میڈیا کے لئے الیکشن کمیشن کا ضابطۂ اخلاق

میڈیا کے لئے الیکشن کمیشن کا ضابطۂ اخلاق

  



الیکشن کمیشن نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لئے جو ضابط�ۂ اخلاق جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ میڈیا عوام کو درست آگاہی فراہم کرنے کا پابند ہو گا،کسی جماعت یا امیدوار سے متعصبانہ یا جانبدارانہ رویہ اختیار نہیں کرے گا،افواہوں اور قیاس آرائیوں کی حوصلہ شکنی کرے گا، نفرت انگیز تقاریر اور عوام میں بے چینی پھیلانے والے مواد کی تشہیر نہیں کرے گا تاہم امیدواروں یا پارٹی نمائندوں کے غیر قانونی بیانات کا ذمہ دار میڈیا نہیں ہو گا،سیاسی جماعتیں یا امیدوار بھی تنقید کرنے پر میڈیا کو زیر عتاب نہیں لائیں گے۔میڈیا غیر جانبدار اور متوازن رپورٹنگ کا پابند ہو گا۔ٹاک شوز، خبروں، تجزیوں، انٹرویوز اور حالاتِ حاضرہ کے پروگراموں میں پیشہ ورانہ معیار کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے گا، ضابطہۂاخلاق کے مطابق پُرتشدد عناصر یا ایسے مواد کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ میڈیا برداشت کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کرے گا، کسی کے مذہب،عقیدے یا ذات کو نشانہ بنانے کے متعلق مواد شائع یا نشر نہیں کیا جائے گا۔امیدوار سیاسی جماعتیں اور حکومتی اتھارٹیز آزادئ اظہار کے حق کو تسلیم کریں گی، کسی بھی انتخابی پروگرام یا کوریج کی پہلے سے سنسر شپ نہیں کی جائے گی، میڈیا کے خلاف پُرتشدد کارروائیوں، ڈرانے دھمکانے اور اُن کی املاک کو نقصان پہنچانے پر اتھارٹیز مکمل تحقیقات کی پابند ہوں گی،جس امیدوار یا جماعت کو بدنام کیا گیا یا اس کے متعلق غلط بیانی کی گئی اُسے جواب دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن اِس سے پہلے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لئے بھی ضابط�ۂ اخلاق جاری کر چکا ہے،اب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لئے جو ضابطہ جاری کیا گیا ہے اگر اِس پر پوری طرح عمل کیا جائے تو نہ امیدواروں کو شکایت پیدا ہو گی اور نہ ہی میڈیا کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ اس کے اطلاعات کی فراہمی کے حق کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے،میڈیا پرسنز اور اینکرز اپنی اپنی رائے رکھتے ہیں اور اس کا اظہار بھی کھل کر کرتے ہیں تاہم ایسی رائے کے اظہار کے لئے بے بنیاد اطلاعات اور قیاس آرائیوں کا سہارا لینا قرینِ انصاف نہیں ہے،لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ نہ صرف غلط معلومات کی بنیاد پر تعصب پر مبنی تجزیئے کئے جاتے ہیں،بلکہ ایسی قیاس آرائیاں بھی کی جاتی ہیں، جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،لیکن بعض اینکر ایسی قیاس آرائیاں نہ صرف تسلسل کے ساتھ کرتے ہیں،بلکہ اُن کا طرزِ عمل اور لہجہ بھی کہیں کہیں قابلِ اعتراض اور سوقیانہ ہو جاتا ہے۔ پیمرا کے سابق سربراہ نے اِس سلسلے میں شکایت بھی کی تھی کہ وہ اگر کسی قابلِ اعتراض پروگرام پر کسی چینل کے خلاف کوئی کارروائی کرتے ہیں تو وہ فوراً عدالتوں سے حکمِ امتناعی لے آتے ہیں اور ان کی تعداد سینکڑوں میں بتائی گئی تھی۔انہوں نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ بعض چینل اُنہیں کھلی دھمکیاں بھی دیتے ہیں۔

ضابط�ۂ اخلاق میں خصوصی طور پر یہ بات رکھی گئی ہے کہ کسی بھی میڈیا ہاؤس کے خلاف اس طرح کی دھمکیوں کے بعد یہ ضروری ہو گا کہ حکام اس کی تحقیقات کرائیں، ضابطہ اخلاق کے اِس پہلو پر میڈیا ہاؤسز اطمینان ظاہر کریں گے، اتفاق سے پیمرا کے نئے چیئرمین بھی چارج سنبھال رہے ہیں یہ اُن کی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ الیکٹرانک میڈیا کو نہ صرف الیکشن کمیشن کے ضابطۂ اخلاق کا پابند کریں،بلکہ عمومی کوریج کو بھی پیمرا قوانین کے تابع کروائیں اور مروجہ قوانین پر عملدرآمد کروائیں،پیمرا کو یہ بھی چاہئے کہ وہ ایسے مقدمات کو محنت اور جانفشانی سے لڑے، جس میں اس کے احکامات کے خلاف عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کئے گئے ہیں، مقدمات میں اگر پیمرا کا مقدمہ مضبوط ہو گا تو اس کے حق میں فیصلہ آ جائے گا،بصورتِ دیگر چینل یہ مقدمہ جیت جائیں گے۔تاہم محض حکمِ امتناعی کی بنیاد پر سالہا سال تک پیمرا قوانین کا مذاق اُڑانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔اِس سلسلے میں پیمرا کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی اتھارٹی کی قوت منوائے اور نہ ماننے کے خلاف ملکی قوانین کے تحت کارروائی کرے تاہم کسی چینل کے خلاف کسی قانون کے پردے میں انتقامی کارروائی کرنا بھی غلط ہو گا۔

عموماً دیکھا گیا ہے کہ بعض اینکر اگر کسی ایک چینل کی ملازمت چھوڑ کر دوسرے چینل میں چلے جاتے ہیں تو نئے چینل میں پہنچ کر اپنے سابق چینل کے خلاف الزام تراشی میں ہر قسم کی اخلاقی حدود و قیود پھلانگ کر اپنے سابق مالکان کے خلاف الزام تراشی پر اُتر آتے ہیں۔ایک چینل نے اپنے حریف کے خلاف تسلسل کے ساتھ ایسی مہم جاری رکھی تو اُس نے لندن کی ایک عدالت میں اُس کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا،جس پر اس چینل کو بھاری جرمانہ ہو گیا،لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ اس چینل نے پاکستان میں وہی الزامات دہرانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے،جو لندن کی عدالت میں ثابت نہیں ہو سکے تھے، بہتر تھا کہ یہ چینل اپنے الزامات پر معذرت کرتا،لیکن اس اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ بھی نہیں کیا گیا۔ اب الیکشن مہم کے دوران چونکہ الیکشن کمیشن کا ضابط�ۂ اخلاق نافذ ہو گا،اِس لئے امید کرنی چاہئے کہ اب تمام چینلز اس کی پابندی کریں گے۔

پرنٹ میڈیا میں صورتِ حال اگرچہ بہتر ہے تاہم بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ کئی اخبارات بھی چینلوں کی روش پر چلنے کی کوشش میں بڑی دور تک چلے جاتے ہیں اور اپنے مخالفین کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہوئے ڈس انفارمیشن کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں،غلط خبروں کی شکایت تو پاکستان کی حکومت کو بھی ہے،جس کو عالمی سطح پر اس کا سامنا ہے اور بھارت اِس میں پیش پیش ہے، جو اپنے ہاں کسی بھی واردات کا ملبہ کوئی وقت ضائع کئے بغیر پاکستان اور اس کے اداروں پر ڈال دیتا ہے اور پھر بھارتی میڈیا اپنی حکومت کی اِس مہم کو آگے بڑھاتا ہے،سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں کے خلاف ایسی مہم کے بعض اکاؤنٹ بھارت سے آپریٹ ہوتے ہیں۔پاکستان کے اندر بھی بعض سیاست دان الزام تراشی کی مہم میں ہر حد سے گذر جاتے ہیں اور اگر ان کے خلاف کسی عدالت کا فیصلہ آ جائے تو ہر قسم کی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر ایسا فیصلہ کرنے والے جج کے خلاف مہم شروع کر دیتے ہیں۔ضابطہ اخلاق کے اجرا کے بعد توقع رکھنی چاہئے کہ اس کی پابندی کی جائے گی اور اس کی خلاف ورزی سے گریز کیا جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...