معاشرے میں جیل کا کردار بہترین تعلیمی و تربیتی ادارے کے طور پر ہونا چاہئے: چیف جسٹس منصور علی شاہ

معاشرے میں جیل کا کردار بہترین تعلیمی و تربیتی ادارے کے طور پر ہونا چاہئے: ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہو رہائی کورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جج صاحبان اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی سہیل ناصر کے ہمراہ عیدالفطر سنٹرل جیل اڈیالہ میں قیدیوں کے ساتھ گزاری ۔اس موقع پر جسٹس سید منصور علی شاہ نے خواتین کے مقدمات ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے جبکہ دوسرے اضلاع اورصوبوں سے تعلق رکھنے والے مقدمات متعلقہ علاقوں میں بھجوانے کی ہدایات جاری کیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ نماز عید کی ادائیگی کے بعد ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جج صاحبان کے ہمراہ اپنے اہل خانہ سے ملنے کی بجائے وہ قیدیوں سے ملنے جیل آئے ہیں تاکہ ان کے دکھ درد بانٹ سکیں جو مختلف مقدمات کے سلسلے میں جیل میں بندہیں۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے اس موقع پر کہاکہ قیدیوں کے لئے سب سے بڑا تحفہ یہی ہے کہ ان کے مقدمات کا جلداز جلد تصفیہ ہو تاکہ وہ جیل سے رہائی پاکر اپنے اہل خانہ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہاکہ فوری انصاف کی فراہمی کے لئے اصلاحات پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب مقدمات کی پیروی بلا تاخیر ہو۔ انہوں نے کہاکہ نفرت جرم سے ہونی چاہئے انسان سے نہیں۔ اسی وجہ سے جسٹس صاحبان باقاعدگی سے جیلوں کے دورے کرتے ہیں۔ چیف جسٹس لاہو رہائی کورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے سینٹرل جیل اڈیالہ میں قید 124 خواتین قیدیوں اور ان کے ہمراہ 21 معصوم بچوں میں عید گفٹ تقسیم کیے اور بچوں کی ایک رنگا رنگ تقریب میں شرکت کی جس کا اہتمام محکمہ سماجی بہبود پنجاب راولپنڈی کے تعاون سے کیا گیا اس موقع پر بچوں نے خوبصورت ٹیبلو پیش کئے ۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے خواتین قیدیوں کے مقدمات ترجیحی بنیادوں پر نمٹائے جانے کی ہدایات جاری کیں انہوں نے کہاکہ دوسرے اضلاع اور صوبوں سے تعلق رکھنے والے مقدمات متعلقہ علاقوں میں بھیجوائے جائیں تاکہ سائلین کو انصاف کے حصول میں مدد مل سکے۔ جیل میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ معاشرے میں جیل کا کردار ایک بہترین تعلیمی و تربیتی ادارے کے طور پر ہونا چاہیے.تاکہ یہاں آنے والوں کی اصلاح ہو سکے اور انہیں علوم و فنون سکھا کر معاشرے میں باعزت طور پر بحال اور خود کفیل بنایا جاسکے تاکہ وہ پرامن زندگی گزارکر اپنے بال بچوں اور بہن بھائیوں کے ساتھ خوشگوار زندگی گزارسکیں۔ سینئر سپرنٹینڈنٹ سینٹرل جیل اڈیالہ سعید اللہ گوندل نے کہاکہ مقدمات کے جلد فیصلوں کی نتیجے میں اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی تعداد 4800 سے کم ہو کر 4400 سرہ گئی ہے اور چار سو قیدیوں کو رہائی ملی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -