کھادوں و زرعی ادویات کے معیار کی بہتر ی کیلئے ٹھوس اقدامات کی ہدایت

کھادوں و زرعی ادویات کے معیار کی بہتر ی کیلئے ٹھوس اقدامات کی ہدایت

  



راولپنڈی(اے پی پی)ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس محکمہ زراعت پنجاب فاطمہ بینش نے کہا نے جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے مربوط حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی ڈویژن میں کھادوں و زرعی ادویات کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو زرعی ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔بعد ازاں ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس نے راولپنڈی میں قائم تجزیاتی لیبارٹری برائے مٹی و پانی کے دورہ کے دوران جدید سائنسی بنیادوں پر قائم مٹی و پانی کی تجزیاتی لیبارٹری کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبید الرحمان زرعی کیمیا دان و انچارج لیبارٹری نے بتایا کہ یہ لیبارٹری ISO 17027/2005 کے تحت حکومت پاکستان کی نیشنل ایکریڈ یشن کونسل سے رجسٹرڈ محکمہ زراعت پنجاب کی پہلی لیبارٹری ہے۔ ڈاکٹر عبید الرحمان نے مزید بتایا کہ اس لیبارٹری میں مٹی، پانی اور کھادوں کی جدید سائنسی بنیادوں پر بین الاقوامی معیار کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ کھادوں کا تجزیہ فرٹیلائزر ایکٹ 1973 کے تحت کیا جاتا ہے اور نمونہ کا غیر معیاری ثابت ہونے کی صورت میں قانونی و عدالتی کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ کاشتکاروں کی سہولت کیلئے مٹی و پانی کا تجزیہ انتہائی رعایتی نرخوں پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2020 تک جاری سوائل فرٹیلٹی پروجیکٹ کے تحت پنجاب کے اضلاع کے ہر دس ایکڑ زرعی زمین کے مٹی کے نمونے حاصل کر کے تجزیہ کیا جا رہا ہے جس کی مدد سے مستقبل قریب میں ایسے نقشہ جات تیار کیے جائیں گے جو کہ کاشتکاروں کی رہنمائی کیلئے مددگار ثابت ہوں گے۔ ان نقشہ جات کی مدد سے کاشتکار اپنی زمین کی زرخیزی، کھادوں کی قسم اور ان کی ضرورت و مقدار بھی جان سکیں گے۔

مزید : کامرس