یہ خوفناک مخلوق کون سی ہے اور یہ ایسے کیوں ہیں؟ پہلی دفعہ ایسا قبیلہ منظرعام پر آگیا کہ انسان خوف کے مارے دوڑ لگادے

یہ خوفناک مخلوق کون سی ہے اور یہ ایسے کیوں ہیں؟ پہلی دفعہ ایسا قبیلہ منظرعام ...
یہ خوفناک مخلوق کون سی ہے اور یہ ایسے کیوں ہیں؟ پہلی دفعہ ایسا قبیلہ منظرعام پر آگیا کہ انسان خوف کے مارے دوڑ لگادے

  

پورٹ موریسبی(نیوز ڈیسک) بحرالکاہل کے جزائر نیوپاپواگنی میں یوں تو زندگی کا ہرپہلو ہی حیرت انگیز ہے لیکن وادی واغی کے مٹی کے مادھو دنیا میں اپنی مثال آپ ہیں۔ دی مرر کے مطابق ان قبائل سے ملنے کے لیے آپ کو ماﺅنٹ ہیجن کے جنگلات کا رخ کرنا پڑتاہے جہاں بارشیں کم ہوتی ہیں، مچھروں کی بہتات ہے لیکن ملیریاجیسی بیماری کا نام و نشان نہیں۔

مقامی لوک داستانوں کے مطابق ہزاروں سال قبل وادی واغی پر ایک دشمن قبیلے نے حملہ کیا اوریہاں کے مرد قریب واقع دلدلی علاقے میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ انہیں دن بھر کیچڑ میں چھپے رہنا پڑ ا اور شام ڈھلنے کے بعد وہ باہر نکلے تو سر سے پاﺅں تک کیچڑ میں لت پت تھے۔ دشمن قبیلے کے لوگوں نے انہیں دیکھا توبھوت سمجھ کر اس قدر حواس باختہ ہوئے کہ سر پر پاﺅں رکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس دن سے واغی قبیلے کے مردوں کی روایت ہے کہ سالانہ تہوار کے موقع پروہ اپنے جسم کیچڑ میں لت پت کرتے ہیں اور سروں پر مٹی سے بنائے ہوئے ماسک پہن کر ہمسایہ قبائل کا رخ کرتے ہیں۔

اگرچہ یہ رسم ان کی تاریخ اور کلچر کا حصہ ہے لیکن باہر کی دنیا کا کوئی شخص انہیں اس حالت میں دیکھ لے تو خوف سے کانپ اٹھتا ہے۔ اب تو آپ نے ان کی تصاویر دیکھ لیں، اگر کبھی ان سے سامنا ہوجائے تو بالکل مت گھبرائیے گا کیونکہ یہ بھوت نہیں ہیں۔ یہ تو اس قبیلے کی قدیم روایت ہے جسے یہ آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس