کیا بھارت پاکستان کا پانی روک سکتا ہے؟ (1)

کیا بھارت پاکستان کا پانی روک سکتا ہے؟ (1)
 کیا بھارت پاکستان کا پانی روک سکتا ہے؟ (1)

  



سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں واپڈا کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس صرف30 دن کے لئے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے، جبکہ بھارت 170 دن ،ساؤتھ افریقہ 500 دن اور امریکہ 900 دن تک اپنی ضروریات کے لئے پانی ذخیرہ کر سکتا ہے۔

اس حقیقت پر غور کیا جائے تو چند دلچسپ اور گھمبیر قسم کے سوالوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ پاکستان کے پاس اگر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا سیدھا سا جواب تو یہ ہے کہ پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کے لئے آبی ذخائر کی تعمیر واپڈا کا کام ہے اور واپڈا نے اپنا کام نہیں کیا ہے۔

اگر واپڈا والوں سے دریافت کیا جائے کہ جناب آپ نے اتنے برس گزر جانے کے بعد بھی پانی ذخیرہ کرنے کے لئے مطلوبہ تعداد میں ڈیم نہیں بنائے،جس کی وجہ سے ہر سال اربوں روپے کا پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے تو وہ فوراً اس کا ذمہ دار سابق حکومتوں اور سیاست دانوں کو قرار دیں گے اور جھٹ کالا باغ ڈیم کی مثال نکال کر آپ کے سامنے رکھ دیں گے۔

وہ آپ کو بتائیں گے کہ کالاباغ ڈیم انجینئرنگ کا منصوبہ تھا۔ اسے سیاسی بنا دیا گیا اور اس کی تعمیر کے خلاف تین صوبوں نے باقاعدہ قرارداد منظور کر رکھی ہے۔ یوں ایک طرف کالا باغ ڈیم ہے تو دوسری طرف قومی یکجہتی کا معاملہ ہے۔

یوں یہ معاملہ واپڈا کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ سیاست دانوں کو احساس نہیں ہے کہ پانی کا مسئلہ کتنا حساس ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو کبھی سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا۔ گزشتہ دِنوں واپڈا کے ایک سینئر افسر سے بات ہوئی تو ان کی باتوں سے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ کچھ قوتیں دیامیربھاشا ڈیم کو بھی مستقبل قریب میں کالاباغ ڈیم بنانا چاہتی ہیں۔ گزشتہ حکومت نے تھرمل پاور کے بہت سے منصوبے تو بہت تیزی سے مکمل کرائے،مگر دیامیر کے معاملے میں اجلاس ہی نہیں ہوتے تھے۔

آپ کی بہت سے ایسے ماہرین سے بھی ملاقات ہو گی،جو آپ کو بتائیں گے کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی اہمیت کالاباغ ڈیم سے بھی زیادہ ہے، مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کالا باغ ڈیم پر کام نہیں ہو رہا ہے اور اگر آپ شاہراہ قراقرم پر سفر کرتے دیامیر کے علاقے سے گزریں تو آپ کو وہاں بھی کوئی کام ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ مجھے کالا باغ ڈیم کے بعد دیامیر بھاشا ڈیم کے مستقبل کے متعلق خاصے خطرات دکھائی دے رہے ہیں۔

پاکستان میں ایک ہنگامہ بپا ہے کہ بھارت نے پاکستان کا پانی روک لیا ہے اور وہ اس ہتھکنڈے کے ذریعے زرخیز زمینوں کو ویران بنانے کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔ متعدد دانشور اس سلسلے میں بڑے بڑے دلائل پیش کر رہے ہیں۔ بھارت میں بھی ایسے دانشوروں کی تعداد کم نہیں،جو بھارتی حکومت کو آئے روز مشورہ دیتے رہتے ہیں کہ وہ پاکستان کا پانی روک کر اسے تباہ و برباد کر دے۔

اس کی زمینوں کو صحراؤں میں تبدیل کر دے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کہتے ہیں کہ خون اور پانی ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتا۔اس طرح بھارت میں سندھ طاس معاہدے کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ اسے منسوخ کر دیا جائے۔ اس صورتحال میں ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت پاکستان کے دریاؤں کا پانی روک سکتا ہے؟ ہمارے خیال کے مطابق اس موضوع پر بحث کرنے والے بیشتر لوگوں نے نہ تو ان علاقوں کو دیکھا ہے اور نہ ہی اس علاقے کے جغرافیہ کوایک نظر دیکھنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ ہم پانی اور اس سے متعلقہ معاملات کے ماہر نہیں ہیں۔ تاہم ہمارے خیال کے مطابق حقائق تک پہنچنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔

سندھ طاس معاہدے کے ذریعے بھارت کو ستلج، بیاس اور راوی کے دریاؤں کے پانی پر مکمل حقوق حاصل ہو گئے تھے، جبکہ چناب، جہلم اور سندھ پاکستان کے حصے میں آئے تھے۔ سندھ طاس معاہدہ بھارت کو ان دریاؤں پر پانی ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا تاہم وہ اس پانی کو استعمال کر کے ان سے بجلی ضرور پیدا کر سکتا ہے۔اگر ہم اس خطے کا نقشہ اپنے سامنے کھول کر رکھیں تو بات کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ دریائے سندھ چین سے نکلتا ہے۔ اس کے بعد یہ بھارت میں داخل ہوتا ہے۔ لداخ کے علاقے سے گزرتا ہوا یہ سکردو سے اوپر بلتستان میں داخل ہوتا ہے اور اس کے بعد یہ صوبہ خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ کے علاقوں سے گزرتے ہوئے بحیرۂ عرب تک جاتا ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو پاکستانی دریاؤں کے 20 فیصد پانی کو استعمال کرنے کا حق ہے، مگر یہاں ایک بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ دریائے سندھ کا سارا پانی چین یا بھارت سے نہیں آتا،بلکہ جب یہ پاکستان کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو اس میں بے شمار دریا اور ندی نالے شامل ہوتے ہیں۔

دریائے چترال تو اس کے ساتھ شامل ہونے سے پہلے افغانستان میں جاتا ہے اور پھر دریائے کابل کے ساتھ شامل ہو کر پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ بھارت افغانستان میں دریائے کابل پر ایک ڈیم بنا رہا ہے، جس کا پانی افغانستان میں آبپاشی کے لئے استعمال ہو گا۔ یوں اس خطرے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ دریائے سندھ کے پانی میں10 فیصد کمی کا امکان ہے۔

بھارت لداخ میں انتہائی محدود پیمانے پر پانی کو استعمال کر سکتا ہے، مگر وہ اس پانی کو روک نہیں سکتا، کیونکہ وہ پانی کو روک کر زمینی علاقوں میں لے کر جانا چاہے گا تو اس کے لئے اسے تقریباً 600 کلومیٹر طویل کلومیٹر سرنگ بنانی پڑے گی،جو بڑے بڑے پہاڑی سلسلوں میں سے گزرے گی۔ بھارت کے پاس ایسی سرنگ بنانے کی فی الحال صلاحیت نہیں ہے اور نہ ہی اِس سلسلے میں ان کے کسی منصوبے کی خبر آئی ہے۔

اگر بھارت دریائے سندھ کا پانی روکتا ہے تو اِس سے چین کو بھی یہ جواز مل جائے گا کہ وہ اِن دریاؤں کا پانی روک سکے،جو اُس کی حدود سے بھارت میں داخل ہوتے ہیں۔

بھارت کے لئے دریائے سندھ سے اہم دریا برہما پتر ہے،جو چین سے آسام میں داخل ہوتا ہے اور بڑے بھارتی علاقے کو سیراب کرنے کے بعد بنگلہ دیش میں داخل ہو جاتا ہے۔

اِس طرح نیپال بھی ان چھوٹے دریاؤں کے پانی کو روک سکتا ہے،جو اُس کی حدود سے بھارت میں داخل ہوتے ہیں۔ فی الحال بھارت کے لئے دریائے سندھ کا پانی روکنا ممکن نہیں ہے۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم


loading...