کاروباری برادری ‘ ایف بی آر میں شراکت داری ناگریز ‘پی ایف سی

کاروباری برادری ‘ ایف بی آر میں شراکت داری ناگریز ‘پی ایف سی

  



لاہور ( کامرس رپورٹر)پاکستان فرنیجر کونسل(پی ایف سی)کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے رخسانہ یاسمین کی بطور چیئرپرسن ایف بی آر تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ اقتصادی ترقی کیلئے کاروباری برادری اور ایف بی آر میں شراکت داری کو مضبوط بنانے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گی کیونکہ اقتصادی ترقی کیلئے کاروباری برادری اور ایف بی آر کے درمیان دوستانہ شراکت داری ناگریز ہے ۔جمعرات کو یہاں اپنے بیان میں میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ ایف بی آر ملکی معیشت کے استحکام میں بڑا اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ایف بی آر کاروباری برادری سے بالمشافہ گفت وشنید کرے ۔انہوں نے کہا کہ نئی چیئرپرسن پاکستان میں ٹیکس کی بیس کو وسیع کرنے کیلئے نتیجہ خیز اور پائیدار اقدامات کریں گی اور وہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گی۔انہوں نے کہا کہ سبکدوش ہونے والی حکومت نے افراط زر پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات کئے تاہم برآمدات اور درآمدات کے حجم میں بڑے فرق کی وجہ سے یہ کوششیں رائیگاں گئیں ارو اب اسی وجہ سے کچھ ماہرین عالمی مالیاتی فنڈز(آئی ایم ایف) سے رجوع کرنے کا مشورہ دے دیں۔

انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی کے اثرات پر قابو پانے کیلئے ملک کو4 کھرب سے 6 کھرب روپوں کی ضرورت ہے ۔

اس صورتحال سے ملکی معیشت پر منفی اثرات ہوسکتے ہیں میاں کاشف اشفاق نے ٹیکسوں کی وصولی کی اہمیت پر زور دیا ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس کلچر کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس وصول کرنے والوں میں باہمی اعتماد کا فقدان ہے۔ انہوں نے پاکستان میں ٹیکس نیٹ ورک کی وسعت کیلئے ایف بی آر کے اقدامات کو بھی سراہا۔انہوں نے ایف بی آر کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ملک میں گرتی ہوئی برآمدات اور زرمبادلہ کے کم ذخائر کے تناظر میں معیشت کو سنبھالنے کیلئے ٹیکس ایمنسٹی سکیم اہم اقدام ہے۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ایف بی آر فرنیچر کی صنعت کے ساتھ قریبی روابط رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ فرنیچر سازی کے شعبہ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں اس شعبہ کو10 سالوں کیلئے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جانا چاہیے اور مجھے یقین ہے کہ اس ٹیکس استثنیٰ سے معیشت میں عمومی بہتری آئے گی اور فرنیچر سازی میں اضافہ سے روز گار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی فرنیچر میں عالمی مارکیٹوں میں چھا جانے کی صلاحیت ہے۔ اس لئے حکومت کو درآمدی فرنیچر کی حوصلہ شکنی کیلئے فرنیچر سازی کی مقامی صنعت کی سرپرستی کرنی چاہیے اور مقامی فرنیچر سازوں کیلئے مراعاتی پیکج کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ برآمدات کا حجم بڑھایا جاسکے۔

مزید : کامرس


loading...