انتخابات،دھاندلی کے الزام اور دلچسپ مراحل

انتخابات،دھاندلی کے الزام اور دلچسپ مراحل
انتخابات،دھاندلی کے الزام اور دلچسپ مراحل

  



انتخابی عمل ہمیشہ سے مشکل اور دلچسپ رہا، جہاں تک ہمارے پیارے وطن کا تعلق ہے تو یہاں ہمیشہ ہار جیت تو ہوئی،لیکن شکست کبھی کھلے دِل سے قبول نہیں کی گئی،ہر بار دھاندلی کے الزام لگائے گئے، ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ تو دھاندلی کے الزام ہی کو عذر بنا کر اُلٹا گیا اور بالآخر ان کو ہمیشہ کے لئے سامنے سے ہٹا دیا گیا۔

یہ الگ بات ہے کہ ان کی روح یا بھوت اب تک اپنا اثر دکھا رہا ہے اور آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو انہی کے نام کی ضرورت ہے۔انتخاب میں دھاندلی کی کئی اقسام ہیں، ایک یہ بھی کہ کسی بااختیار نے کل ووٹوں میں خود سے ہزاروں ووٹ جمع کر کے ہارنے والے کو جتا دیا،اس کے لئے ہم دو مبینہ واقعات کی نشاندہی کرتے ہیں، ایک تو اندرون موچی دروازہ میں بلدیاتی انتخابات کا ہے،جو جنرل ضیاء الحق نے کرائے تھے، گلزار بٹ راوی ہیں کہ چوک نواب صاحب کے شیخ تاج(مرحوم) بہت بڑے جیالے تھے،لیکن بلدیاتی انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے اور ان کو کونسلر کے لئے ٹکٹ بھی مل گیا، پیپلزپارٹی نے ان کے مقابلے میں جیالے ملک بشیر کو اتارا، یہ انتخابات غیر جماعتی تھی اور پیپلز پارٹی والے ’’عوام دوست‘‘ کے ٹائٹل سے حصہ لے رہے تھے، گلزار بٹ بتاتے ہیں کہ ملک بشیر غالباً 121 ووٹوں کے فرق سے جیت گئے اور پیپلزپارٹی والے جشن منانے لگے، شیخ تاج افسردہ ہو گئے، راوی کے مطابق وہ بھاگم بھاگ ماڈل ٹاؤن پہنچے اور محترم محمد شہباز شریف کو رو کر بتایا جواب میں اُن سے کہا گیا کہ وہ بیکار روتے ہیں،نتیجہ غور سے دیکھیں،غلطی لگی ہے ملک بشیر نہیں، شیخ تاج دین121 ووٹوں سے جیتے ہیں اور پھر وہی ہوا، شیخ تاج دین ہار پہنے آئے اور بتایا گیا کہ نتیجہ ٹھیک تھا، امیدواروں کا نام آگے پیچھے ہو گیا۔ پیپلزپارٹی والے احتجاج کرتے اور ملک بشیر کونسلر ہوتے ہوتے رہ گئے۔

اس سال (1979ء) میئر لاہور کے انتخاب کے ہم خود چشم دید اور بعض خفیہ امور سے واقف ہیں (یہ پھر کبھی سہی) (اب ذرا محترم چودھری اعتزاز احسن کی ایک دلیل سن لیں۔1988ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو پنجاب سے معقول نشستیں ملیں۔

فیروزوالا سے ہمارے دوست چودھری نثار پنوں (مرحوم) اور یہاں سے چودھری اعتزاز احسن بھی جیتے تھے تاہم1990ء کے انتخابات میں چودھری نثار پنوں ہار گئے،اعتزاز احسن پھر جیت گئے تھے۔ پیپلزپارٹی نے دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔ ایک مثال چودھری نثار پنوں کی تھی کہ وہ تمام پولنگ سٹیشنوں سے نتائج وصول کر کے جیت کا جشن منانے کے بعد سو گئے تھے، لیکن صج کو ہار گئے۔

یہ سب سمجھ سے باہر تھا، نثار پنوں کی انتخابی عذر داری کا فیصلہ ہی نہ ہو سکا تھا۔ ان کی درخواست دوبارہ گنتی کی تھی، اس سلسلے میں ہماری چودھری اعتزاز احسن سے ذاتی بات ہوئی تو انہوں نے ہماری توجہ مبذول کراتے ہوئے بتایا،سیدھا فارمولا ہے۔ پیپلزپارٹی کے جس امیدوار نے1988ء کے انتخابات میں 20ہزار سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی، وہ1990ء میں بھی جیت گئے اور ان کی جیت کا فرق88ء کے ووٹوں میں سے20ہزار کم کر کے ظاہر ہوا،یعنی جو امیدوار 23 یا25 ہزار ووٹ زیادہ لے کر جیتا تھا وہ تین سے پانچ ہزار کے فرق سے جیتا اور جس کے ووٹ20ہزار سے کم تھے وہ اتنے ہی فرق سے ہار گیا، جتنا20ہزار کی گنتی میں تھا،اس سے مطلب یہ تھا کہ 20ہزار ووٹ کا تحفہ جیتنے والے کو ریٹرننگ آفیسر کی طرف سے دیا گیا۔ پیپلز پارٹی آج بھی اس اعلان پر قائم ہے۔

یہ عمل تو اپنی جگہ ہم اپنے واقع یا کارگذاری کا ذکر کرتے ہیں،سن تو پوری طرح یاد نہیں، 58ء کے مارشل لاء سے قبل52 یا53 میں بلدیاتی انتخابات ہوئے، ہم ان دِنوں طالب علم تھے اور 21سال تو کیا 18سال کے بھی نہیں تھے۔ہمیںیاد ہے کہ ہم نے خود شاہ عالمی دروازہ کے باہر سرکلر باغ میں قائم پولنگ سٹیشن پر ووٹ ڈالا تھا،ہمیں پرچی دی گئی وہ نہ معلوم کس کے نام سے تھی،ابھی یاد نہیں۔

یوں اس نوعیت کی دھاندلی تو ہمیشہ ہوتی رہی ہے۔ اسی نوعیت کی ایک پوسٹ بھی وائرل ہوئی ہے۔اس کے مطابق ایک صاحب(محمد دین فرض کر لیں) ووٹ ڈال کر آئے اور پولنگ آفیسر سے آ کر دریافت کیا کہ دیکھ کر بتائیں ان کی اہلیہ بھی ووٹ ڈال گئی ہیں،ان کو بتایا گیا کہ وہ تو صبح ہی ووٹ ڈال گئی تھیں،کیوں خیریت تو ہے، وہ صاحب بولے! کچھ نہیں،مَیں پہلے آ جاتا تو شاید ملاقات ہو جاتی کہ اہلیہ کو وفات پائے تو کئی برس ہو چکے ہیں۔

یہ اور ایسے بیسیوں واقعات ہمیں یاد ہیں جو ہمارے اپنے مشاہدے میں بھی آئے،کہیں غلط اور کہیں درست الزام بھی لگتے رہے۔

بہرحال موجودہ انتخابات میں بھی کئی دلچسپ واقعات ہوئے۔ ایک تو یہ کہ خواجہ سعد رفیق اور عامر لیاقت سمیت متعدد دوسرے حضرات کی ایک سے زیادہ بیویوں کا انکشاف ہوا، خواجہ برادرم بھی دو بیویوں کے شوہر اور عامر لیاقت کی بھی دوسری شادی ثابت ہوئی۔

حمزہ شہباز کی بھی دو بیویاں ہیں،لوگوں کی خواہش تھی کہ دوسری کا نام عائشہ احد ہو،لیکن وہ نام تو مہر النساء نکلا، اب ہمارے سابق وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف اور پیپلز پارٹی سندھ کے صدر سابق صوبائی وزیر نثار کھوڑو کی تین تین بیویاں ہیں۔

نثار کھوڑو تو مبینہ طور پر تیسری بیوی کا ذکر نہ کرنے کے الزام میں نااہل بھی قرار پائے ہیں، تاہم ہمارے کپتان تحریک انصاف کے عمران خان صاف بچ نکلے اور وہ مُلک کے مختلف شہروں کے پانچ حلقوں سے ثقہ امیدوار ہو گئے،ان کی مبینہ صاحبزادی کا تعلق ثابت نہیں کیا جا سکا اور سیتا وائٹ والا قصہ پھر سے داستان بن کر رہ گیا ہے۔یہ نوجوان بچی عمران کی پہلی بیوی جمائما کی سرپرستی میں ہے اور اُن کے بیٹوں کے ساتھ ہی پرورش پا رہی ہے۔

اس سلسلے میں خواجہ آصف خوش قسمت ہیں،ان کے لئے بھی ایک سے زیادہ شادیوں کا چرچا کیا جاتا تھا نہ تو یہ شادیاں ظاہر کی گئیں اور نہ ہی کوئی مخالف ثابت کر سکا ہے۔

یوں ان کے خلاف تو کہانی ہی کہانی رہی، افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور برادر دوست فواد چودھری بھی ٹریبونل سے نااہل ہو گئے اور اب اگلے مرحلے سے رجوع کرنے والے ہیں۔

(فواد چودھری نے سوشل میڈیا پر اطلاع دی کہ لاہور ہائیکورٹ سے ان کی نااہلیت ختم اور بطور امیدوار اہل ہو گئے ہیں)شاہد خاقان عباسی تو اپنے آبائی حلقے سے تا عمر نااہل ہوئے، البتہ اسلام آباد کے حلقے سے اہل ہیں، یہ بہت بڑا تضاد ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ اسلام آباد سے بھی الیکشن لڑ سکتے ہیں؟انہوں نے بھی اپیل اور ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی دانیال عزیز سے بھی ہمدردی کیجئے کہ وہ یوسف رضا گیلانی ہو گئے، عدالت عظمیٰ کے سہ رکنی بنچ نے ان کو توہین عدالت کا مجرم قرار دے کر تا برخاست عدالت سزا سنا دی اور اِس فیصلے کے نتیجے میں ان کا حال بھی وہی ہو گا،جو یوسف رضا گیلانی کا ہوا۔ وماعلینا اِلاّ البلاغ۔

مزید : رائے /کالم