پاراچنار عظیم سانحہ، نسلی و فرقہ ورانہ منافرت کا رنگ دینا گمراہ کن مہم ہے، دشمن ہمیں دہشتگردی کے ذریعے تقسیم کرنے میں ناکام ہوچکا ہے: جنرل باجوہ

پاراچنار عظیم سانحہ، نسلی و فرقہ ورانہ منافرت کا رنگ دینا گمراہ کن مہم ہے، ...

  

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے پاکستان کے دشمنوں نے گمراہ کن مہم شروع کر ر کھی ہے جو سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے پھیل رہی ہے، دشمن ہمیں دہشتگردی کے ذریعے تقسیم کرنے میں ناکام ہو چکاہے، اسی لئے حالیہ دہشتگردی کے واقعات کودانستہ طورپر نسلی اورفرقہ وارانہ منافرت کارنگ دیاجارہاہے،ملک میں امن و ا مان کی صورتحال کو خراب نہیں ہونے دیں گے ،سانحہ پارا چنار کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے گا،یہ ایک عظیم نقصان ہے اور اس کے متاثرین کی بلاتفریق مدد کی جائے گی۔ہم سب ایک دوسرے کی مذہبی اقداراوراقلیتوں کامکمل احترام کرتے ہیں ۔ بدھ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنر ل قمر جاوید باجوہ نے ان خیالات کا اظہارعید الفطر کے دنوں میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام سے ملاقاتوں میں کیا ، انکا مزید کہنا تھا پاکستان کے دشمنوں کی گمراہ کن مہم سے ہم سب کوآگاہ رہنا چاہیے ۔ملک میں امن وامان کی صورتحال کو خراب نہیں ہونے دیں گے،پاک فوج کیلئے ہرشہیداورزخمی کی جان بلاتفریق برابراورقیمتی ہے جبکہ حالیہ واقعات کودہشت گردی،نسلی منافرت کارنگ دینے کاجائزہ بھی لے رہے ہیں۔ ہم سب پاکستانی اور مسلمان ہیں، فاٹا اور ملک بھر میں سکیورٹی کی صورتحال کو کنٹرول کیا ہے،کسی کو فاٹاکاامن تباہ نہیں کرنے دینگے ،ملک دشمن عناصر فرقہ واریت پھیلارہے ہیں ،دہشتگر دی کے ذریعے ہمیں تقسیم کرنے کی سازش ناکام ہوگی ۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حالیہ واقعات کو نسلی اور فرقہ وارانہ رنگ دینے کی سازش دشمن ایجنسیوں اور اسپانسرڈ غیر ریاستی عناصر کی جانب سے کی جارہی ہے۔ ہمارے دشمن دہشت گردی کے ذریعے ہمیں تقسیم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں جس کے بعد وہ فرقہ واریت اور نسلی تعصب کو ہوا دے کر ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور اس کا جواب ہمیں قومی اتحاد کا مظاہرہ کرکے دینا چاہیے۔پاک فوج کے مطابق پاکستان کے دشمنوں کی ہمیں بدنام کرنے کی مذموم سازش کو نادانستہ طور پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر فروغ دیا جارہا ہے جو افسو س ناک ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کا ادراک کریں۔ فاٹا سمیت ملک بھر میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر کرلیا گیا ہے اور کسی صورت اسے دوبارہ خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -