چین نے مجرموں کو 10ہزار کے مجمع کے سامنے فوری موت کی سزاسنادی، پولیس نے ایک ہی منٹ میں سزاپر عمل درآمد کردیا، ایسا کیا کیاتھا؟ آئندہ یہ کام کوئی نہیں کرے گا

چین نے مجرموں کو 10ہزار کے مجمع کے سامنے فوری موت کی سزاسنادی، پولیس نے ایک ہی ...
چین نے مجرموں کو 10ہزار کے مجمع کے سامنے فوری موت کی سزاسنادی، پولیس نے ایک ہی منٹ میں سزاپر عمل درآمد کردیا، ایسا کیا کیاتھا؟ آئندہ یہ کام کوئی نہیں کرے گا

  

بیجنگ (نیوز ڈیسک)نشے کی لعنت ہمارے ہاں عام ہو چکی ہے، اور کیوں نہ ہو، منشیات فروشوں کو کوئی پوچھنے والا جو نہیں۔ دوسری جانب چین میں منشیات فروشی کا دھندہ کرنے والوں کے ساتھ حکومت ایسا عبرتناک سلوک کر رہی ہے کہ جان کر آپ بھی کہیں گے کہ ان شیطان کے چیلوں کا یہی علاج ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق گوانگ ڈونگ صوبے کے شہر شانوے سے منشیات بنانے اور فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کئے گئے ڈیڑھ درجن ملزمان کے خلاف 24 جون کے روز 10 ہزار سے زائد شہریوں کی موجودگی میں مقدمے کی کاروائی کی گئی اور ان میں سے 13 افراد کو موت کی سزا سنا دی گئی۔ موت کی سزا پانیوالوں میں سے آٹھ افراد کی سزا پر موقع پر ہی عمل درآمد کیاگیا۔

بیجنگ نیوز کے مطابق شانوے انٹرمیڈیٹ پیپلزکورٹ اور لوفینگ پیپلزکورٹ میں کل اٹھارہ افراد کیخلاف منشیات بنانے اور فروخت کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایاگیا تھا۔ ان میں سے پانچ ملزمان کو معطل شدہ سزائیں دی گئیں جبکہ 13کو موت کی سزا سنائی گئی۔مقامی میڈیا کے مطابق لوفینگ کا علاقہ منشیات کا دھندہ کرنیوالوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اورمقامی حکام پہلے بھی یہاں متعدد بار منشیات فروشوں کیخلاف کارروائی کرچکے ہیں۔ یہ اس شہرمیں عوامی سماعت کا بھی پہلا موقع نہیں ہے۔ ا س سے پہلے 2015ءمیں بھی 38منشیات فروشوں کیخلاف ہزاروں شہریوں کی موجودگی میں کیس کی سماعت کی گئی تھی۔

عوامی سماعت اور سرعام سزائیں دینے کا مقصد عبرتناک مثالیں قائم کرنا تھا۔ گوانگ ڈونگ صوبہ میتھا موفیٹامین نامی منشیات پیداکرنے کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے جب کہ چین میں استعمال کی جانیوالی میتھا موفیٹا مین کی کل تعداد کا ایک تہائی سے زائد صرف ایک شہر لوفینگ کے دیہاتوں میں پید اکیاجاتاہے ۔

مزید : بین الاقوامی