کوالٹی ایجوکیشن (2)

کوالٹی ایجوکیشن (2)
کوالٹی ایجوکیشن (2)

  



بطور ایک استاد کے اور ایک بڑی یونیورسٹی کی کوالٹی ٹیم کے ممبر ہونے کے ناطے یہ سوال عموماً پریشان کرتا ہے کہ ہماری جامعات میں تعلیم اس معیار پر کیوں نہیں، جہاں یہ حکومت کو پالیسی بنانے میں مدد دے اور ملک عزیز اعلی معیاری تعلیم کی وجہ سے پہنچانا جا ئے یہ بات اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کوئی بھی قوم صفِ اول میں اس وقت تک شامل نہیں ہو سکتی جب تک وہ تعلیمی انقلاب کے ذریعے معاشی میدان نہ مار لے۔

پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بنیادی کام یہی ہے کہ جامعات کو بالخصوص سائنسی اور تخلیقی طور پر مستحکم کیا جائے اور اسی مقصد کے لئے یورنیوسٹیوں میں کوالٹی انہانسمنٹ سیلز معرض وجود میں لائے گئے۔ جامعات بنیادی طور پر ایسی جگہیں ہیں، جہاں محققین کو اس چیز کی تحریک دی جاتی ہے کہ وہ پرُسکون ماحول میں بیٹھ کر نئی نئی ایجادات کریں تاکہ مُلک خوشحالی کی جانب گامزن ہو۔ اس سلسلے میں ایچ۔ای۔ سی پروجیکٹس کی شکل میں مالی معاونت بھی کرتی ہے۔اس کے باوجود کیوں تعلیمی معیار کا فقدان ہے؟ یہ سوال ایک ہمہ گیر تجزیے کا متقاضی اور یقیناًایک اخباری کالم اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

بطور ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل میری رائے میں سب سے بڑا مسئلہ وہ مزاحمت ہے جو عام طور پر اس سیل کو برداشت کرنا پڑتی ہے ان لوگوں کی طرف سے جو کوالٹی کی غرض و غائت کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتے اس کا سب سے بڑ۱ حل تو وہی ہے ،جو پچھلے کالم میں تحریر کیا جا چکا ہے کہ ایک رہنما اپنی شخصیت سے متاثر کر کے لو گوں کو کوالٹی اپنانے کی طرف مائل کر سکتا ہے اور دوسرا حل یہ ہوسکتا ہے کہ جامعہ میں کام کرنے والے تمام لوگوں کو کوالٹی کے حوالے سے عقلی دلیلوں کے ساتھ بتایا جائے کہ کوالٹی کیا ہے ، کس طرح سارا معاشی اور تعلیمی ڈھانچہ صرف کوالٹی پر منحصر ہے اور کیسے ہم جامعات میں کوالٹی تعلیم دے کر دُنیا کی قوموں میں سر فہرست آسکتے ہیں۔

اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ کوالٹی کو جامعات کے تمام ملازمین اور بالخصوص اساتذہ کی عادت ثانیہ نہیں بن جائے اس کے لئے ایک تو رئیس جامعہ کی توجہ اور حوصلہ افزائی ضروری ہے اور دوسری طرف اِس امر کی اشد ضرورت ہے کہ مختلف سمینار اور ورکشاپز کے ذریعے کوالٹی کی Rationalization کا عمل شروع کیا جائے۔

مستزاد یہ کہ سینکڑوں کالجز بھی اب یونیورسٹیوں کے ساتھ ملحق ہیں اور ان کی تعلیمی کارکردگی بھی یونیورسٹی کارکردگی کے ساتھ جڑی ہے۔ کالجز میں کوالٹی کی حالت نہ صرف زیادہ خراب ہے بلکہ وہاں پر تعلیمی معیار کو صحیح کرنے کے ادراک کی بھی کمی ہے اور یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

اس سلسلے میں حکومت کو بہت زیادہ سنجیدہ اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ میں اپنی جامعہ کے حوالے سے ایک کیس سٹڈی کے طور پر بنانا چاہتا ہوں کہ ہم نے کالجز میں کوالٹی کے حوالے سے آگہی پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن چونکہ کالجز انتظامی طور پر ڈائریکٹوریٹ کے تحت کام کرتے ہیں اس لئے اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔

اِس سلسلے میں راقم نے ایچ ای سی کی میٹنگ میں ذمہ داران کی توجہ دلائی اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پہلو پر ایچ ای سی بھی غور کرے گی،کیونکہ جب تک جامعات کے اندر کالجز سے اچھے دماغ نہیں آئیں گے،جامعات اپنے حقیقی مقصد کو حاصل نہیں کر سکیں گی۔

اس سلسلے میں ایک اور احسن قدم یہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ ایچ ای سی ان تمام اداروں خواہ وہ یونیورسٹی ہوں یا کالجز کی حوصلہ شکنی کرے،جو مطلوبہ معیار پر پورے نہ اُترتے ہوں اور جو تعلیمی ادارے اس سلسلے میں پیش رفت کریں انہیں Recognize کیا جائے۔

ایچ ۔ای۔

سی ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ایک مشورہ یہ بھی ہے کہ مختلف اداروں کی کوالٹی انہانسمنٹ سیلز کو پابند کیا جائے کہ وہ گزرے سال کے سارے کاموں کو ایک کیس سٹڈی کی شکل میں لکھے اور ان کو کسی فورم پر پیش کیا جائے تاکہ نئی پالیسیاں زیادہ friendly اورeffective ہوں۔ اِس ضمن میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ایچ۔ ای۔ سی اس سلسلے میں بڑا نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

ہر گزرتے سال میں بالخصوص نئی چیزیں شامل ہو رہی ہیں۔ پرانی چیزوں کو بہتر کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں بالخصوص تین کام واقعی قابلِ تحسین ہیں۔

(1) IPE

(2)SAR

(3)M.Phil/ PhD Review

مَیں ان تینوں کا ذکر اس لئے بھی کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس سال یہ تینوں کا م رئیس جامعہ کی خصوصی ہدایت پر (بالخصوص دو)ہم نے اپنے ادارے میں کروائے اور کوالٹی کے حوالے سے ہمیں حیران کن نتائج ملے۔

اس میں سرفہرست تو Institutinal Perfomance Evaluation (IPE) ہے ۔ اس کی خوب صورتی یہ ہے کہ تمام جامعہ کے انتظامی اور تدرسی امور کو باہم یکجا (integration) کر کے ایک جامع تصویر بنا کر دیکھی جاتی ہے کہ ادارے میں کون سا محکمہ ایسا ہے جو مزید توجہ چاہتا ہے اور کس محکمے کی کارکردگی بہتر ہے۔

IPE میں ایسے گوشوں Parameters کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے جو براہِ راست نہیں، بلکہ بالواسطہ تعلیمی کارکردگی پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں۔ IPE تقریباً ہر تین سال بعد کروائے جاتے ہیں اور یقیناً اس کو باقاعدگی سے کروانے والے ادارے کوالٹی میں بہت آگے ہوتے ہیں۔

دوسرا قابلِ تحسین کام جو ایچ۔ای۔ سی نے کہا ہے وہ ہے ایم فل اور پی۔ایچ۔ڈی کا جائزہ (Review) چونکہ یونیورسٹیز کا اصل کام بھی اعلیٰ تعلیم Higher Education کو فروغ دینا ہے تو M.Phil/ PhD بھی دراصل یونیورسٹیز کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔

اس Review سے نہ صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ M.Phil/ PhD سکالر کن مراحل سے گزر کر یہاں تک پہنچتا ہے، بلکہ یہ بھی کہ اس وقت وہ کیا کر رہا ہے کس مرحلے میں ہے۔ کیا تحقیق شروع ہو گئی اور اگر ہوئی ہے تو کس مرحلے میں ہے۔

بقیہ اسی طرح کتنے اساتذہ موجودہیں اور وہ کب سے ڈپیارٹمنٹ میں ہیں۔ انہوں نے ڈگری کہاں سے لی ۔ ان کی achievements کیا ہیں۔ پھر یہ کہ کتنے طلباء کے لئے کتنے اساتذہ ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔یہ ساری معلومات کسی بھی ادارے بالخصوصHigher Education کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ کوالٹی کو بڑھانے کے لئے جو بنیادیMechanismہے اس کا نام SAR ، یعنی Self Assessment Report ہے تو غلط نہ ہوگا۔

یہ وہ بنیادی document ہے، جو یونیورسٹی کے ہر پروگرام کے لئے بنایا جاتا ہے اگر کوئی department تین پروگرام میں ڈگری کرو ا رہا ہے جیسے MSc BSاورM.Phil تو تینوں کا الگ الگ SAR بنے گا۔

یہ ایک بنیادی document ہوتا ہے جو پروگرام کو شروع کرنے کی وجہ، پروگرام کی مارکیٹ میں پزیرائی، اس کے بنیادی اغراض و مقاصد، اس پروگرام میں کون کون سے اور کتنے مضمون پڑھائے جائیں گے۔

پروگرام کا دورانیہ کتنا ہوگا اور اس طرح کی اور چیزیں جیسے اس پروگرام کے لئے infrastructureکی کیا ضرورت ہے۔ Labs درکا ہیں یا نہیں اگر چاہتے تو کیا یونیورسٹی کے پاس مطلوبہLabs ہیں یا نہیں۔

پھر اسی کاAudit کیا جاتا ہے اور اس پر Corrective Action بھی لیا جاتا ہے ۔ آپ ذرا غور کریں کہ اگر ہر سال باقاعدگی سے کسی بھی پروگرام کا SAR ہوتا رہے تو وہ پروگرام کتنا بہتر اور پھر بہترین ہوتا چلے گا۔

مزید : رائے /کالم


loading...