قسط نمبر 15۔ ۔ ۔ جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی

قسط نمبر 15۔ ۔ ۔ جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی
قسط نمبر 15۔ ۔ ۔ جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی

  

”کہیں بچوں کو کاٹ ہی نہ لے“ صائمہ نے خدشہ ظاہر کیا۔

”ارے نہیں بھئی، بلیاں اتنی خونخوار نہیں ہوتیں“ میں نے اسے تسلی دی۔

”ابھی دیکھا نہیں تھا کیسے مجھے کاٹنے لگی تھی....؟“

میں چائے پی کر بیڈ پر لیٹ گیا صائمہ چائے کے برتن کچن میں رکھ آئی اور میرے پاس بیٹھ گئی ۔ کچھ دیر بعد بچے بلی سمیت اندر آگئے۔

”ماما! کیٹی بھی ہمارے ساتھ سوئے گی“ مومنہ نے کہا۔

”نہیں بیٹا! چلو اسے باہر نکالو ، بلیاں بیڈ پر نہیں رات کو اپنے گھر میں سوتی ہیں۔ اس بے چاری کے بچے اس کا ویٹ کر رہے ہوں گے۔“ صائمہ نے ان کو سمجھایا۔ بلی نے میاﺅں کی آواز نکالی اور وہیں کارپٹ پر بیٹھ گئی۔ اسکا یہاں سے جانے کا موڈ بالکل نہیں تھا۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی داستان۔ ۔ ۔ چودھویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

”کتنی ڈھیٹ بلی ہے“ صائمہ نے اسے گھورا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا بلی نے بالکل انسانوں کے انداز سے صائمہ کو گھورا اور باقاعدہ غرانے لگی۔ شاید اسے صائمہ کی بات سن کر غصہ آگیا تھا۔ وہ صائمہ کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے غصے اور نفرت کا ملا جلا اظہار ہو رہا تھا۔ میں نے آج تک ایسی بلی نہ دیکھی تھی۔ اس کے چہرے سے باقاعدہ تاثرات کا اظہار ہو رہا تھا۔ صائمہ نے آتش دان سے راکھ کریدنے والی سلاخ اٹھائی اور جیسے ہی بلی کے قریب آئی وہ کھڑی ہو کر غرانے لگی۔ صائمہ نے زور سے سلاخ فرش پر ماری تاکہ بلی بھاگ جائے لیکن وہ بجائے ڈرنے کے اپنی جگہ پر کھڑی رہی۔

”کس قدر ڈھیٹ ہے یہ تو“ صائمہ نے دوبارہ سلاخ کو کارپٹ پر مارا۔ مجھے بلی کی آنکھوں سے قہر ٹپکتا نظر آیا۔ چھٹی حس نے جیسے مجھے خطرے سے آگاہ کیا بجلی کی تیزی سے میں نے صائمہ کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ وہ اپنے دھیان اسے بھگانے پر لگی ہوئی تھی میرے اوپر آن گری۔ اچانک بلی نے صائمہ پر چھلانگ لگا دی تھی اگر میں ایک لمحہ بھی دیر کرتا تو وہ اس کے حسین چہرے کو اپنے نوکیلے پنجوں سے ادھیڑ کر رکھ دیتی۔

بلی اپنے زور میں بیڈ کی دوسری طرف جا گری اب مجھے بھی غصہ آگیا۔ صائمہ کو ایک طرف کرکے میں نے سلاخ اس کے ہاتھ سے لے لی اور بلی کو ڈرانے کے لیے اسے بلند کیا۔

”فاروق دھیان سے یہ تو بہت خطرناک بلی ہے۔“ صائمہ کی سہمی ہوئی آواز آئی۔ بلی فوراً میری ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ میں جلدی سے پیچھے ہٹا کہ کہیں یہ میری ٹانگ پر نہ کاٹ لے لیکن اس کے انداز میں پیار تھا وہ بار بار اپنا جسم میری ٹانگوں سے رگڑتی تھی اور منہ سے میاﺅں میاﺅں بھی کر رہی تھی۔

دونوں بچے بھی سہم کر اس کی طرف دیکھ رہے تھے جس انداز سے اس نے غراتے ہوئے صائمہ پر حملہ کیا تھا اس بات سے بچے ڈر گئے تھے۔ میں نے سلاخ ایک طرف رکھ کر اسے اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور باہر لے گیا۔ جب میں اسے لان میں چھوڑ کر واپس آنے لگا تو اس نے بڑے زور سے میاﺅں کیا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اندھیرے میں اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ یوں تو سب ہی جانوروں کی آنکھیں اندھیرے میں چمکتی ہیں لیکن وہ چمک اور طرح کی ہوتی ہے۔ اس بلی کی آنکھوں سے جو روشنی نکل رہی تھی وہ بالکل سفید تھی۔ چاندنی جیسی اور عجیب بات یہ تھی کہ روشنی اس کی آنکھوں سے بالکل ایسے خارج ہو رہی تھی جیسے ٹارچ سے نکلتی ہے۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کی آنکھوں سے نکلنے والی روشنی کی شعاع میرے چہرے پر یوں پڑ رہی تھی جیسے دودھیا روشنی والی ٹارچ جلا کر کوئی میرے چہرے پر روشنی ڈال رہا ہو۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ مجھے اردگرد کا کوئی ہوش نہ تھا۔ صائمہ کی آواز نے مجھے بری طرح چونکا دیا۔ وہ میرے پیچھے کھڑی کہہ رہی تھی

”فاروق اندر آئیں کیوں سردی میں کھڑے ہیں؟“ میں جلدی سے اندر آگیا صائمہ اور بچوں کے سونے کے بعد میں بھی دوسرے کمرے میں جا کر سو گیا۔ آدھی رات کا عمل ہوگا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ ابھی میں جاگنے کی وجہ سمجھ نہ پایا تھا کہ مجھے کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا میں نے چونک کر دیکھا تو صائمہ تھی۔

”صائمہ وہاں کیوں کھڑی ہو؟ ادھر آﺅ میرے پاس“ میں نے اسے آواز دی۔ اس نے مڑ کر میری طرف دیکھا پھر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

”صائمہ....!“ میں نے دوبارہ اسے پکارا۔ وہ اسی طرح کھڑی رہی۔ میں بیڈ سے اتر کر اس کی طرف بڑھا۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔

”میں نے تم سے کل بھی کہا تھا کہ اس تعویز کو اتار دو جو تمہیں اس بوڑھے نے دیا ہے لیکن تم نے میری بات نہیں مانی“ اس نے بڑی رکھائی سے کہا۔

”یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے صائمہ! تم کس طرح بات کر رہی ہو؟ تمہیں معلوم ہے وہ کس قدر نیک انسان ہیں؟ میں نے کل بھی تمہاری بات کو نظر انداز کر دیا تھا آج پھر تم وہی بات کر رہی ہو۔ مجھے بتاﺅ یہ تعویز تمہیں کیا تکلیف دے رہا ہے؟“ اس بار میں برداشت نہ کر سکا اور شاید زندگی میں پہلی بار بڑے تلخ لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔

”میں کچھ نہیں جانتی مجھے اس قسم کی چیزوں سے الجھن ہوتی ہے جب تک یہ تمہارے گلے میں ہے میں تمہارے قریب نہیں آﺅں گی۔“ اس نے تلخی سے کہا اور کل رات کی طرح دروازہ دھاڑ سے بند کرکے باہر چلی گئی۔ میں گنگ سا کھڑا دیکھتا رہا لیکن نہ اسے روکا اور نہ پیچھے گیا سوچا صبح اس معاملے میں اس سے تفصیل سے بات کروں گا۔

دوسری صبح آنکھ دیر سے کھلی بچوں کے سکول کا ٹائم ہو رہا تھا تاس لیے میں نے اس معاملے کو شام تک ملتوی کرتے ہوئے باہر کی راہ لی۔ شام کو میں بھول گیا یوں یہ بات ٹل گئی۔ صائمہ بچوں کو ہوم ورک کروا رہی تھی اور میں شام کا اخبار دیکھ رہا تھا۔

”ارے یہ منحوس ابھی تک یہیں ہے۔“ صائمہ نے اچانک کہا۔

میں نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا۔ بلی جسے میں نے کل زبردستی کمرے سے باہر نکالا تھا شیشے سے چہرہ چپکائے بڑے غور سے صائمہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں صائمہ کے لیے اب بھی غصہ تھا۔ جب صائمہ نے اسے منحوس کہا تو وہ بڑے زور سے غرائی کھڑکی بند ہونے کی وجہ سے آواز تو سنائی نہیں دی لیکن اس کے نوکیلے دانت یہاں سے صاف دکھائی دے رہے تھے۔

جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید : رادھا