2پاکستانیوں کے قاتل امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی’’دی کنٹریکٹر ‘‘ نامی کتاب شائع ہو گئی ،قتل سے رہائی تک کے واقعات کی کہانی خود ہی بیان کر دی

2پاکستانیوں کے قاتل امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی’’دی کنٹریکٹر ‘‘ نامی کتاب ...
2پاکستانیوں کے قاتل امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی’’دی کنٹریکٹر ‘‘ نامی کتاب شائع ہو گئی ،قتل سے رہائی تک کے واقعات کی کہانی خود ہی بیان کر دی

  

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں 2پاکستانی شہریوں کو جنوری 2011ء میں قتل کرنے والے سی آئی اے کے معروف امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے فہیم اور فیضان کے قتل کے بعد لاہور پولیس اور جیل میں گذارے جانے والے 49دنوں کی ’’کہانی ‘‘ اپنی نئی لکھی جانے والی کتاب ’’دی کنٹریکٹر ‘‘ میں بیان کر دی ،امریکی بدنام خفیہ ادارے سی آئی اے کے جاسوس ریمنڈ ڈیوس 2پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے کے 49دن بعد ہی مقتولین کے ورثا کو دیت ادا کر کے امریکی دباؤ پر اپنے ملک روانہ ہو گیا تھا ۔

تفصیلات کے مطابق 11جنوری 2011ء کو لاہور کے 2 نوجوانوں کو قتل کرکے پاکستان میں سفارتی ہلچل پیدا کرنے والے امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے پیش آنے والے واقعے اور زیر حراست رہنے کے تجربے کو کتابی شکل میں پیش کردیاہے۔دو پاکستانی شہریوں کو فائرنگ کرکے قتل کرنے والے سی آئی سے اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے اس اقدام کے بعد پاکستان کو امریکی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا،جبکہ دنیا بھر کی شہ سرخیوں میں جگہ پانے والے اس کیس میں امریکی پالیسی میکرز کا پاکستان پر دباؤ تھا کہ اسے سفارتی استثنیٰ حاصل ہے جس کے تحت اسے فوری رہا کیا جائے۔ریمنڈ ڈیوس کیس کے حوالے سے پاکستان میں کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں لیکن پہلی بار ریمنڈ ڈیوس نے اس سنگین ترین واقعہ کے حوالے سے خود پردہ ہٹایا ہے ۔ریمنڈ ڈیوس نے پاکستان میں 49 روز حراست میں گزارے تھے اور اسے 16 مارچ 2011 کو رہا کر دیا گیا تھا۔’’دی کنٹریکٹر ‘‘ نامی یہ کتاب امیزون ڈاٹ کام نے 27 جون کو ریلیز کی ہے ۔

کتاب کی تفصیلات کے مطابق پاکستان کے شہر لاہور میں 2011 میں پیش آنے والے واقعے کا بغور اور ذاتی جائزہ لیا گیا، جبکہ گرفتاری سمیت وہ واقعات جو ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے دونوں ممالک کے سفارت کاروں کی الٹ پلٹ سے پیدا ہوئے وہ بھی اس میں درج کیے گئے ہیں۔یاد رہے کہ امریکی شہری کے ہاتھوں دو افراد کے قتل نے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کو کشیدہ کردیا تھا، امریکا کی جانب سے ریمنڈ ڈیوس کے لیے سفارتی استثنیٰ کا دباؤ ڈالا گیا، جو پاکستانی حکام کی جانب سے اس پر کچھ واضح اور کچھ مبہم ردعمل کا سبب بنا۔اس وقت کے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ گرفتار امریکیوں کو سفارتی استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا،امریکی درخواست اس وقت مزید کمزور ہوگئی جب یہ بات سامنے آئی کہ گرفتار شخص پاکستان میں موجود سی آئی اے کے کارندوں میں سے ایک ہے،خون بہا کے عوض ریمنڈ ڈیوس کو دی جانے والی معافی کا مطلب امریکا کی جانب سے اس بات کو تسلیم کرنا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس استثنیٰ کا حقدار نہیں یا اس کا کیس لڑنے والی ٹیم کو اس بات کی امید نہیں رہی کہ وہ انتظامیہ کو رضامند کرسکیں گے کہ ریمنڈ ڈیوس کو استثنیٰ حاصل ہے۔اس کیس میں دفتر خارجہ نے کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا تھا اور نہ ہی ریمنڈ ڈیوس کے استثنیٰ کے حوالے سے کوئی سرٹیفکیٹ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرایا تھا۔دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ ٹرائل کورٹ پر چھوڑ دیاتھا ،ڈیڑھ مہینے تک جاری رہنے والے اس کشیدہ معاملے کا اختتام 16 مارچ 2011 میں اس وقت ہوا جب ہلاک شدگان کے اہلِ خانہ کو 23 کروڑ روپے (23 لاکھ ڈالر) ادا کرنے کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو پاکستان چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی۔امریکی حکام کی جانب سے ریمنڈ ڈیوس کی پاکستان میں ملازمت کے حوالے سے کبھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، بلکہ یہی کہا جاتا رہا کہ وہ اسلام آباد میں واقع امریکی ایمبیسی میں صرف ایک ٹیکنیکل سٹاف ممبر تھا جو ڈپلیومیٹک پاسپورٹ پر سفر کرتا تھا۔واضح رہے کہ ریمنڈ ڈیوس نے 27 جنوری 2011 کو لاہور کے مزنگ چوک میں دو افراد فیضان اور فہیم کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ واقعے کے بعد مقامی پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا اور ابتدائی طور پر کیس مقامی عدالت میں چلا۔

بعد ازاں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے رویے، امریکی دباؤ اور عوامی ردعمل کے بعد کیس کے حساس نوعیت اختیار کرنے پرسماعت سینٹرل جیل لاہور میں کی جاتی رہی ، اس دوران سفارتی اسثنیٰ سمیت کئی قانونی معاملات زیربحث اور زیرغور آنے کے بعد اسے رہائی مل گئی۔ ریمنڈ ڈیوس کو راتوں رات امریکا روانہ کردیا گیاتھا اور وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے رہائی کی صدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقتولین کے ورثا کی طرف سے ملزم کو معاف کرنے کے بعد اسے رہا کر دیا گیا تھا۔ریمنڈ ڈیوس کی آپ بیتی ’’ دی کنٹریکٹر ’’ کے نام سے شائع ہوئی ہے جس میں اس نے افغانستان اور پاکستان میں اپنی جاسوسی کاروائیوں کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔

کتاب کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کتاب نے پاکستان کی مشہور مذہبی و سیاسی تنظیم جماعت اسلامی کو مشہور کردیاہے ،کتاب کے ٹائٹل پر جماعت اسلامی کراچی کے ایک مظاہرہ کا عکس ہے، مظاہرین نے ریمنڈ ڈیوس کو پھانسی دینے کے مطالبے پر مشتمل بینر تھام رکھا ہے، جس پر جماعت اسلامی کا نام واضح طور پر پڑھا جا سکتا، پس منظر میں مظاہرین جماعت اسلامی کے جھنڈے تھامے ہوئے ہیں، اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی یہ کتاب بالواسطہ طور پر جماعت اسلامی کی دنیا بھر مشہوری کا باعث بن گئی ہے۔ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کے حوالے سے جب جماعت اسلامی پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس نے 2بے گناہ پاکستانی شہریوں کو سرعام قتل کیا تھا ،جماعت اسلامی کی قیادت نے اپنے ہم وطن شہریوں کے قتل پر امریکی جاسوس کے خلاف جس جرآت اور سنجیدگی کا کا مظاہرہ کیا تھا،اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔

مزید :

بین الاقوامی -