ممبئی حملے بھارت کا خود ساختہ ڈرامہ تھا

ممبئی حملے بھارت کا خود ساختہ ڈرامہ تھا
ممبئی حملے بھارت کا خود ساختہ ڈرامہ تھا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جرمن مصنف ایلس ڈیوڈسن نے لندن انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممبئی حملے بھارت کا خود ساختہ ڈرامہ تھا۔ ڈیوڈسن نے بھارت کے مکروہ پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا۔

’’دی بیٹرائل آف انڈیا‘‘کے مصنف کا لندن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا بھارت نے ممبئی حملے کا ڈرامہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے رچایا تھا۔

بقول ڈیوڈسن ان حملوں سے بھارت کو اسرائیل اور امریکہ سے تعلقات بڑھانے کا موقع ملا۔ برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیر احمد نے عالمی اداروں سے ممبئی حملوں کی شفاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے مقاصد کے لئے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگائے، لیکن ڈیوڈسن کی تحقیقات نے بھارت کے پروپیگنڈے کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

مصنف نے واضح کیا کہ انہوں نے مذکورہ کتاب تمام حقائق ،دستاویزات اورمشاہدے کے بعد ہی تحریر کی ہے ۔ حملوں کے مقامات کا جائزہ لینے اوراخبارات کے تراشے اور مشمولات کے معائنے کے بعد ہی کتاب تحریرکی گئی ہے۔

ایلس ڈیوڈسن اس سے قبل امریکہ کے 9/11حملہ پر بھی کتاب لکھ چکی ہیں۔امریکا نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں کے ذمہ داروں خاص طور پر حافظ سعید کے خلاف کارروائی کرے۔ ٹرمپ کی ٹویٹ کے بعد پاک امریکا تعلقات میں جوخلیج پیدا ہوئی ہے، اس کے تناظر میں دیکھا جائے تو ممبئی دہشت گرد حملوں کے معاملے پر بھارت کی زبان بولنے کے امریکی طرز عمل میں چند ہفتوں سے تیزی آنے کی وجوہ کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں،مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ممبئی حملوں کو لے کر پاکستان کو دبا ؤمیں لانے کے پرانے حربے کو پھر سے استعمال کرنے کے غبارے سے ہوا خود بھارت میں شائع ہونے والی تحقیقاتی کتاب نے ہی نکال دی ہے۔

میڈیارپورٹ کے مطابق ممبئی حملوں سے متعلق ہوش ربا انکشافات اور حقائق پر مبنی تجزیے پر مشتمل یہ کتاب بھارتی پبلشر فروز میڈیا، نیو دہلی کی شائع کردہ ہے۔ مصنف معروف تحقیقاتی صحافی ایلیس ڈیوڈسن نے جن کا تعلق یہودی مذہب اور جرمنی سے ہے، غیرجانبداری سے سامنے لائے گئے، حقائق کو مصدقہ اور قابل بھروسہ بنا دیا ہے۔2017ء میں سامنے آنے والی اس کتاب میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دہلی سرکار اور بھارت کے بڑے اداروں نے حقائق مسخ کئے۔ بھارتی عدلیہ انصاف کی فراہمی اور سچائی سامنے لانے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی۔

ممبئی حملوں کے مرکزی فائدہ کار ہندو انتہا پسندو قوم پرست رہے کیوں کہ ان حملوں کے نتیجے میں ہیمنت کرکرے اور دوسرے پولیس افسران کو راستے سے ہٹایا گیا۔ انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ ساتھ نہ صرف بھارت بلکہ امریکا اور اسرائیل کے کاروباری، سیاسی اور فوجی عناصرکو بھی اپنے مقاصد پورے کرنے کے لئے ان حملوں کا فائدہ پہنچا، جب کہ صحافی ایلیس ڈیوڈسن اپنی تحقیقات میں اس نتیجے پر بھی پہنچا کہ ممبئی حملوں کا پاکستانی حکومت اور فوج کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

مصنف ایلیس ڈیوڈسن کی تحقیقات کے مطابق ممبئی دہشت گرد حملوں کے حقائق چھپانا بھارتی سیکیورٹی و انٹیلی جنس اداروں کی نااہلی نہیں، بلکہ منصوبہ بندی کے تحت حقائق میں جان بوجھ کر کی گئی ہیرا پھیری تھی، اس کیس کی عدالتی کارروائی بھی غیرجانبدار نہیں تھی، بلکہ اہم ثبوت اور گواہوں کو نظرانداز کیا گیا۔تحقیقاتی صحافی کے نزدیک ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی و عمل درآمد کی سازش میں بھارت کے ساتھ ساتھ امریکا اور اسرائیلی کردار بھی پنہاں ہے۔

مصنف نے ممبئی حملوں کو خفیہ آپریشنز طرز کے حملے قرار دیا، جس سے یہ تاثر قائم کیا گیا کہ بھارت کو دہشت گردی سے مستقل خطرہ ہے، اس سے بھارت کو دہشت گردی کی عالمی جنگ کے لیڈنگ ممالک کے ساتھ کھڑا ہونے میں مدد ملی۔ ممبئی حملوں میں ہیمنت کرکرے اور دوسرے پولیس افسروں کے قتل کے حوالے سے اہم اطلاعات کو بھی چھپایا گیا۔

مصنف نے اجمل قصاب والے پہلو پر بھی بھرپور توجہ دی۔ ایلیس ڈیوڈسن کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ممبئی حملوں کے ان متاثرین اور گواہوں کے بیانات نہیں لئے گئے جو واقعے کے سرکاری بیانیے کو اپنانے پر تیار نہ ہوئے، ان گواہوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں، جنہوں نے نریمان ہاوس میں حملوں سے دو روز قبل اجمل قصاب اور چند دیگر افراد کو اکٹھا ہوتے دیکھا۔

کچھ مقامی دکاندار اور رہائشیوں نے یہ گواہی بھی دی کہ شدت پسند کم از کم پندرہ دن نریمان ہاوس میں رہتے رہے۔کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کئی گواہوں کو سکھایا گیا کہ کس طرح انہیں سرکاری موقف اختیار کرنا ہے۔ بھارتی اور اسرائیلی حکومتیں نریمان ہاؤس واقعے سے متعلق ثبوت گھڑتی رہیں اور مرضی کی گواہیاں حاصل کرنے میں ملوث نظر آئیں۔

اجمل قصاب کے اقبالی بیان کے مطابق وہ ممبئی حملوں سے بیس دن پہلے گرفتار کیا گیا اور پھر ملوث کیا گیا۔ بعد ازاں اجمل قصاب اپنے اس بیان سے مکر گیا۔

مصنف نے اپنے تجزیئے میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ دعوی کیا گیا کہ قصاب پورے تاج ہوٹل کو اڑانا چاہتا تھا، تاہم اس مقصد کے لئے اس کے پاس آٹھ آٹھ کلو کے محض چار بم تھے، جو بہت ہی ناکافی تھے۔

مزید : رائے /کالم