سارک ڈویلپمنٹ فنڈ پارٹنرشپ کنکلیو میں شرکت کیلئے وفدکل بھارت روانہ ہو گا

سارک ڈویلپمنٹ فنڈ پارٹنرشپ کنکلیو میں شرکت کیلئے وفدکل بھارت روانہ ہو گا

  



لاہور (کامرس رپورٹر)سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینیئر نائب صدر افتخار علی ملک کی قیادت میں پاکستان کا ایک اعلی سطحی وفد کل ہفتہ کو سارک ڈویلپمنٹ فنڈ ( ایس ڈی ایف) پارٹنرشپ کنکلیو میں شرکت کے لئے بھارت روانہ ہو گا جو یکم جولائی سے شروع ہو رہی ہے۔ اس اجلاس کا مقصد جنوبی ایشیا میں منصوبہ جاتی تعاون اور علاقائی انضمام کے ذریعہ ترقی کا حصول ہے۔ جمعرات کو یہاں زبیر احمد ملک اور ملک سہیل حسین کی قیادت میں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے تاجروں کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے افتخار علی ملک نے کہا کہ اجلاس میں رکن ممالک کے مابین سماجی، اقتصادی اور بنیادی ڈھانچہ کے سرحدوں کے آر پار منصوبوں کے لئے تعاون کی راہ تلاش کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں توانائی، نقل و حمل، آئی سی ٹی، تجارت، زراعت اور متعلقہ شعبوں اور غربت کے خاتمے کے علاوہ دیگر امور زیر غور آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی ایف نے بینکاری کے منصوبوں کے حوالے سے بھی تجاویز طلب کی ہیں کیونکہ یہ سارک ممالک میں مشترکہ منصوبوں میں تعاون کے لئے فنڈنگ ایجنسیوں کے کنسورشیمم کی تشکیل کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی ایف کے قیامکا بنیادی مقصد سارک خطے کے عوام کی فلاح و بہبود کا فروغ، ان کے لائف سٹائل کی بہتری اور اقتصادی ترقی میں تیز رفتار، سماجی ترقی اور غربت میں کمی ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ ایس ڈی ایف کے تحت آٹھوں رکن ممالک سے فی الحال 12 ریجنل منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں سوشل ونڈو فنڈنگ کے تحت 70 سے زائد ادارے شریک ہیں۔ ہم پہلے ہی سوشل ونڈو منصوبوں کے لئے 73.74 ملین امریکی ڈالر کی یقین دہانی کرا چکے ہیں جن میں سے رکن ممالک کو 47 ملین امریکی ڈالر فراہم کئے جا چکے ہیں، حال ہی میں 30 کروڑ امریکی ڈالر کے قرضے کے تحت دو انرجی انفراسٹرکچر منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے جبک علاقائی کنیکٹویٹی منصوبے بھی زیر غور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل ونڈو کے حصے کے طور پر تمام رکن ممالک میں سوشل انٹرپرائز ڈویلپمنٹ پروگرام (ایس ای ڈی پی) جلد شروع کیا جائے گا جس کے تحت سالانہ 80 منصوبے مکمل کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی ایف کے تحت ایم ایس ایم ای پروگرام شروع کرنے کی بھی تجویز ہے تاکہ سارک خطہ میں مائیکرو، سمال اور میڈیم انٹرپرائز کو اپ گریڈ کرنے کیلئے کریڈٹ لائن فراہم کی جاسکے اس سے نئی ملازمتوں کی تخلیق، آمدنی میں اضافے، کاروبار کو لاحق خطرات میں کمی اوررکن ممالک میں ہیومن ریسورس میں سرمایہ کاری کو بہتر کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفد سرکاری حکام، سیاسی کارکنوں اور کاروباری برادری کے ساتھ بھی ملاقاتیں کرے گا اور عام لوگوں کے فلاح و بہبود کے لئے علاقائی انضمام کی اہمیت کو اجاگر کرے گا اور بھارتی پالیسی سازوں کو قائل کرنے کی کوشش کرے گا کہ کشمیر سمیت تمام مسائل کو حل کرکے بعد پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں جنوبی ایشیا کے بڑے ممالک کو اپنا ذہن تبدیل اور مل کر خطے کے غریب عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لئے کام کرنا ہوگا۔

مزید : کامرس