مون سون بارشیں، چھتیں گرنے، کرنٹ لگنے و دیگر حادثات میں 18افراد جاں بحق، 125سے زائد زخمی، بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم

مون سون بارشیں، چھتیں گرنے، کرنٹ لگنے و دیگر حادثات میں 18افراد جاں بحق، 125سے ...

لاہور ، اسلام آباد، پشاور ، کراچی (جنرل رپورٹر، بیورورپورٹس، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ) ملک بھرکے مختلف علاقوں میں مون سون کی موسلادھار بارش کے باعث چھتیں ، دیواریں گرنے ، کرنٹ لگنے اوردیگر حادثات میں بچی سمیت18افراد جاں بحق جبکہ125سے زائدزخمی ہو گئے ، طوفانی بارش کے باعث جڑواں شہروں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جبکہ فلائٹ آپریشن بھی متاثر ہوا ، نشیبی علاقے زیر آب آگئے، بجلی اور مو ا صلات کا نظام بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا ، وزیر اعظم نواز شریف نے چاروں صوبائی حکومتوں اور این ڈی ایم اے کو مون سون بارشوں کے نقصانات سے بچاؤ کیلئے موثر اقدامات اٹھانے اور کسی نا خوشگوار صورتحال سے پہلے ہی لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی یقینی بنانے کی ہدایت کردی ۔تاہم گرمی کی شدت میں کمی واقع ہونے سے شہریوں کے چہرے کھل اٹھے ، تفصیلات کے مطابق گزشتہ تین روز سے وفاقی دار ا لحکو مت اسلام آباد سمیت صوبہ پنجاب ، خیبر پختونخوا ، سندھ ، کشمیر کے مختلف علاقوں میں کہیں کم اور کہیں طوفانی بارشوں کا سلسلہ و قفے وقفے سے جاری ہے جس کے دوران شورکوٹ کے علاقہ بنڈہ سربانہ میں آموں کے باغ میں چھپر کے نیچے سوئے ہو ئے محنت کش با ر ش کی وجہ سے چھپر گرنے سے ملبے تلے دب گئے اور نتیجہ میں 2مزدور موقع پر جاں بحق جبکہ 14 شدید زخمی ہو گئے ۔ چنیو ٹ کے علاقہ د لوالہ میں بارش کے پانی میں کرنٹ لگنے سے 2بچے،فیصل آباد میں چھت گرنے سے 5سالہ بچی جاں بحق جبکہ 3افراد شدید زخمی ہوگئے ۔ لاہور کے علاقہ فاضلیہ کالونی میں دوران بارش 13سالہ کم سن راہول عاشق مین بازار سے گزر رہا تھا کہ زمین پر گری بجلی کی تار سے چھو کر موقع پر ہی دم توڑ گیا، جھنگ اٹھارہ ہزاری میں پانچ بچے بارش کے پانی میں نہاتے ہوئے گڑھے میں ڈوب گئے جن میں تین بچیاں اور دو بچے شامل تھے، تمام بچوں کی لاشیں نکال لی گئیں۔ اسلام آباد میں ننگی تار کو چھونے سے 12 سالہ عبدالرحمان جاں بحق جبکہ بچانے کی کوشش میں بچے کا والد وسیم بھی کرنٹ لگنے سے چل بسا۔ چنیوٹ میں کرنٹ لگنے سے 2 بچے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ قصور میں فیصل آباد سے آنیوالی زائرین کی بس باعث کے باعث الٹنے سے پانچ افراد جانیں گنوا بیٹھے، 52 زخمی ہو کر ہسپتالوں میں پہنچ گئے۔ مری اور روات میں پھسلن سے حادثات کے باعث 40 افراد زخمی ہو گئے۔دوسری جانب لاہور سمیت صوبہ بیشتر اضلاع میں موسلادھار بارش کے باعث سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں کامنظر پیش کرنے لگیں۔صوبائی دارلحکومت لاہور کی شاہراؤں پر بھی کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا، چوبرجی اسلامیہ پارک میں بارش کا پانی لو گوں کے گھروں میں داخل ہو گیا، قرطبہ چوک، لارنس روڈ، سمن آباد، مسلم ٹاؤن، اچھرہ، ریلوے اسٹیشن، رحمان پورہ اور کوپر روڈ سمیت دیگر علاقے پانی میں ڈوب گئے اور شہریوں کا گھر سے نکلنا بھی مشکل ہو گیا،بارش سے متعدد فیڈر ٹرپ کر گئے، کئی علاقوں میں بجلی گھنٹوں غائب رہی۔ ادھر قصو ر ، جھنگ ، ٹو بہ ٹیک سنگھ،ساہیوال،ڈی جی خان ، فیصل آباد، کمالیہ، کبیر والا، گوجرہ ، نارووال، بدوملہی اوردیگر علاقوں میں موسلادھار بارش کے بعدنشیبی علاقے زیرآب آ گئے ،جبکہ جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں طوفانی بارش کے باعث ایئرپورٹ اور رن وے پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے اندرون اور بیرون ملک جانیوالی پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوا ہے اور کئی پروازیں کئی کئی گھنٹوں کی تاخیر کا شکار ہیں جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے ۔جبکہ دونوں شہروں میں ایمرجنسی نادذ کر دی گئی ہے ۔شہر قائد کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش ہوئی ، شہر بھر کو گہرے کالے بادلوں نے گھیرے میں لے لیا، جس کے باعث کئی علاقوں میں حد نگاہ بھی کم ہوگئی اور بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی۔گڈاپ میں تیز بارش کے باعث ندی نالے بھرنا شروع ہوگئے،محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جمعے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اندرون سندھ نواب شاہ، حیدر آباد، سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں تیزہواؤں کے بعد بارش کے باعث 200سے زائد فیڈر ٹرپ کرگئے،جیکب آباد، گھوٹکی، شکارپور، کندھ کوٹ اور اوباڑو سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں بارش کے بعد بجلی غائب ہوگئی۔محکمہ موسمیات نے مون سون کی بارشوں سے متعلق الرٹ جاری کرتے ہوئے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ ڈائریکٹر محکمہ موسمیات ڈاکٹر محمد حنیف کے مطابق کرا چی ، حیدرآباد، میرپورخاص اور نوابشاہ میں گرج چمک کیساتھ ، کشمیر، سرگودھا، گوجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد میں بھی آئندہ 2روز کے دوران بارشوں کا امکان ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں سے خیبرپختونخوا، کشمیر اور پوٹھوہار، گوجرانوالہ، کشمیر اور ڈی جی خان کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔اسوقت بادلوں نے سندھ اورخیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے او ر ان علاقوں میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ اگلے اڑتالیس گھنٹے تک جاری رہے گا۔ شدید بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں میں مٹی کے تودے گرنے سمیت سیلاب کا بھی خطرہ ہے۔

مزید : صفحہ اول