بھاری بھرکم سکول بیگز بچوں کی نشو ونما پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں

بھاری بھرکم سکول بیگز بچوں کی نشو ونما پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں

  

مائرہ اسحاق

صبح سویرے نرم گرم بستر سے اٹھ کر اسکول جانا بچوں کے لئے ایک مشکل کام ہے ہی،لیکن اسکول جانے والے 30 فیصد بچے اپنے بھاری بھر کم بستے کی وجہ سے سکول جانے سے گھبراتے ہیں۔بھاری بھرکم بستہ سکول کے اعلیٰ معیار کی ضمانت مانا جاتاہے،تحقیق کے مطابق بچوں کا بھاری بستے لے کر چلنا ان کی صحت کے لئے سخت نقصان دہ ہے، بچوں کو اپنے وزن سے 10 فیصد کم وزن کا سکول بیگ اٹھانا چاہئے،جو بچے اپنے وزن کے 10 فیصد سے زائد وزن اٹھا تے ہیں وہ صحت کے حوالے سے مختلف مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں،جبکہ تعلیم سے بھی ان کی دلچسپی میں کمی واقع ہوتی ہے۔

بچوں کو عموماً اپنے وزن کے 30 سے 40 فیصد جتنا وزن اٹھا کر سکول جانا پڑتا ہے،جس کی وجہ سے بچے جسمانی لحاظ سے شدید تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں،اور ان بچوں میں کمر،گردن اور ہڈیوں کی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اپنی استعداد سے زیادہ وزن اٹھانے والے بچوں کو مستقبل میں کمر درد،ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف سمیت اعصابی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسپین کے ماہرین نے 1403 طلباء پر تحقیق کی جن میں سے 12 سال سے 17 سال کی عمر کے 11 سکولوں کے بچوں کو شامل کیا گیا۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں کے سکول بیگ کا وزن ان کے اپنے وزن کے 10 فیصد سے زائد تھا ان میں سے 66 فیصد بچے کمر درد کی تکلیف میں مبتلا پائے گئے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو کمر درد کی زیادہ شکایت تھی۔

کتابوں اور کاپیوں کے علاوہ بستوں میں لنچ بکس، پانی کی بوتل، جیومیٹری بکس اور کھیلنے کا سامان بھی ہوتا ہے بیشتر بچے سکول سے واپسی کے بعد دوبارہ تدریس کے لیے ٹیوشن بھی جاتے ہیں بھاری بھرکم بستے اٹھائے کم سن طالب علم ریلوے کے قلی نظر آتے ہیں۔ سکول بیگز میں موجود موٹی کتابیں دیکھ کر بچوں کے روشن مستقبل کی کرن تو نظر آتی ہے لیکن ان وزنی بستوں سے بچوں کی جسمانی نشوونما پر پڑنے والے منفی اثرات نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ بھاری بستوں کی وجہ سیبچے جسمانی لحاظ سے شدید تھکاوٹ اور ذہنی طور پرپر اگندگی محسوس کرتے ہیں اور اس پر مستزادیہ کہ انکی استعداد سے زیادہ’’ہوم ورک’’مزید اکتاہٹ کا باعث بنتا ہے۔ ضورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی نصاب تبدیل کیا جائے تاکہ بچوں پر کتابوں کا بوجھ کم کیا جاسکے، تب جاکر ہمارے نونہال بچے صحت مند اور تندرست ہونے کے علاوہ اپنی صلاحیتوں کا بے جھجک استعمال کرسکیں گے ورنہ یہ صرف کتابی کیڑے بنیں گے۔

ماہرینِ تعلیم کے مطابق بستوں کا بوجھ نونہال بچوں پر ڈالنا سراسر ناانصافی ہے جس کیلئے سکول کا نصاب اوروالدین بھی براہ راست ذمہ دار ہیں۔

اس مسئلے کے حل کے لئے بچوں کو یورپ اور امریکا کے اکثر سکولوں کی طرح اسکول میں ہی لاکرز فراہم کئے جائیں تاکہ تاکہ بچے ان میں اپنی کتابیں وغیرہ رکھیں اور روزانہ گھر سے بھاری بستہ لانے کی زحمت سے بچ سکیں۔

مزید :

ایڈیشن 2 -