تفہیمِ اقبال: جوابِ شکوہ (2)

تفہیمِ اقبال: جوابِ شکوہ (2)
تفہیمِ اقبال: جوابِ شکوہ (2)

  



(بند نمبر1)

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

قُدسی الاحاصل ہے، رِفعت پر نظر رکھتی ہے

خاک سے اٹھتی ہے، گردوں پر گزر رکھتی ہے

عشق تھا فتنہ گرو سرکش و چالاک مرا

آسماں چیر گیا نالہ ء بیباک مرا

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

طاقتِ پرواز (اُڑنے کی طاقت)۔۔۔ قدسی الاصل (جس کی اصل پاکیزہ ہو)۔۔۔ رِفعت (بلندی) ۔۔۔ گردوں (آسمان) ۔۔۔ فتنہ گر (فتنہ اٹھانے والا)۔۔۔ سرکش(باغی)۔۔۔ نالہ ء بیباک(بے خوف ہو کر اور بلند آواز میں رونا)

جوابِ شکوہ کا یہ پہلا بند ہے۔ اس نظم کے پہلے چار بند بڑی ڈرامائی کیفیت کے حامل ہیں۔ اقبال زمین پر ہیں اور جس ہستی سے شکائت کی جا رہی ہے وہ لامحدود بلندیوں پر جلوہ فرما ہے۔ لیکن شاعر نے فرش سے عرش تک اپنی آواز کے جانے کے مشکل عمل کو جس طرح بیان کیا ہے وہ حد درجہ قابلِ تعریف ہے۔۔۔

فرماتے ہیں کہ جو بات دل سے نکلے وہ اتنی طاقت ور ہوتی ہے کہ اُڑ کر کہیں کی کہیں پہنچ جاتی ہے۔ آواز کے پَر تو نہیں ہوتے لیکن چونکہ دل، خدا کا مسکن ہے اس لئے اس مسکن سے جو آواز بھی نکلتی ہے وہ ایک قسم کی خدائی قوت ہوتی ہے جس کی رسائی زمین سے اٹھ کر آسمان تک ہو جاتی ہیں۔۔۔ یہ حقیقت بیان کرنے کے بعد اقبال کہتے ہیں کہ میرا عشق چونکہ باغی بھی تھا، سرکش اور چالاک و عیار بھی تھا، اس لئے بڑی بیباکی سے اٹھتا ہوا سیدھا آسمانوں کو چیر گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر2)

پیرِ گردوں نے کہا سن کے، کہیں ہے کوئی

بولے سیّارے، سرِ عرشِ بریں ہے کوئی

چاند کہتا تھا، نہیں؟ اہلِ زمیں ہے کوئی

کہکشاں کہتی تھی، پوشیدہ یہیں ہے کوئی

کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھا

مجھے جنّت سے نکالا ہوا انساں سمجھا

اس بندکے مشکل الفاظ کے معانی:

پیرِ گردوں (بوڑھا آسمان۔ آسمان کی عمر چونکہ بہت زیادہ متصور کی جاتی ہے اسی لئے اس کو بوڑھا یا معمر آسمان بھی کہا جاتا ہے)۔۔۔ سیارے (وہ لاتعداد اجرامِ فلکی جو خلا میں موجود گھومتے رہتے ہیں۔ چونکہ ان کی بلندی معلوم نہیں اس لئے ان کو آسمان کے ہمسائے بھی کہا جاتا ہے)۔۔۔ سرِ عرشِ بریں(سب سے اوپر والے عرش پر) ۔۔۔ کہکشاں (ستاروں کا وہ جمگھٹا جو آسمان پر موجود ہے اور رات کو زمین سے دیکھنے والوں کو نظر آتا ہے۔ اس مجموعے میں ستاروں کے مختلف رنگ ہیں جو جھلملاتے اور جگمگاتے رہتے ہیں اور زمین سے دیکھیں تو بہت خوبصورت نظر آتے ہیں)۔۔۔ پوشیدہ (چھپا ہوا)۔۔۔ رضواں (وہ فرشتہ جو بہشت کے دروازں پر بطور دربان مقرر ہے اور ہر آنے جانے والے پر نگاہ رکھتا ہے)

اب اس بند کی مختصر تشریح:

شکوے کی یہ آواز جب آسمان تک جا پہنچی تو چونکہ اس سے پہلے خلا کے مکینوں نے ایسی آواز کبھی نہیں سنی تھی اس لئے تمام خلائی مخلوق سخت حیران ہوئی اور اپنے اپنے فہم کے مطابق اندازے لگانے لگی کہ یہ آواز کس کی ہو سکتی ہے۔۔۔ سب سے پہلے تو آسمان نے حیران ہو کر کہا کہ لگتا ہے میرے آس پاس کہیں نہ کہیں کوئی انوکھی مخلوق موجود ہے جس کی یہ آواز ہے۔۔۔ پھر سیارگانِ فلک نے اپنی عقل کے مطابق یہ کہا کہ چونکہ یہ ایک اجنبی آواز ہے اور عرشِ بریں سے آتی معلوم ہوتی ہے اس لئے لامحالہ کوئی نہ کوئی ہے جو عرش پر موجود ہے۔۔۔ سب سے زیادہ قابلِ قبول تجزیہ چاند کا تھا۔ چاند چونکہ آسمان پر سے زمین کی ہر شے کو تکتا رہتا ہے اور مختلف آوازیں جو اہلِ زمیں کی مخلوقات کی ہوتی ہیں ان کو سنتا رہتا ہے، اس لئے اس نے کہا کہ یہ آواز تو مجھے کسی زمینی مخلوق کی لگتی ہے۔۔۔ اتنے میں کہکشاں (Galaxy) کو بھی موقع مل گیا کہ وہ بھی اس حیران کر دینے والی آواز کے بارے میں کوئی نہ کوئی ’’گویٹر‘‘ (اندازہ) لگائے۔ چنانچہ اس نے چاند کی اس بات کو غلط قرار دیا کہ یہ آواز کسی زمین والے کی ہے اور زمین ہی سے آ رہی ہے۔ چاند تو صرف ایک سیارہ ہے جبکہ کہکشاں میں لاتعداد ستارے اور سیارے ہوتے ہیں جو حجم میں چاند سے کہیں زیادہ بڑے ہوتے ہیں اس لئے وہ بولی کہ میرا اندازہ یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی ’’شخص‘‘ ہے جو اِدھر عرش کے آس پاس ہی موجود ہے لیکن چھپ کے بیٹھا ہوا ہے اور ہمیں نظر نہیں آتا۔ آخر جب عرش کے ان سارے مکینوں (چاند ،ستاروں اور کہکشاوں) نے اپنے اپنے تجزیئے اور تبصرے پیش کر دیئے تو رضواں نے یہ انکشاف کرکے فیصلہ دے دیا کہ یہ آواز تو حضرتِ انسان کی ہے۔ اس نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ اسی مخلوق کی آواز ہے جس کو خداوندِ قہارو جبّار نے عرش سے فرشِ زمیں پر پھینک دیا تھا!

برسبیلِ تذکرہ ،حضرت علامہ نے اسی منظر کو ایک معکوس صورت حال کی عکاسی میں بھی ایک فارسی نظم میں بیان کیا ہے۔یہ اس وقت کا منظر ہے جب حضرتِ آدم کو زمین پر پھینکا گیا تھا ۔ خدا نے تو آدم کو سزا دینے کے لئے زمین پرپھینکا (یا بھیجا) تھا لیکن اس واقعے کو ’’پیام مشرق‘‘ کی ایک فارسی نظم ’’تسخیرِ فطرت‘‘ کے پہلے پانچ اشعار میں اقبال نے یوں بیان کیا ہے: ’’جب حضرت آدم زمین پر آئے تو انہیں دیکھ کر عشق نے نعرہ لگایا: ’’ہوشیار ہو جاؤ ایک ایسا عاشقِ خونیں جگر پیدا ہو گیا ہے جس کی آمد کی خبر اس سے پہلے کسی کو نہ تھی‘‘۔۔۔۔ دوسری طرف حسن بھی لرزنے لگا اور کہا کہ اس سے پہلے تو کسی نے بھی میری حقیقت کا درست ادراک نہیں کیا تھا لیکن اب آدم کی شکل میں جو یہ ’صاحبِ نظر‘ پیدا ہو گیا ہے یہ میری تمام اداؤں، جفاؤں، غمزوں اور رمزوں کو سمجھ لے گا۔۔۔ فطرت (نیچر) نے الگ دہائی دینا شروع کر دی کہ : ’’دیکھو تو، اس خاکِ مجبور (زمین) پر ایک ایسی ہستی آن پہنچی ہے جو خود شکن، خود نگر اور خودگر ہے‘‘۔یعنی خود کو توڑتی، جوڑتی اور دوبارہ توڑنے جوڑنے کا سلیقہ جانتی ہے۔ ۔۔۔ایک اور طرف سے آسمان بھی بول اٹھا کہ میں نے جس گھڑی آدم کو عرش سے نکلتے دیکھا تھا تو اسی وقت عرش کے پردہ نشینوں کو وارننگ دے دی تھی کہ ایک ایسی ہستی پیدا کر دی گئی ہے جو پوشیدہ رازوں کی پردہ دری کرنے کی طاقت اور صلاحیت رکھتی ہے۔۔۔ان سب کے علاوہ محترمہ ’’آرزو بیگم ‘‘تھی کہ ساکنِ زمین تھی اور جس کو اس سے پہلے اپنی امکانی قوتوں کی خبر نہ تھی۔ اس نے حضرت آدم میں سما کر جب آنکھیں کھول دیں تو ایک نیا جہان اور نئی دنیا پیدا کر دی۔۔۔ اور اگلے شعر میں دیکھئے کہ اقبال نے زندگی کی کس متاعِ گراں بہا کی طرف اشارہ کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ: ’’آدم کو دیکھ کر’زندگی‘ خود بول اٹھی کہ میں تمام عمر خاک میں تڑپتی رہی کہ کوئی پیکر نظر آئے تو اس میں سما جاؤں۔ آخر میری اس دیرینہ آرزو کا جواب آ ہی گیا! ناگہاں آسمان کے گنبد میں ایک شگاف پیدا ہوا اور وہاں سے حضرتِ آدم کو نیچے زمین پر بھیج دیا گیا۔۔۔

مناسب ہو گا کہ فارسی کے ان پانچ اشعار کو بھی یہاں درج کر دیا جائے:

نعرہ زد عشق کہ خونیں جگرے پیدا شد

حسن لرزید کہ صاحب نظرے پیدا شد

فطرت آشفت کہ از خاکِ جہانِِ مجبور

خود گرے، خود شکنے، خود نگرے پیدا شد

خبرے رفت زگردوں بہ شبستانِ ازل

حذر اے پردگیاں پردہ درے پیدا شد

آرزو بے خبر از خویش بآغوشِ حیات

چشم وا کرد و جہانِ دگرے پیدا شد

زندگی گفت کہ در خاک تپیدم ہمہ عمر

تاازیں گنبدِ دیرینہ درے پیدا شد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر3)

تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا

عرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں، یہ راز ہے کیا

تاسرِ عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیا

آ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا!

غافل آداب سے سُکّان زمین کیسے ہیں

شوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں

اب اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

تگ و تاز (کوشش، رسائی)۔۔۔ سُکّانِِ زمیں(جمع ہے ساکن کی یعنی زمین پر بسنے والے۔ ساکنانِ زمیں)

اب اس بند کی مختصر تشریح:

شکوے کی آواز جب عرش پر مقیم فرشتوں نے سنی تو آپس میں حیرت سے چہ میگوئیاں کرنے لگے اور کہنے لگے: ’’ذرا سنو تو یہ آواز کیسی ہے اور کس کی ہے؟ ملائکہ ہو کر بھی ہم پر یہ راز نہیں کھلتا کہ یہ کس کی آواز ہے۔ کیا انسان کی رسائی آسمان تک بھی ہو گئی ہے؟ وہ تو ایک مشتِ خاک تھی۔ اس کو اڑنے کا فن کہاں سے آ گیا کہ زمین سے اٹھ کر عرش تک آ گئی ہے؟۔۔۔ اور اگر یہ آواز واقعی انسان کی ہے تو یارو یہ بتاؤ کہ زمین پر بسنے والوں کو کسی کا کوئی ادب لحاظ نہیں آتا کہ عرش پر آنے کے سلیقے کیا ہیں۔ یہ پست زمین پر بسنے والے پست لوگ کتنے بے ادب اور گستاخ ہیں!‘‘

(بند نمبر4)

اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے

تھا جو مسجودِ ملائک، یہ وہی آدم ہے

عالمِ کیف ہے، دانائے رموزِ کم ہے

ہاں ، مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے

ناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کو

بات کرنے کا سلیقہ نہیں، نادانوں کو

اب اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

برہم(رنجیدہ)۔۔۔ مسجودِ ملائک (فرشتوں نے جس کو سجدہ کیا تھا) ۔۔۔عالمِ کیف (کیفیت یعنی کوالٹی کا عالم یا جاننے والا)۔۔۔ دانائے رموزِ کم (کمیّت یعنی کوانٹٹی کی رمزوں کو جاننے والا)۔۔۔عجز (انکساری) ۔۔۔ نامحرم (بے خبر)۔۔۔ اسرار (راز، بھید)۔۔۔ طاقتِ گفتار(تقریر کرنے کی قوت)

اب اس کی مختصر تشریح:

فرشتوں کی چہ میگوئیاں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔۔۔ وہ سخت حیرت میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ یہ کیسا انسان ہے؟ کیا یہ وہی مخلوق ہے جس کو ہم نے سجدہ کیا تھا؟ یہ تو اتنا بے ادب ہے کہ اپنے خالق سے بھی برہم لگتا ہے۔ ویسے تو کیف و کم کا بڑا عالم فاضل بنا پھرتا ہے، لیکن اس کو یہ بھی معلوم نہیں کہ انکساری کیا چیز ہوتی ہے اور اپنے خالق کے سامنے بات کس طرح کرنی ہے۔

کیفیت اور کمیت کسی چیز یا صفت کو ماپنے کے دو پیمانے ہیں۔ کیفیت یعنی کوالٹی (Quality) اور کمیت یعنی کوانٹٹی (Quantity) کسی بھی چیز کو پرکھنے اور اس کی قدر و قیمت جاننے کے دو طریقے ہیں۔ (اردو میں اس کو ’’معیار و مقدار‘‘ کہا جا سکتا ہے)۔

فرشتوں کو حیرانی یہ ہے کہ ویسے تو یہ انسان اپنے آپ کو ’معیار‘ کا عالم فاضل سمجھتا ہے اور ’’مقدار‘‘ کی رمزوں اور رازوں کو جاننے والا بھی شمار کرتا ہے لیکن ذرا دیکھو، اسے یہ بھی سمجھ نہیں کہ عجز اور انکساری کیا ہوتی ہے۔ اس بے وقوف انسان کو ویسے تو اپنی گفتار کی صلاحیت پر بڑا ناز ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ فصاحت و بلاغت کے دریا بہا سکتا ہے۔ لیکن اس شکوے کی لَے اور اس کے طرزِ ادا پر غور کرو تو یہ بات کھل کرسامنے آ جائے گی کہ زمین پر بسنے والے بے وقوف اور نادان انسانوں کو بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں آتا!

مزید : رائے /کالم


loading...