مکافاتِ عمل کی تازہ مثال

مکافاتِ عمل کی تازہ مثال
مکافاتِ عمل کی تازہ مثال

  



نہال ہاشمی اور دانیال عزیز کی نااہلی کا سبق یہ ہے کہ جب آپ قومی اداروں کی بجائے شخصیات سے وفاداری میں ہر حد پار کر جاتے ہیں تو نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔

دونوں کو توہین عدالت پر نااہل کیا گیا ہے۔یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ سیاسی نمائندے اس طرح عدالتِ عظمیٰ سے نااہل ہوتے رہیں،مگر یہ سوال بھی اپنی جگہ بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ عدلیہ کی توہین کو اگر معمول بنا لیا جائے تو اُس کا کیا علاج ہے؟ سب جانتے ہیں کہ نہال ہاشمی نے ججوں کے خلاف کیسی زبان استعمال کی تھی،ہر شخص سُن کر کانوں کو ہاتھ لگائے رہ گیا تھا، حتیٰ کہ مسلم لیگ(ن) بھی نہال ہاشمی کا دفاع کرنے سے کنارہ کش ہو گئی تھی۔

خود چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نہال ہاشمی نے جو کچھ کہا، اُسے سُن کر شرم آتی ہے کہ کیا ایک وکیل بھی ایسی باتیں کر سکتا ہے۔اب معاملہ دانیال عزیز کا آیا ہے، اچھے بھلے سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، سیاست کی باریکیوں کو سمجھتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ عدلیہ کے احترام کی حدود کیا ہیں، مگر وہ جس طرح نواز شریف کیس کی سماعت کے بعد باہر آ کر جج پر حملے کرتے تھے، حیرت ہوتی تھی کہ ایک سیاست دان بقائمی ہوش و حواس ایسی باتیں کیونکر کر سکتا ہے۔اتنا کچھ تو نواز شریف نہیں کہتے تھے،جتنا یہ لوگ کہتے پائے گئے۔ پھر ڈھٹائی کی حد یہ ہے کہ سب کچھ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے سامنے آنے اور محفوظ ہونے کے باوجود اُس سے انکار کرتے رہے۔

جب سپریم کورٹ نے غیر مشروط معافی مانگنے کا آپشن دیا تو اُس وقت بھی اکڑ گئے اور کہا کہ وہ اپنی باتوں کا دفاع کریں گے۔دُنیا بھر میں اس اصول کو تسلیم کیا جاتا ہے، اگر عدالت یہ نوٹس دے کہ کسی نے اُس کی توہین کی ہے، تو وہ فی الفور معافی مانگ لیتا ہے، کیونکہ عدالت کسی شخص کا نام نہیں، ایک ادارے کا نام ہے،جو لوگوں کو انصاف فراہم کرتاہے۔یہاں محاذ آرائی کے جنون میں مبتلا اِن لوگوں نے لڑنے کو ترجیح دی اور بُری طرح ہار گئے۔

ابھی مَیں کل ہی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا مختلف چینلوں پر نااہل ہونے کے بعد غصے بھرا موقف سُن رہا تھا، جس میں وہ علی الاعلان فیصلہ دینے والے ٹریبونل کے جج کو سبق سکھانے کی دھمکی دے رہے تھے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ ایک شخص جو مُلک کا چیف ایگزیکٹو رہا ہے، کیا اِس قسم کی باتیں اُسے زیب دیتی ہیں؟ عدالتوں کے فیصلے عدالتوں تک محدود ہوتے ہیں،انہیں شخصی لڑائی میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ بدقسمتی سے نواز شریف نے اپنی نااہلی کے بعد عدلیہ کے خلاف جو بیانیہ اختیار کیا اُس نے اُن کے مقلدین کو بھی غلط راستے پر ڈال دیا۔ جج کے بارے میں یہ کہنا کہ اُس کا دماغی توازن درست نہیں لگتا اور یہ کہ اُس کا نو سال تک لاہور ہائی کورٹ کا جج رہنا بڑا المیہ ہے۔

فیصلہ غلط ہے تو اُسے چیلنج کیا جانا چاہئے۔چینلوں پر بیٹھ کر یہ کہنا کہ جج نے چونکہ مجھ پر ذاتی حملے کئے ہیں، اِس لئے مَیں بھی اُس پر ذاتی حملے کروں گا، پرلے درجے کی احمقانہ بات ہے۔ ایک طرف وہ اعلان کر رہے تھے کہ اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژنل بنچ کے سامنے چیلنج کریں گے،دوسری طرف وہ ذاتی حملوں کا جواب بھی دے رہے تھے، اور وہ بھی میڈیا پر بیٹھ کر۔ اب اس صورتِ حال کو آپ کیا کہیں گے؟وہ کہتے ہیں کہ الیکشن ٹریبونل کو اِس کا اختیار بھی نہیں تھا کہ وہ انہیں تاحیات نااہل کرے۔چلیں جی اُن کی یہ بات مان لیتے ہیں، تو پھر اس کا مداوا کہاں سے ہو گا، ٹی وی چینلوں سے یا اعلیٰ عدلیہ سے؟ نواز شریف بھی یہی کہتے رہے کہ ججوں کو انہیں نااہل کرنے کا اختیار ہی نہیں تھا،لیکن زبردستی اقامے پر تاحیات نااہل قرار دیا گیا۔ نواز شریف اپنی نااہلی کے فیصلے کو تبدیل کرانے کے لئے نظرثانی میں بھی گئے، لیکن اُن کے وکیل عدلیہ کو قائل نہ کر سکے۔اب کوئی بتائے کہ عدلیہ سے من پسند فیصلے کیسے لئے جا سکتے ہیں۔وہاں تو دلیل اور نظیر کام آتی ہے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ججوں کی توہین کر کے اپنے حق میں فیصلے لئے جا سکتے ہیں تو اُس کی ذہنی حالت پر شبے کا سو فیصد امکان پیدا ہو جاتا ہے۔

کوئی ایسا مہذب مُلک بتایا جائے جہاں عدلیہ اور ججوں کی عزت نہ کی جاتی ہو۔امریکہ جیسے مُلک میں دُنیا کے طاقتور ترین صدر پر بھی عدلیہ چیک رکھتی ہے اور اُس کے فیصلوں کو اُٹھا کر پھینک دیتی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عدلیہ نے وہاں جو درگت بنائی ہے،وہ سب کے سامنے ہے۔انہوں نے تو اپنے ججوں کے خلاف ایسے الزامات نہیں لگائے جیسے ہمارے ہاں لگائے جاتے ہیں،نہ ہی وہاں کانگرس یا عدلیہ کے درمیان محاذ آرائی کی صورتِ حال پیدا کی گئی۔صورتِ حال تو کیا عدلیہ کے فیصلوں کو زیر بحث تک نہیں لایا گیا۔دُنیا کے ہر مُلک کی ایک سپریم کورٹ ہوتی ہے۔اُس کے نام ہی سے ظاہر ہے کہ وہ ہر ادارے سے سپریم ہوتی ہے اور اُس کے فیصلے کو حتمی سمجھا جاتا ہے۔

مجھے کوئی بتائے کہ ایسا کس مُلک میں ہوتا ہے کہ مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہو اور سماعت کے بعد باہر آ کر یہ کہا جائے کہ اندر جو جج بیٹھے ہیں، وہ متعصب ہیں، اُن کا علاج ہونے والا ہے۔وہ قصائی ہیں، وغیرہ وغیرہ اور سپریم کورٹ اِس قدر تحمل کا مظاہرہ کرے کہ نہ اُنہیں بلائے،نہ پوچھ گچھ کرے۔ مہینوں چلتے رہنے والے اِس سلسلے کو سپریم کورٹ نے صرف ایک یا دو نوٹس لے کر روکنے کی سعی کی، مگر اسے سپریم کورٹ کی کمزوری سمجھا گیا اور تنقید کی لو کچھ مزید بڑھا دی گئی۔ سارا میڈیا یہ کہنے لگا تھا کہ بعض وزراء سپریم کورٹ اور ججوں کے خلاف جو زبان استعمال کر رہے ہیں، وہ قابلِ گرفت ہے،اُس کا عوام میں اچھا تاثر نہیں جا رہا، مگر چیف جسٹس ثاقب نثار اور دیگر جج صاحبان نے صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا،مگر ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔جب پانی سر سے گذر جائے تو قومی ادارے کی ساکھ بچانے کے لئے نوٹس لینا ہی پڑتا ہے۔ سو یہ نوٹسز لئے گئے اور اب اُن کے فیصلے سامنے آ رہے ہیں۔

قصور کا واقعہ تو سب کو یاد ہو گا،جہاں مسلم لیگ (ن) کے ارکانِ اسمبلی نے عدلیہ مخالف ریلی نکالی اور ججوں کو بُرا بھلا کہا۔ذرا اس نکتے پر غور کریں کہ معاملہ نواز شریف سے شروع ہوا تھا اور پھیلتے پھیلتے ارکانِ اسمبلی تک چلا گیا۔اگر اسے روکا نہ جاتا تو اس نے گلی محلے تک پھیل جانا تھا۔ ججوں کے خلاف احتجاجی جلوس نکلنے تھے اور انہیں برا کہنے والے منہ پھٹ اور بے لگام ہو جانے تھے۔ اب قصور والے عدلیہ سے معافیاں مانگتے پھر رہے ہیں،انہیں معافی نہیں مل رہی۔ مسلم لیگ(ن) نے انہیں انتخابی ٹکٹیں دے دی ہیں۔ یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ اُن پر نااہلی اور سزا کی تلوار لٹک رہی ہے۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو مُلک میں سنجیدہ انتشار پیدا کر رہی ہے۔ جو پکڑا جاتا ہے وہی جانتا ہے کہ اُس پر کیا گزر رہی ہے۔ابھی طلال چودھری، سعد رفیق جیسے مشہور لوگ بھی نااہلی کے فیصلے کی زد میں ہیں۔ اُدھر اُن کی انتخابی مہم چل رہی ہے اور اِدھر انہیں ایسے مقدمے کا سامنا ہے۔عدلیہ تو اپنی جگہ پر کھڑی ہے،سیاست دان اِدھر اُدھر ہوتے رہتے ہیں۔ آج اگر اقتدار میں ہیں تو کل اقتدار میں نہیں ہوں گے۔انہیں چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے اپنے لیڈر کی شخصی غلامی میں اتنا آگے نہیں جانا چاہئے کہ پھر واپسی کا راستہ ہی نہ ملے۔انسان کی سیاسی زندگی بے داغ ہو تو وہ سیاست میں زندہ رہتا ہے۔یہ زندگی اس مقصد کے لئے تھوڑی ہوتی ہے کہ پانچ سال کے لئے نااہل ہو کر گھر بیٹھ جائے اور نااہلی ختم ہونے پر نئے سرے سے سیاسی زندگی شروع کرنے کی تگ و دو کی جائے۔ یہ لڈو جیسا سانپ اور سیڑھی کا کھیل تھوڑی ہے۔ نواز شریف کے ساتھ وفاداری جتانے کے اور بھی بہت سے راستے تھے، کیا صرف یہی راستہ تھا، جو نہال ہاشمی اور دانیال عزیز نے اختیار کیا۔ کیا وہ منظر لوگوں کو بھول سکتا ہے جب نواز شریف اور مریم نواز احتساب عدالت میں پیشی پر آئے اور نہال ہاشمی اُن سے سلام دُعا نہ کر سکے، شاید اب نواز شریف کے لئے اُن کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ اب کل کلاں دانیال عزیز بھی اِسی قسم کی صورتِ حال سے دوچار ہو جائیں گے۔اپنے سیاسی کیریئر کو داغدار کر کے اُنہیں کیا ملا۔ وہ جھوٹی واہ واہ جو عدلیہ مخالف بیانات پر انہیں ملتی تھی،اب کس کام کی؟ پاکستان میں عدلیہ نے جو نئی کروٹ لی ہے، وہ پاکستانی عوام کی امید بن گئی ہے۔ ایسی عدلیہ جس کی عوام کی نظر میں عزت و توقیر بہت بڑھ گئی ہے۔ اس پر حملے درحقیقت عوام کی امید پر حملے ہیں،جن کی حمایت کوئی ذی شعور پاکستانی نہیں کر سکتا۔دانیال عزیز اور نہال ہاشمی مکافاتِ عمل سے گزرے ہیں اور باقیوں کے لئے یہ پیغام چھوڑ گئے ہیں کہ جب بھی انسان اپنے دائرے سے نکل کر دوسرے کو نقصان پہنچانا چاہتاہے، بالآخر مکافاتِ عمل کا شکار ہو کر نشانِ عبرت بن جاتا ہے۔

مزید : رائے /کالم