سانحہ احمد پور شرقیہ ، مقامی اور ہائی وے پولیس ذمہ دار قرار، ہلاکتوں کی تعداد 146ہو گئی

سانحہ احمد پور شرقیہ ، مقامی اور ہائی وے پولیس ذمہ دار قرار، ہلاکتوں کی تعداد ...

ملتان ،بہاولپور(مانیٹرنگ دیسک، نیوز ایجنسیاں ) عید الفطر سے ایک دن قبل احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر الٹنے اور اس کے نتیجے میں لگنے والی آگ سے اب تک لقمہ اجل بننے والوں کی تعداد 164 ہو گئی ہے جن میں مفرور قرار دیا جانیوالاٹینکر ڈرائیور بھی شامل ہے ، جبکہ سانحہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ بھی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو پیش کر دی گئی ہے ،جس میں واضح کیا گیا ہے کہ سانحہ پیش آنے کے اہم اسباب میں مقامی پولیس کی غفلت و لاپرواہی اور ہائی وے پولیس کا جائے وقوعہ پر تاخیر سے پہنچنا بھی شامل ہیں ، رپورٹ کے مطابق ہائی وے پولیس شفٹ تبدیلی کے باعث دیر سے جائے وقوعہ پر پہنچی جبکہ مقا می پولیس نے موقع پر پہنچنے کے باوجود علاقے کو گھیرے لیا اور نہ ہی اسکو سیل کیا، علاوہ ازیں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں حادثے پر پہنچی ضرور لیکن ان کے پاس آگ پر قابو پانے کیلئے کیمیکل کی مقدار انتہائی قلیل تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مقامی اراکین اسمبلی اور بلدیاتی نما ئند ے بھی جائے وقوعہ پرایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچے اور انہوں نے بھی لوگوں کو پیچھے ہٹنے کا نہیں کہا۔دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے بہاو لپو ر اور احمد پور شرقیہ کی مقامی انتظامیہ مزید تحقیقات کر رہی ہے اور آئندہ 48 گھنٹے میں مکمل رپورٹ تیار کر لی جائے گی۔ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہائی وے پولیس کی دوسری شفٹ وقت پر نہیں پہنچی تھی جبکہ مقامی ایس ایچ او اور اسسٹنٹ کمشنر احمد پورشرقیہ بھی جائے حاد ثہ پر ایک گھنٹہ کی تاخیر سے پہنچے۔ادھر آئل کمپنی شیل نے بھی اپنی ابتدائی رپورٹ اوگرا کو پیش کردی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حادثے کا شکا ر آئل ٹینکر کراچی کی بندرگاہ سے وہاڑی جارہا تھا کہ اتوار کی صبح 6 بج کر 29 منٹ پر حادثے کا شکار ہوا۔ حادثے کے وقت ٹینکر کی رفتار 35 کلو میٹر فی گھنٹی تھی اور اس میں 50 ہزار لیٹر پیٹرول تھا۔ ٹینکر اپنے مقررہ راستے پر جارہا تھا کہ اچانک اس کے عین آگے مسافر بس نے بر یک لگائی، ٹکراؤ سے بچنے کیلئے ڈرائیور نے ٹینکر کو دوسری سائیڈ پر موڑا جس سے ٹینکر الٹ گیا۔ ٹینکر الٹنے سے سارا آئل بہنا شروع ہو گیا اور مقامی آبادی نے اسے بالٹیوں، ڈبوں اور دیگر برتنوں میں بھرنا شروع کر دیا۔ مقامی انتظامیہ کی کوشش کے باجود لوگ حادثے کے مقام سے نہیں ہٹے کہ اچانک اس میں آگ بھڑک اٹھی جس کی لپیٹ میں آکر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔دریں اثناء سانحہ احمدپورشرقیہ میں انتہائی شدید زخمی ہونیوالوں کی اموات کا وقفہ وقفہ سے سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ تین روز میں مزید 13افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں سانحہ احمد پور شرقیہ میں پولیس کی جانب سے مفرور قرار دیا جانیوالا ڈرائیورجو نشتر ہسپتال میں زیر علاج تھا شامل ہے ۔ پولیس نے مقدمہ میں ڈرائیور گل محمد کو مفرور ظاہر کیا تھا تاہم بعد میں نشتر ہسپتال کے برن یونٹ میں زیرعلاج 44 زخمیوں میں سے ایک کی شناخت گل محمد کے نام سے کی گئی، ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے حادثے کے بعد جب برن یونٹ کا دورہ کیا تو ڈرائیور گل محمد نے انہیں خود بتایا کہ وہ لوگوں کو پیچھے ہٹنے کا کہتا رہا مگر کسی نے نہ سنی۔دوسری جانب سانحہ احمد پور شرقیہ میں جاں بحق ناقابل شناخت افراد کی گزشتہ روز اجتماعی نماز جنازہ کے بعد تدفین کردی گئی، لاشوں کی ڈی این اے رپو ر ٹ آنے کے بعد لوگ اپنے پیاروں کی قبروں کو لگائے گئے نمبروں سے شناخت کر سکیں گے جبکہ ابھی بھی کئی ایک کی حالت نازک بتائی جاتی ہے ،واضح رہے نشترہسپتال برن یونٹ میں اب تک مرنیوالوں کی تعداد 20 ہوگئی جبکہ سانحے میں جاں بحق افراد کی کل تعداد 164ہوچکی ہے۔

مزید : صفحہ اول