سائبر حملے جاری، یوکرائن سمیت متعدد ممالک کی تجارتی سرگرمیاں اور بینک بری طرح متاثر

سائبر حملے جاری، یوکرائن سمیت متعدد ممالک کی تجارتی سرگرمیاں اور بینک بری ...

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک)پوری دنیا ایک مرتبہ پھر سائبر حملے کی زد میں ہے۔ ’واناکرائی رین سموئیر‘ جیسے وائرس نے منگل کو پوری دنیا پر بڑا سائبر حملہ کیا۔ سائبر حملے کا سب سے زیادہ اثر یوکرائن میں ہواہے، جہاں سرکاری دفاتر، بجلی کمپنیوں اور بینک کے کمپیوٹر کے نظام میں بہت زبردست خرابی آئی ہے۔ یوکرائن کا سینٹر ل بینک، سرکاری بجلی کی ڈسٹریبوٹر کمپنی، ہوائی جہاز ڈویلپر کمپنی ایتونوو اور ڈاک کی خدمات اس حملے سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ یوکرین کے دارالحکومت کیو کی میٹرو میں پیمنٹ کارڈ کام نہیں کر رہے ہیں۔ بہت سے پٹرول پمپوں پر کام کاج روکنا پڑا ہے۔ روس کی سب سے بڑی تیل کی پیداوار کمپنی روجنے فٹ سمیت کئی بڑی کمپنیوں نے بھی کہا ہے کہ ان کے یہاں بھی سائبر حملے کا اثر ہوا ہے۔ تاہم، اس سائبر حملے کا اثر ہندستان پر نہیں پڑا ہے۔روس کی سب سے بڑی تیل کی پیداوار کمپنی روجنیفٹ نے بیان جاری کر کہا کہ اس کے ’آئی ٹی سسٹمز اس سائبر حملے کے شکار ہوئے ہیں‘۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ یہ سائبر حملہ ’رین سموئیر‘ جیسا ہی سنگین ہو سکتا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔.ماسکو کی ایک سائبر سیکورٹی کمپنی آئی بی نے کہا کہ اسے روس اور یوکرائن میں یکساں طور پر متاثرہ لوگوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ وہیں، ڈنمارک کی دارالحکومت کوپن ہیگن میں واقع گلوبل شپنگ کمپنی نے کہا کہ اس کا کمپیوٹر نظام بھی سائبر حملے سے متاثر ہوا ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ یہ حملہ یوکرائن سے کیا گیا ہے اور آہستہ آہستہ پوری دنیا کو اپنی زد میں لے رہا ہے۔ سائبر سیکورٹی ماہرین کے مطابق اس کے سپین اور ہندستان سمیت دیگر ممالک میں بھی پھیلنے کا اندیشہ ہے، جو بھی ممالک اس کی زد میں آئے ہیں، وہاں متعدد مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم ابھی تک اس سائبر حملے کے اسباب کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ ابتدائی خبروں کے مطابق یہ حملہ یوکرائن اور روس میں ایک ہی وقت میں کیا گیا ہے۔دریں ثناء سابق امریکی جاسوس ایڈورڈ اسنوڈن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ، روس اور یورپ کی کمپنیوں پر کیے گئے وائرس حملے میں استعمال ہونے والا وائرس امریکی سیکورٹی ادارے نے بنایا تھا۔سابق امریکی جاسوس ایڈورڈ اسنوڈن نے سائبر حملوں سے متعلق اہم انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ روز دنیا بھر میں تاوان کے لیے سائبرحملوں میں استعمال ہونے والا وائرس امریکی سیکورٹی ادارے این ایس اے نے بنایا تھا۔ایڈورڈ اسنوڈن کا کہنا ہے کہ ہیکنگ کے لیے استعمال ہونے والا "ایٹرنل بلو " نامی وائرس امریکی سیکورٹی ادارے این ایس اے کا ڈیجیٹل ہتھیار ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -