پاکستان کا گرے لسٹ میں رہنا معیشت کیلئے خطرناک ہے ، لاہور چیمبر

پاکستان کا گرے لسٹ میں رہنا معیشت کیلئے خطرناک ہے ، لاہور چیمبر

  



لاہور ( کامرس رپورٹر)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے فنانشل ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کے فیصلے پر برقرار رہنے کو معیشت کے لیے بْری خبر قرار دیا ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر ملک طاہر جاوید اور نائب صدر ذیشان خلیل نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل فنانشل ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کا عندیہ دیا تھا اور اپنے حالیہ اجلاس میں وہ اپنے اس فیصلے پر برقرار رہی ہے باوجود اس کے کہ پاکستانی حکام نے ملک کا کیس بڑی مضبوطی سے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت کا گروتھ ریٹ تسلی بخش تھا مگر اس فیصلے کے بعد صورتحال تبدیل ہوجائے گی، گرے لسٹ میں شمولیت سے ملک کی ساکھ متاثر ہوگی، کاروباری لاگت بڑھے گی، عالمی مالیاتی اداروں سے قرضوں کا حصول بہت مشکل ہوجائے گا اور غیرملکی بینکوں و سرمایہ کاروں کا اعتماد اٹھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مشکوک ملک اور اس کا مالیاتی نظام کمزور قرار دینا بہت تشویشناک اور ہنگامی اقدامات کی متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرے لسٹ کی زد میں آنے والے ممالک کو غیرملکی سرمایہ کاری میں بھاری کمی سمیت دیگر معاشی نقصانات برداشت کرنا پڑے، پاکستان میں سرمایہ کاری پہلے ہی تسلی بخش نہیں اور اب حالات مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے پاکستان کے دیرینہ دوستوں چین اور سعودی عرب کی جانب سے بھی پاکستان کی حمایت سے پیچھے ہٹ جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ پاکستان کسی صورت بھی گرے لسٹ میں شامل رہنے کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے نقصان دہ نتائج برآمد ہونگے، پاکستان مخالف قوتوں کو موقع ملے گا کہ وہ دیگر ممالک اور اکنامک بلاکس کو پاکستان سے تجارتی و معاشی تعلقات محدود کرنے کی ترغیب دیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپین یونین ان ممالک یا اداروں مثلاً ایئر لائنز وغیرہ کو اپنی بلیک لسٹ میں شامل کرتا ہے جو اس کے مالیاتی نظام، ماحولیات ، جبری مشقت اور دیگر شعبہ جات سے متعلقہ قواعد و ضوابط اور معیارات سے ہم آہنگ ہونے میں ناکام رہتے ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ یورپین یونین کے اراکین ممالک نے کئی ایئر لائنز کے اپنی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے جو قواعد و ضوابط اور معیارات پر عمل درآمد میں ناکام رہیں۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی صورت یورپین یونین کی پابندیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ کل برآمدات کا پچیس فیصد کے لگ بھگ حصہ یورپین یونین کے ساتھ ہے لہذا حکومت ملک کو گرے لسٹ میں سے جلد نکلوانے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے۔

مزید : کامرس


loading...