امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ

امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ

  



اس دنیا میں آنے کے بعد انسان نے کبھی الگ تھلگ رہنے کو ترجیح نہیں دی بلکہ ہمیشہ سے قربت کو پسند کیا ہے اور دوری اور فرقت کو مصیبت اور آزمائش گردانا ہے۔ یہ ایک فطری تقاضا ہے اس میں انسان کے ارادہ اور اختیار کا عمل دخل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ سفر پر جاتے وقت مسافر اور اہل خانہ اداس اور غمگین ہوتے ہیں اور واپسی پر سب خوش و خرم ہوتے ہیں، غرض انسان کو مل جل کر رہنے سے چین اور سکون ملتا ہے اور جدائی و تنہائی سے بے چینی اور بے اطمینانی لاحق ہوتی ہے۔

انسان کے اس فطری تقاضے کے مطابق ساتھ ساتھ رہنے اور باہم ایک دوسرے کے کام آنے سے معاشرہ وجود میں آیا، پھر معاشرے میں اچھے اور برے کی تقسیم ہوئی، پس اگر معاشرہ ایسا ہے کہ وہاں انسان کو زندگی گزارنے اور اپنی خواہش اور ضرورت کی تکمیل میں مدد ملتی ہے تو اس کو اچھے معاشرے کا نام دیا جاتا ہے اور اگر وہ معاشرہ بجائے سہولت فراہم کرنے کے تکلیف کا باعث ہے اور وہاں انسان کو بنیادی ضروریات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ برا معاشرہ کہلاتا ہے۔

اچھے معاشرے کی تعریف کیا ہے؟ اس کا انحصار معاشرے سے جڑے لوگوں پر ہے اس لئے کہ ہر معاشرہ کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور اپنی اپنی اخلاقی اقدار ہوتی ہیں انہی اخلاقی اقدار کے مطابق لوگ اپنی زندگی گزارتے ہیں اور ان اقدار کی پاسداری اخلاقی فرض سمجھا جاتا ہے۔ ایک چیز ایک معاشرے میں اچھی سمجھی جاتی ہے تو دوسرے ماحول میں وہ قابل مذمت ہوتی ہے۔ مثلاً خواتین کا پردہ کرنا اسلامی معاشرے میں ایک ممدوح فعل ہے اور پردہ دار خاتون کو ایک ممتاز مقام دیا جاتا ہے مگر اسی پردہ کو فرانس میں قابل مذمت سمجھا جاتا ہے اور وہاں اس پر باقاعدہ پابندی لگا دی گئی ہے۔ تاہم اس فرق کے باوجود تمام معاشروں میں فلاحی معاشرے کا تصور ہر جگہ موجود ہے کہ کامیاب فلاحی معاشرہ وہ ہوگا جہاں لوگ ایک دوسرے کی عزت کرتے ہوں اور ہر فرد اپنے فرائض ذمہ داری کے ساتھ ادا کرتا ہو، جہاں لوگوں کے حقوق کو تحفظ حاصل ہو اور ہر انسان کی جان، مال، عزت و آبرو محفوظ ہو۔ اس میں ہر وہ کام جرم تصور ہوتا ہو جس سے کسی شہری کی ذات کو تکلیف ہوتی ہو یا اس کے مال و اولاد وغیرہ کو نقصان پہنچتا ہو یا کسی طرح حق تلفی ہوتی ہو یا اسے اپنا حق حاصل کرنے میں مشکل پیش آتی ہو۔

اگر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امن معاشرے کے اچھے اور برے کہلانے میں کلیدی کردار کا حامل ہے، اچھے اور فلاحی معاشرے کا تصور جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت کے بغیر ممکن نہیں۔ آپ غور کریں حضرت ابراہیم ؑ نے شہر مکہ کی بنیاد رکھی اور پھر اپنے رب سے دعا کرتے ہوئے سب سے پہلے امن کی دعا کی اور فرمایا : رب اجعل ھذا بلدآ آمنا (اے پروردکار اس جگہ کو امن کا شہر بنا) )بقرہ : (126 اور حضرت یوسف ؑ نے اپنے والدین اور بھائیوں کو مصر کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا : ادخلوا مصر ان شاء اللہ آمنین (اور داخل ہو جائے مصر میں اگر اللہ نے چاہا امن سے) (سورۃ یوسف) اور اللہ تعالیٰ جنتیوں کی باہمی گفتگو نقل کرکے فرماتا ہے : الا قیلاً سلاما سلاما (ہاں وہاں کا کلام سلام سلام ہوگا) )واقعہ : (26 یعنی جنتی ایک دوسرے کو سلامتی کے پیغامات دیں گے۔ معلوم ہوا کہ اچھے معاشرے کی بنیاد امن پر رکھی جاتی ہے پس اگر کسی جگہ امن نہیں تو وہاں بدامنی ہوگی، خوف ہوگا اور افراتفری کا عالم ہوگا، ایسے میں وہ معاشرہ سکون سے خالی ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ معاشرے کا امن کیسے خراب ہوتا ہے اور کیونکر ایک فلاحی اور پرامن معاشرہ ایک بے امن اور پرخطر ماحول میں تبدیل ہوجاتا ہے؟ تاریخی روایات پر غور کرنے سے اس کا جواب واضح ہوتا ہے کہ جب بھی معاشرے کے کچھ افراد نے اپنے ذاتی، نسلی یا لسانی مفادات کو مقدم سمجھا اس معاشرے کا امن غارت ہوگیا، یعنی جب بھی عصبیت کو ہوا دی گئی اور رنگ و نسل وغیرہ امتیازات روا رکھے گئے تو معاشرے تباہ ہوگئے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام اقوام برابر نہیں اور نہ ہی تمام مذاہب کو ایک پیمانہ پر پرکھا جاسکتا ہے بلکہ ہر قوم کو دوسری قوم پر کچھ نہ کچھ ترجیح حاصل ہوتی ہے لیکن خالق کائنات نے کہ جس نے انسان کو قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے خود اس کی وجہ بیان فرمائی ہے : و جعلنکم شعوبا و قبائل لتعارفوا (اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو) )سورۃ الحجرات : (13 معاشرے کے امن کے لئے ضروری ہے کہ معاشرے کا ہر فرد دوسرے کے ساتھ بلاتفریق بہتر رویہ اختیار کرے، رنگ و نسل اور مذہب کے امتیازات سے قطع نظر سب کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے اور کسی کی عزت نفس کو مجروح نہ کرے اور نہ کسی کو حقیر اور کمزور سمجھے، انسان کے اس برتاؤ کا نام رواداری ہے، رواداری کا تقاضا ہے کہ ہر انسان قوم و قبلہ رنگ و نسل کے امتیاز سے بلند ہوکر معاشرے کے ہر فرد کے حقوق کا خیال رکھے۔

نوجوان چونکہ معاشرے کا ایندھن اور مستقبل کا معمار ہے، اس لئے نوجوان ہی معاشرے کی بہتری کے لئے کردار ادا کرسکتا ہے۔ ذیل میں چند نکات کا ذکر کیا جاتا ہے جن پر عمل کرکے ایک پرامن فلاحی معاشرے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔

(1) حقوق اور فرائض :۔

حقوق سے مراد شہری کے وہ مطالبات ہیں جنہیں معاشرہ تسلیم کرے اور ان کے پورے کرنے کی ذمہ داری ریاست اپنے سر لے لے، لاسکی کے مطابق حقوق معاشرتی زندگی کی وہ شرائط ہیں، جن کے بغیر کوئی شہری اپنی شخصیت کو پوری طرح پروان نہیں چڑھا سکتا ہے۔ حقوق دراصل معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے وجود میں لائے جاتے ہیں اور ان کے بغیر انسان کی فطری صلاحیتیں بروئے کار نہیں آسکتیں۔ معاشرتی امن کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے کے حقوق کا خیال رکھا جائے، اس لئے کہ جب حقوق کی ادائیگی نہیں ہوگی، حق دار حق وصول کرنے کی کوشش کرے گا اور اس کوشش میں بسااوقات وہ ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا، جو معاشرتی امن اور فلاح و بہبود کے لئے نقصان دہ ہیں۔ معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے شہری پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد کی گئی ہیں، جنہیں فرائض کہا جاتا ہے کوئی بھی فرد اس وقت تک اچھا شہری نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ اپنے فرائض ادا نہ کرے۔ اسلام میں غیر مسلموں کے حقوق نہ صرف موجود ہیں بلکہ ان کے پورا کرنے کی بہت تاکید آئی ہے۔ اسی طرح غیر مسلموں کی کچھ ذمہ داریوں کا بھی تعین کیا گیا ہے، جب تک طرفین اپنی اپنی ذمہ داریاں بخوبی ادا نہیں کریں گے، ان کے حقوق پامال ہوتے رہیں گے جو کہ معاشرتی بگاڑ اور بدامنی کا باعث بنے گا۔

(2) دیانت داری :۔

ہر مہذب شہری کا فرض ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں دیانت سے کام لے اور اپنے تمام فرائض احسن طریقے سے ادا کرے، دیانت داری کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ناپ تول، عدل و انصاف، لین دین، تجارت غرض زندگی کا ہر شعبہ دیانت داری کا میدان ہے لیکن صدق و سچائی دیانت داری ایک ایسا شعبہ ہے جو معاشرتی امن میں براہ راست کردار ادا کرتا ہے۔ اکیسویں صدی میں جہاں سائنس کے دیگر شعبوں نے ترقی کی ہے، وہاں مواصلات میں زبردست انقلاب برپا ہوا ہے اور سوشل میڈیا نے بہت اہمیت حاصل کرلی ہے۔ سائنس کی دیگر شاخوں کی طرح اس کے بھی اچھے اور برے دونوں طرح کے استعمالات ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر مختلف اقوام و مذاہب سے متعلق اظہار رائے ایک رواج بن گیا۔ ایک مہذب اور ذمہ دار شہری کا فرض ہے کہ وہ دیانت سے کام لے اور کسی بھی ایسے پیغام کو نہ آگے عام کرے اور نہ ہی اس پر رائے کا اظہار کرے جب تک وہ اس خبر کی تصدیق نہ کرلے۔ قرآن پاک میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بے خبری میں ایذا نہ دے بیٹھو، پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔ )حجرات : آیت (6

(3) قوت برداشت :۔

ہم اور آپ جب ملتے ہیں تو معاشرہ بنتا ہے، اس معاشرے میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ معاشرے کے تمام افراد نیک و پارسا ہوں بلکہ کچھ لوگ ایسے ضرور پائے جاتے ہیں جو جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں، ایسے لوگوں کی اصلاح و سرکوبی کے لئے قانون عمل میں لایا جاتا ہے اور مختلف قسم کے تعزیرات کا نفاذ کیا جاتا ہے۔ قانون معاشرتی اقدار کی منظم شکل ہے جس کا نفاذ حکومت و ریاست کی ذمہ داری ہے۔ معاشرتی امن کے لئے قانون کا وجود جتنا ضروری ہے قانون کا احترام اور قانون شکنی سے اجتناب اس سے زیادہ ضروری ہے۔ اگر معاشرے کا کوئی فرد کسی کے احساسات کو مجروح کرتا ہے تو معاشرتی امن کے لئے ضروری ہے کہ برداشت سے کام لیا جائے اور مجرم کو قانون کے حوالے کیا جائے اور اسے قانون کے مطابق سزا دلوانے میں قانون کی مدد کی جائے۔ اس موقع پر اگر برداشت سے کام نہیں لیا جائے گا اور لوگ اپنے طور پر سزا کا اجرا کرینگے تو اس سے معاشرہ مزید بگاڑ کی طرف جائے گا۔

(4) بحث و تکرار :۔

انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے عقل جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے جس کے ذریعے انسان سوچ و بچار کرکے کوئی رائے قائم کرسکتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جس نے انسانوں کو دیگر حیوانات سے جدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی عقل کو ایک معیار پر نہیں بنایا بلکہ جس طرح دیگر صلاحیتوں مثلاً فصاحت، طاقت اور حسن وغیرہ میں فرق روا رکھا ہے، اسی طرح انسانوں کی عقلوں میں بھی باہم فرق ہے بلکہ ایک ہی انسان کی عقل پوری زندگی میں یکساں نہیں رہتی۔ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ بچے کم عقل ہوتے ہیں، لیکن یہی بچے جب جوان ہوتے ہیں تو ان کی اس صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اور پھر ایک زمانہ ایسا آتا ہے کہ اس میں اس بچے کی عقل مکمل ہو جاتی ہے۔ انسانوں کے اس عقلی تفاوت کا نتیجہ ہے کہ تمام انسان ایک رائے پر متفق نہیں ہو پاتے بلکہ کسی بھی معاملہ میں ہر کوئی اپنی عقل کے مطابق رائے کا اظہار ضروری سمجھتا ہے اور دوسری تمام آراء کو رد کرتا ہے۔ پھر اپنی رائے کی فوقیت کے اظہار کے لئے وہ مختلف دلائل کا سہارا لیتا ہے اور دیگر آراء کو رد کرنے کے لئے ان پر تنقید کرتا ہے۔

معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لئے اختلاف رائے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری نظام حکومت میں حزب اختلاف کو لازمی جز تصور کیا گیا ہے اور اس کے کردار کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ اختلاف رائے کے بعد اگلا مرحلہ بحث و تکرار کا ہے۔ اس مرحلہ میں اختلاف کرنے والا اپنی رائے کی صحت پر دلائل دیتا ہے ار سامعین کو قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری آراء کو غلط ثابت کرنے کے لئے ان کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتا ہے اور سامعین کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ غرض بحث و تکرار کے ذریعے اختلاف رائے پرکھا جاتا ہے اور صحیح و غلط کا تعین کیا جاتا ہے۔

معاشرتی امن کے لئے ضروری ہے کہ جب بھی کسی کے خلاف کوئی رائے قائم کی جائے اور اس کا اظہار کیا جائے تو خوش خلقی اور تہذیب کو ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔ مثلاً لہجہ، آواز اور الفاظ کا چناؤ ایسا نہ ہو کہ مقابل ضد اور عناد پر اتر آئے اور آپ کی رائے سنے بغیر اپنی رائے کی صحت پر ڈٹ جائے بلکہ ضروری ہے کہ اس موقع پر نرم اور شائستہ لہجہ میں بات کی جائے تاکہ فریق مخالف آپ کو اپنا خیر خواہ سمجھے اور آپ کی رائے کو سن کر اس پر غور و فکر کرنے پر مجبور ہو۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو فرعون کی طرف تبلیغ کے لئے بھیجا اور آپؑ کو نرمی کا حکم دیا۔ ارشاد ہے : فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی (اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے اور ڈر جائے) )سورۃ طہٰ : آیت (44 یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ انسان کا کام درست اور صحیح بتلانا ہے، منوانا نہیں۔ عام طور پر یہاں غلطی ہو جاتی ہے اور اپنی رائے منوانے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے معاملات خراب ہوتے ہیں اور باہم نزاع کی صورت پیش آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن میں نبی کریمﷺ کو یہ حکم دیا ہے۔ فذک، انما انت مذکر، لست علیھم بمصیطر (تو تم نصیحت کرتے ہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ تم ان پر داروغہ نہیں ہو (سورۃ الغاشیہ) الغرض ہدایت دینا اللہ کے اختیار میں ہے انسان کا کام صرف تبلیغ کرنا ہے اور صحیح رائے کو دوسروں تک پہنچانا ہے، اسی مضمون کو قرآن نے بھی بیان فرمایا ہے۔

دوران گفتگو اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ دوسروں کے احساسات مجروح نہ ہوں، اس لئے کہ ایسا ہونے پر فریق مخالف بھی بدلہ لینا ضروری سمجھتا ہے اور نتیجتاً آپ کے احساسات کو مجروح کرتا ہے اور یوں ایک نئی جنگ چھڑ جاتی ہے۔ قرآن پاک میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ ارشاد ہے : و لا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم (اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں، ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہی خدا کو بے ادبی سے بے سمجھے برا نہ کہہ بیٹھیں) (سورۃ انعام)

اللہ تعالیٰ کسی بھی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اس کا ارادہ نہ کرلے۔ لہٰذا دنیا کو دارالامان بنانا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ اگر آج بھی اس چمن کے باسی عزم کرلیں اور اپنے اپنے فرائض ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنا شروع کر دیں اور کسی پر ظلم نہ ہونے دیں تو کوئی بعید نہیں کہ صبح کا اجالا نمودار ہو اور بہار کے دلفریب منظر سے یہاں کے باسیوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔(بشکریہ ماہنامہ ’’ایوانِ اسلم‘‘ کراچی)

مزید : ایڈیشن 1


loading...