مختلف تقریبات کا انعقاد ہوتا رہا ہے طلباء کی ذہنی نشو و نما کے لئے علمی ، ادبی اور سائنسی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ طلباء میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کی نشوو نما اور ان کے ذہنی اْفق میں وسعت پیدا کرنے کے لئے مختلف انجمنیں قائم کی گئیں ہیں، جو باقاعدگی سے اپنی سرگرمیاں سرانجام دیتی ہیں۔علمی،ادبی اور ہم نصابی تقریبات کے لئے تھیٹر ہال موجود ہے، جسے اپنی کشادگی کے سبب غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔سکول میں نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کی اخلاقی تربیت کا بھی خیال رکھا جاتا ہے اور ان کے لئے خصوصی لیکچرز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ سکول میں ایک خوبصورت مسجد بھی ہے۔ جس میں نمازِ پنجگانہ کے ساتھ ساتھ نمازِ جمعہ بھی ادا کی جاتی ہے ،اور یہاں کوئی فرقہ واریت نہیں ہے۔سکول کے وسیع و عریض میدان اور سبزہ زارر ہرے بھرے پودوں، رنگ برنگے پھولوں اور گھنے درختوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ کیاریوں اور پگڈنڈیوں کے ساتھ ساتھ کمروں، برآمدوں اور راستوں کی صفائی کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

سکول کی مسلسل یہ کوشش رہی ہے کہ یہاں ایسا ماحول فراہم کیا جائے ، جس میں نہ صرف اعلیٰ اور معیاری تعلیم و تدریس کا عمل بلارکاوٹ جاری رہے، بلکہ انہیں ہم نصابی سر گرمیوں مثلاً تقریری، شعری اور ذہنی آزمائش کے مقابلوں اورتحقیقی و معلوماتی سیمنارز میں بھی بھرپور شرکت کا موقع ملے۔ اس سلسلے میں طلباء کے لئے وہ تمام اقدامات کئے جاتے ہیں، جن سے ان کی ذہنی اور تعلیمی ترقی ممکن ہوسکے اور اس کے پہلو بہ پہلو انہیں کھیلوں میں شرکت کا بھی موقع مل سکے۔ چاند با غ کو سکول کو کھیلوں میں خصوصی امتیاز حاصل ہے۔ اس امتیاز کو برقرار رکھنے کے لئے کھلاڑیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ طلباء کو علم دوست بنانے کے لئے سکول لائبریری میں مقبول و مروج مضامین سے متعلق طلباء اور اساتذہ کے لئے کم و بیش تمام ضروری کتب موجود ہیں۔ ان میں وقت اورضروریات کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اگلے سال تک دو ہزار کُتب کا اضافہ کیا جائے گا۔ کتب خانے کے اندر مطالعہ کے لئے نشستوں کا معقول انتظام موجودہ ے۔ تازہ ترین اخبارات اور تحقیقی رسائل کتب خانے کے اوقات کے دوران میں استفادے کے لئے روزانہ موجود رہتے ہیں۔

مستقبل میں نئے منصوبے شروع کرنے کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ چھٹیوں کے بعد کالج کی کلاسز کا اجراء کیا جائے گا ،فی الحال اس کی کلاسز اسی کیمپس میں ہوں گی ، اگلے سال تک کالج بلڈنگ مکمل کر کے طلباء کو نئی بلڈگ میں منتقل کر دیا جائے گا ، کو ایجوکیشن ہو گی، البتہ طلبہ و طالبات کے لئے کیمپس الگ الگ ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بورڈنگ میں رہنے والے بچوں کی زیادہ اچھی تربیت ہوتی ہے، بچے میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے، بورڈنگ میں بچہ کم عمری میں ہی سروائیو کرنا سیکھ لیتا ہے، زندگی کے چیلنجز کو قبول کرتا ہے۔ یہ تربیت اُس کی آنے والی زندگی میں مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔میں خود بورڈنگ میں رہا اور الحمد اللہ ایک کامیاب زندگی گزاری ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ میری اس کامیابی میں بورڈنگ کی تر بیت کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

ملکی تعلیمی صورتِ حال پر اُن کا کہنا تھا کہ

معیاری تعلیم کے فروغ میں نجی تعلیمی ادارے، سرکاری سکولوں سے کہیں آگے ہیں، جس کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کوالفائیڈ نہیں یا پھر ان کا طریقہ تعلیم ٹھیک نہیں بلکہ سرکاری سکولوں میں محکمہ تعلیم کی حکمت علمی تذبذب کا شکار ہے، جس کا نزلہ معصوم طالبعلموں پر گر رہا ہے مگر دوسری جانب خوشی اس بات کی بھی ہے کہ نجی تعلیمی سیکٹر نے تعلیم کے حوالے سے اپنی قومی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا اور نبھا رہا ہے، جو علم وفنون کے معیاری فروغ کی صورت میں عام ہورہا ہے۔ جس کی ایک مثال چاند باغ سکول ہے جس نے انتہائی قلیل عرصہ میں بین الاقوامی معیار کے مطابق اعلیٰ ومعیاری تعلیم کے فروغ کویقینی بنا کر اپنی ایک منفرد پہچان بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کو یکجا کیاجائے اور ایک قوم بننے کے لیے طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کردیا جائے، معاشرتی برائیوں اور ناانصافیوں کی جڑ طبقاتی نظام ہے، ہمیں ایک ہوکر نئی نسل کی تعلیم وتربیت خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، چاند باغ سکول جس کا ایک ہی عزم ہے کہ ہم نئی نسل کو وہ تمام علوم اور اخلاقی قدریں یاد کروائیں، جو وہ کسی بھی وجہ سے بھلا بیٹھے ہیں اورمحض کتابی کیڑا بن کر اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ہم تعلیم کے ان دونوں پہلوؤں کو برابری کی سطح پر فروغ کا بھرپور عزم رکھتے ہیں، جو نہ صرف ملک وقوم کی ضرورت بلکہ جدت پسندی کی علامت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے سکول میں دورجدید کے مطابق تمام تر تعلیمی سہولیات فراہم کررکھی ہے۔

چاند باغ سکول میں بہترین اورکوالیفائیڈ اساتذہ کی زیرنگرانی علم وفنون کے فروغ کا عمل جاری ہے، جہاں ہونہار طلبہ وطالبات کو سکالر شپ دینے کے علاوہ نقد انعامات اور مفت تعلیم کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔ سکول کے معیار کو بلند کرنے اوراعلیٰ ومعیاری تعلیم کے فروغ کویقینی بناتے ہوئے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے علاوہ برٹش کونسل اورکیمرج کے ساتھ بھی اس کا الحاق ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے نظام تعلیم کو ناقص حکمت عملی کے تحت الجھا دیا گیا ہے، جس کا اثر یہ ہوا کہ ہر کوئی اپنی مرضی کا نظام تعلیم رائج کیے ہوئے ہے، حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم سب مل کر ایک ایسا نظام تعلیم رائج کریں جو قومی تقاضوں، امنگوں، جذبوں، ضروریات کو پورا کرے اور بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم شدہ ہو جس کے لیے ملک بھر میں خواہ سرکاری ادارے ہوں یا نجی تعلیمی ادارے سب میں یک نکاتی ایجنڈا کے تحت یکساں نصاب اور نظام تعلیم رائج کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے حقیقی معنوں میں اپنی قومی حیثیت کو بحال کرنا ہے تو طبقاتی نظام تعلیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا کیونکہ ہمارے تمام مسائل اور بحرانوں کا حل قومی یکجہتی میں پوشیدہ ہے جس کے لیے تعلیم وتربیت کا فروغ ایک نکتہ پر کرنا ہوگا۔ اس نکتہ کے تحت حب الوطنی، اچھے مسلمان اور اچھے پاکستانی کی صورت میں نئی نسل پروان چڑھے گی جس سے قومی تشخص اور وقار بلند ہوگا اور ہم دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام کا علم وفنون میں بھی مقابلہ کرسکیں گے۔

تربیت کو فروغ دینے کے لیے ہم نے اپنے سکول میں خاص طریقہ تعلیم اختیار کررکھا ہے جس کے تحت نئی نسل کو محب وطن بنانے کے ساتھ ایک بہترین مسلمان اور پاکستانی بنایا جارہا ہے اوران کے کردار کی تعمیر کو بہترین تعلیم کی فراہمی کی صورت میں یقینی بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ہماری تربیت ٹھیک نہیں ہوگی، ہمارے معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کے ہونہاروں کو ہر وہ تعلیمی سہولت اور تربیت فراہم کی جائے جو اپنی اقدار کا حصہ ہیں جس کے لیے چاند باغ سکول تن، من،دھن سے کام کررہا ہے۔

میں یہ بات فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ ادارہ تعلیم دوست پالیسیوں کو شفاف طریقے سے روبہ عمل لاتا ہے۔ ان تھک انتظامی، تدریسی اور ہم نصابی مجالس اپنی تعمیری سرگرمیاں ہمیشہ جاری رکھتی ہیں۔ دفتری عملہ بھی اپنے فرائض بہ حسن و خوبی انجام دیتا ہے۔اس ادارے کے فارغ التحصیل طلباء نے علم و ادب، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی کامیابیوں کا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ یہ بات بلاتامل کہی جاسکتی ہے کہ اس سکول کو تعلیمی، ہم نصابی اور کھیلوں میں جو شاندار کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، وہ سکول انتظامیہ اور اساتذہ کی شب و روز محنت کا ثمر ہے۔مجھے امید ہے کہ میرے عزیز طلباء، میرے عزیز رفقائے کار:اساتذہ کرام اور دفتری عملہ کے دیگر ارکان اس سکول کی ترقی اور بہتری کے لئے مجھ سے بھرپور تعاون کریں گے اور ہم سب مل کر اس سکول کی شاندار روایات میں اضافہ کا باعث بنیں گے۔ اور میں اپنے طلباء کو یقین دلاتا ہوں کہ جو طلبہ اس وقت ہمارے ساتھ موجود ہیں اور جو مستقبل میں ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں گے آن کے لئے سی بی ایس ایک روشن کیریئر اور کامیاب زندگی کا صحیح انتخاب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سینیئر ہیڈ ماسٹر چودھری اٖفضل نے کہا کہ چاند باغ سکول میں طالب علموں کو گھر جیسا ماحول دیا جاتا ہے۔ یہاں خوبصورت بلڈنگز پر مشتمل آٹھ ہاؤسز ہیں۔ جہاں طلباء کو تعلیم سے لے کر کھیل تک ہر طرح کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاند باغ سکول ایک ایسا تعلیمی ادارہ جہاں بچوں کو ، رنگ ونسل تعصب اور فرقہ واریت سے سے بالا تر ہو کر تعلیم دی جاتی ہے۔ طلباء کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیب بھی کی جاتی ہے۔ بچہ صر ف پڑھائی نہیں کرتا بلکہ اُنہیں سکھایا جاتاہے کہ انسانی اقدار کیا ہیں، اپنے ملک اپنی تقافت سے انہیں محبت ہو نی چاہے تاکہ وہ اچھے انسان کے ساتھ ساتھ ذمہ دار شہری بھی بن سکیں۔ یہاں طلباء کی تربیت اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ اُن کی انفرادی و اجتماعی تخلیقی و تخیلاتی صلاحتیں پروان چڑھتی ہیں، جہاں وہ فخر سے سماجی خدمات انجام دیتے ہیں اور جسمانی محنت و مشقت کو عزت سمجھتے ہیں، جہاں وہ شکست میں فتح اور سخاوت میں عاجزی کا مظاہرہ کرنا سیکھتے ہیں جہاں وہ اپنے بہترین مقاصد کو پورا کرنے میں دوسروں کے ساتھ مقابلہ نہیں کرتے ہیں۔ جہاں وہ ایک طرف اساتذہ کی رہنمائی کے لئے ان سے شفقت اور عقیدت سے مشورہ کرتے ہیں، تو دوسری طرف مسلسل خود کو پیشہ ورانہ طور پر اور دیگر اداروں کی قیادت کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔تعلیمی پروگرامز کا مقصد طلبہ میں چھپی صلاحیتوں کو سامنے لانا ہے۔ اس میں انگریزی اور اردو زبانوں میں لکھنا پڑھنا اور بولنے میں مؤثر طریقے سے بات چیت کرنے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔اساتذہ تعلیمی طور پر کمزور طلباء پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آزاد اور تخلیقی سوچ کی مہارت کی ترقی پر برابر زور دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاند باغ میں فیکلٹی ڈیویلپمنٹ پر بہت کام کیا گیا ہے اور ٹیچر ز ٹریننگ ورکشاپس کا بھی اہتما م کیاجاتاہے۔ یہاں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سائنس لیبز اور کمپیوٹر لیبز موجود ہیں۔لائبریری، میڈیکل ہیلتھ سینٹر موجود ہے، ایک میل و فی میل ڈاکٹر مستقل یہاں موجود رہتے ہیں، طلباء کی گائڈنس اور کونسلنگ کی جاتی ہے، ورک شاپس اور سیمیناز کا انعقاد ہوتا ہے۔تعلیمی و تفریحی دورے بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔ آرٹ ،میوزک، سپورٹس طلباء کی ذہنی و جسمانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمارے پاس لیڈیز ٹیچرز کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے، سٹاف ممبرز کو بھی تمام رہائشی سہولیات میسر ہیں۔ اس بورڈنگ سکول کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک سے بچے پڑھنے آتے ہیں۔سکول چاہتا ہے کہ اس کے طلبہ دنیا کے کسی بھی ملک کے طلباء سے مقابلہ کر سکیں۔سکول میں مختلف ثقافتوں اور ذات پات کا امتزاج موجود ہوتا ہے۔ انھیں ایسی تعلیم دی جاتی ہے جس کی بدولت وہ نئے مواقع سے روشناس ہو سکیں۔ ہم بچوں کو ایسی صلاحیتوں سے مالامال کرنا چاہتے ہیں کہ وہ سیاست، کاروبار یا کھیل کی دنیا میں اعلیٰ ترین مقام تک پہنچ سکیں۔اس سکول کو دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں داخلے کی ابتدائی سیڑھی قرار دیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ طلباء جب گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے علاقوں میں جاتے ہیں تو وہ کئی طرح کے فلاحی کاموں میں حصہ لیتے ہیں، مثلاً صاف پانی کی فراہمی، کچرے کی صفائی یا کھانا پکانے کے محفوظ طریقے وغیرہ۔میں چاہتا ہوں کہ اس سکول کے فارغ التحصیل طلبہ دنیا میں کسی بھی ملک کے اعلیٰ ترین طلبہ سے مقابلہ کر سکیں۔لڑکیوں کا چاند باغ ڈے سکول بھی موجود ہے۔ یہاں بھی تمام تر سہولیات موجود ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فنانس ہیڈ کرنل (ریٹائرڈ) محمد ظفر الحق

کرنل (ریٹائرڈ) محمد ظفر الحق نے کہا کہ

آج کے اس پْر آشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کی حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کر لے حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے۔ ایٹمی ترقی کا دور ہے، سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگر سکولوں میں بنیادی عصری تعلیم، ٹیکنیکل تعلیم، انجینئرنگ، وکالت، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے۔

جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اہمیت اپنی جگہ مسمم ہے، اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کے لئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے۔ اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی ، عبادت ، محبت ، خلوص ، ایثار، خدمتِ خلق، وفاداری اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح اور نیک معاشرہ کی تشکیل ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں تعلیمی ادارے دہشت گردی کے نشانہ پر ہے ، دشمن طاقتیں تعلیم کی طرف سے بد گمان کرکے ملک کو کمزور کرنے کے در پہ ہیں، کچھ ایسے عناصر بھی ملک میں موجود ہے جو اپنی سرداری، چوہدراہٹ، جاگیرداری کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کی وجہ سے اپنے اثر و رسوخ والے علاقوں میں بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں یہ بھی ایک قسم کی تعلیم دشمنی ہے جس کا قلع قمع کرنا ضروری ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام کے مقاصد کو واضح کریں اور اصل مرض کی طرف توجہ دیں۔ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو سامنے رکھ کر ہمیں ایسا تعلیمی نظام وضع کرنا چاہیے جو ہمارے افراد اور معاشرے کے درمیان پْل کا کام انجام دے سکیں۔ اس کے بعد ہی ہم اس نتیجے پر پہنچ سکیں گے کہ ہم نے اس ملک اور قوم کی خدمت کی ہے۔روایات اور تعلیمی معیار کے حوالے سے چاند باغ کا نام ہمیشہ روشن رہا ہے۔ایک طالبعلم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے سے پورے خاندان کی تقدیر بدل جاتی ہے۔میرے نزدیک سب سے بڑی نیکی کسی کو پڑھانا یا تعلیم کی میدان میں کسی کی مدد کرنا ہے۔ افراطِ زر میں روز افزوں اضافے کے باعث معیاری تعلیم عام آدمی کی دسترس سے نکلتی جارہی تھی۔ چاند باغ میں مناسب فیس سٹکچر ہے ،جو بچے تعلیمی اخراجات ادا نہیں کر سکتے اور پڑھنا چاھتے ہیں ذہین ہیں۔ داخلے کے بعد ایسے طلباء کی ہر ممکن مدد کی جاتی ہے۔ ادارہ کسی سے کوئی امداد نہیں لیتا سکول کا ہر شعبہ اپنے بجٹ کا انتہائی منصفانہ استعمال کرتا ہے اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ سکول کا ایک ایک روپیہ طلباء کی فلاح بہبود پر خرچ ہو۔ اس بچت سے حاصل ہونے والی رقم مستحق طلباء کے لئے سکا لر شپس پر خرچ کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تعلیمی ادارے اَمن ،سکون،تحمل اور رواداری کے مضبوط گڑھ تصور کئے جاتے ہیں۔ اِن اداروں کی انتظامیہ اور ان کا معاشرہ تعلیمی اداروں کو ہر قسم کے تعصب انتہاپسندی،سیاسی اور مذہبی مناضرت سے پاک رکھتے ہیں تاکہ نژادِنو کی تربیت معتدل ماحول میں مثالی انداز سے کی جاسکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چاند باغ کے طلباء کو منفی رجحانات سے محفوظ رکھنے کے لیے طلباء کو مختلف مفید سرگر میوں میں میں مصروف رکھا جا تا ہے تاکہ طلباء تعلیم وتحقیق کے علاوہ اپنی توانائیوں کو تخلیقی ہم نصابی سرگرمیوں پر صرف کو سکیں، جن سے ان کی شخصیت میں بھی نکھار آئے۔

***

مزید : ایڈیشن 2