تحریکِ نسواں کا حقیقی مقصد سے انحراف

تحریکِ نسواں کا حقیقی مقصد سے انحراف

  



معاشرے میں ’’تحریک نسواں‘‘ ہمیشہ جنگ کا شکار رہی ہے، جس میں ایک عورت کو ایک مرد کے مقابلے میں ایک غیر مساوی فرد کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے، لیکن بہت طویل عرصے سے اس تحریک کا بنیادی مقصد مسخ ہو چکا ہے اور آخر کار یہ لفظ ’’تحریک نسواں‘‘ محض ایک ایسا استعارہ بن چکا ہے،جس کے ذریعے معاشرے میں مرد و زن میں مقابلے بازی کی فضا کو فروغ دیتے ہوئے خرابی و مسائل پیدا کرنا ہے ، ایسا معاشرہ جو بظاہر صرف مردوں کی اجارہ داری پرمشتمل ہوتا ہے اگر مشہور زمانہ اور تازہ ترین رجحانات اسی طرح فروغ پاتے رہیں تو ’’تمام مرد حضرات کی حیثیت محض ردّی کی ٹوکری کی سی رہ جائے گی‘‘جبکہ خواتین کا مردوں کے ساتھ الحاق اور تعلقات عامہ کے حوالے سے اعداد و شمار محدود اور سوالات زیرِ غور ہیں ، نظریہ اخلاق اس تحریک کے بنیادی عقائد کے خلاف ہے جس کے مطابق خواتین اپنے حقوق کے تحفظ کی پاسداری اور معیار زندگی چاہتی ہیں جو مرد حضرات کو میسر ہیں۔ تحریک نسواں کے علمبرداروں کی ستم ظریفی ناپید انواع کی طرح ختم نہیں ہوئی۔

زن بیزاری اور مردانہ جارحیت کے خلاف شروع کی گئی اس تحریک کو تعلیم یافتہ اور خود مختار خواتین کی جانب سے جنسی تحریک کا لبادہ پہنا دیا گیا۔ ایک ایسا دورجہاں معاشرے کی زینب اور آصفہ کے ساتھ سفاکی اور ظلم کی نئی داستانیں تاریخ کے صفحات پر سیاہ الفاظ میں درج ہو رہی ہیں،وہاں پر صرف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ان واقعات کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کافی نہیں،بلکہ صحیح معنوں میں ان واقعات کی روک تھام کے لئے عملی طور پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ حقوق نسواں جیسی ایک گراں قدر تحریک کو مادیت پرستی سے پاک کر کے اسے اس کے حقیقی مقصد میں ڈھالنے کے لئے ہمیں قدم آگے بڑھانے ہوں گے۔

تحریک نسواں ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے ، ایک ایسی کاوش جس کے ذریعے بحیثیت ایک مضبوط خاتون حقوق کی صحیح معنوں میں پاسداری ممکن ہو سکے ۔ برائے مہربانی صرف مردوں کے نام پر اس تحریک کو اس کے حقیقی مقصد سے منحرف نہ کیا جائے ۔ یہ دونوں اصناف کے لئے باعث ذلت ہے ۔ حقیقی تحریک نسواں کی روح کو ازسر نو بیدار کیا جائے ۔ جس میں خواتین کو محض مظلوم و بے یارو مددگار اقلیت کے طور پر پیش نہ کیا جائے، بلکہ خواتین کو طاقت اور مضبوطی کا مجسم پیش کیا جائے ۔(سید محمد علی حیدر لاہور)

مزید : رائے /اداریہ


loading...