گیس کی قیمتیں بڑھنے سے ٹیکسٹائل پیکج کے فوائد زائل ہو جائیں گے

گیس کی قیمتیں بڑھنے سے ٹیکسٹائل پیکج کے فوائد زائل ہو جائیں گے

  



فیصل آباد ( بیورورپورٹ) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے قائم مقام صدر میاں عثمان رؤف نے گیس کی قیمتوں کے بعد بجلی کے نرخوں میں اضافے کو برآمدی شعبہ کیلئے باعث تشویش قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے نہ صرف ٹیکسٹائل پیکج کے فوائد زائل ہو جائیں گے بلکہ پیداواری لاگت میں اضافے سے دوبارہ برآمدات میں تنزلی کا عمل بھی شرو ع ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کسی بھی جگہ ایک شخص کی چوری دوسرے سے پوری نہیں کی جاتی اور نہ ہی یہ اصول انصاف کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ موجودہ نگران حکومت نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے دی ہو گی مگر اس کے منفی اور مثبت اثرات کو یکسر نظر انداز کرنا بھی کسی طور پر مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تاریخ کے سنگین ترین تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ درآمدات کے برعکس برآمدات میں کمی کے بعد حکومت نے معیشت کو سہارا دینے کیلئے ٹیکسٹائل پیکج کا اعلان کیا تھا مگر گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافے نے اس کے فوائد کو صفر کر دیا ہے۔ پیداواری لاگت میں اضافہ سے جہاں ہماری برآمدی مصنوعات عالمی منڈیوں میں حریف تجارتی ملکوں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی وہاں برآمدی یونٹوں کی جزوی یا مکمل بندش سے بے روزگاری کا بھی نیا سیلاب آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حدتک کم ہو چکے ہیں اور حکومت اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے پاکستانیوں کو بیرون ملک رکھے گئے غیر اعلانیہ سرمایے کی واپسی کیلئے مختلف قسم کی مراعات دے رہی ہے۔ اسی طرح اندرون ملک سرمایے کو قومی معیشت کا حصہ بنانے کیلئے بھی ٹیکس ایمنسٹی سکیم دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات عارضی نوعیت کے ہیں جبکہ معیشت کو مستحکم اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے صرف اور صرف برآمدات میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ گیس اور بجلی کے نرخوں نے خاص طور پر برآمدی شعبہ کو ایک سال قبل والی بحرانی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس طرح ٹیکسٹائل پیکج کے باوجود برآمدات دوبارہ خسارے کا سودا بن کر رہ جائیں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گیس اور بجلی چوری کی روک تھام کیلئے متعلقہ صوبوں کو ذمہ داری دی جائے اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہیں تو اس رقم کو ان کے مرکزی پول سے کاٹنے کے بعد انہیں فنڈ جاری کئے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو مشکل سے برآمدات میں کمی کا رکنے والا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا اور پھر برآمدات میں اضافہ خواب و خیال بن کر رہ جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کو فوری طو رپر واپس لیا جائے اور اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر کم از کم برآمدی شعبہ کو پہلے والے نرخوں پر بجلی اور گیس مہیا کرنے کا انتظام کیا جائے۔

مزید : کامرس