قرآن پاک کی تین خوبیاں

قرآن پاک کی تین خوبیاں

  



ارشاد خداوندی ہے ’’اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ‘‘۔

(سورۃ البقرہ، آیت نمبر: 183)

اہل ایمان کو خطاب

اس آیت میں بڑی بلاغت و حکمت ہے کہ ایک ایسی چیز جو نفس پر شاق اور دشوار ہے جس کے لئے بڑی ہمت کی ضرورت ہے، اس کی بنیاد ایمان کو بنایا گیا ہے۔ اسی لئے پہلے ایمان کا تذکرہ کیا گیا کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لا چکے ہو، اللہ تعالیٰ کی تمام باتوں کو قبول کرنے کا عہد کر چکے ہو اور دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہو اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالہ کر چکے ہو کہ وہ ہمارا مالک ہے، ہمارا حاکم ہے، جو حکم دے گا ہم اس پر عمل کریں گے، ہمیں اس سے مطلب نہیں کہ اس میں کچھ مزہ ملے گا یا نہیں، دنیاوی فائدہ ہوگا یا نہیں، وہ آسان ہے یا مشکل ہے، غرض اس سے کوئی بحث نہیں۔ جب ہم نے اللہ تعالیٰ کی غلامی قبول کر لی، اس کی بندگی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا اور اعلان کر دیا کہ ہم تو حکم کے بندے ہیں، جو وہ حکم دے گا ہم اسی پر عمل کریں گے۔

حکیمانہ انداز میں حکم

اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ ذات ہی اس حکم کو اس طرح شروع کر سکتی ہے، ورنہ دنیا کے جو قوانین ہیں جن باتوں کا حکومتیں اعلان کرتی ہیں، ان میں یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ کرو گے تو بچ جاؤ گے، اس پر عمل نہ کرو گے تو سزا پاؤ گے وغیرہ۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حالانکہ وہ حکم مطلق ہیں، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے ہیں، وہ بھی اس طرح کم دے سکتے ہیں، ان کا حق تھا لیکن فرمایا: ’’اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو‘‘۔ تو اللہ تعالیٰ نے ہم تمام مسلمانوں کی قوت ایمانی کو آواز دی ہے، قوت ایمانی کو جگایا اور اس کو بنیاد بنایا ہے، اے وہ لوگو! جو اس بات کا عہد کر چکے ہو کہ ہم ہر بات مانیں گے اور ہم تو حکم کے بندے ہیں ’’تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے‘‘۔

انسانی فطرت

اللہ تعالیٰ فطرت انسانی کو بنانے والے اور اس کی رعایت کرنے والے بھی ہیں، کسی مجبوری سے نہیں بلکہ اپنی حکمت اور اپنی رحمت سے کہ جب وہ کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو اس بات کے لئے زمین تیار کر دیتے ہیں تاکہ انسان اس کو آسانی سے قبول کر سکے، اس لئے انسان کی فطرت ہے کہ جو چیز اس کو انوکھی اور نرالی معلوم ہوتی ہے اس سے گھبراتا ہے اور چونک اٹھتا ہے کہ اچھا یہ بھی کرنا ہوگا؟ لیکن جب اس کو معلوم ہو جائے کہ یہ ہوتا آیا ہے، لوگ کرتے آئے ہیں تو پھر وہ اس کو سنتا ہے، خوش گواری کے ساتھ مانتا اور آسانی کے ساتھ تابع داری کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں خوش دلی سے روزہ مجھنے کی توفیق دیں۔ آمین

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

ترجمہ: اے لوگو! تمہارے پاس ایک ایسی چیز آئی ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک نصیحت ہے اور دلوں کی بیماریوں کے لئے شفا ہے اور ایمان والوں کے لئے ہدایت اور رحمت کا سامان ہے۔

(سورہ یونس: 57)

قرآن پاک کی تین خوبیاں:

اس آیت میں قرآن پاک کی تین خوبیوں کا ذکر فرمایا ہے۔

-1 سامان نصیحت ۔

-2 شفا ہونا۔

-3 ہدایت اور رحمت

-1 سامان نصیحت:

مَوْعِظَۃٌ کے معنی ہیں: ایسی چیزوں کا بیان کرنا جن کو سن کر انسان کا دل نرم ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے، دنیا کی غفلت کا پردہ چاک ہو اور آخرت کی فکر سامنے آ جائے۔ قرآن کریم اوّل سے آخر تک اسی موعظہ حسنہ (اعلیٰ درجہ کی وعظ و نصیحت) پر مشتمل ہے۔ اس میں ہر جگہ وعدہ کے ساتھ وعید، ثواب کے ساتھ عذاب، دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی کے ساتھ ناکامی اور گمراہی وغیرہ کا ایسا ملا جلا تذکرہ ہے کہ جس کو سن کر پتھر بھی پانی ہو جائے نیز قرآن کریم کا انداز بیاں ایسا اچھوتا اور نرالا ہے جو دلوں کی کایا پلٹنے میں بے نظیر ہے۔

-2 شفا ہونا:

قرآن کریم دلوں کی بیماریوں کا کامیاب علاج اور صحت و شفا کا نسخہ اکسیر (نہایت مفید دوا) ہے۔

کیا قرآن ہر بیماری کے لئے شفا ہے؟

اس بارے میں علماء مفسرین کے دو قول ہیں:

پہلا قول:

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قرآن خاص دلوں کی بیماریوں کے لئے شفا ہے، جسمانی بیماریوں کا علاج نہیں۔

دوسرا قول:

دیگر علمائے مفسرین فرماتے ہیں: قرآن ہر بیماری کے لئے شفا ہے، خواہ قلبی و روحانی ہو، یا بدنی اور جسمانی۔ (روح المعانی 132/6)

یاد رکھئے! روحانی بیماریوں (حسد، کینہ، تکبر، بخل، خودپسندی اور دنیا کی محبت وغیرہ) کی تباہی انسان کے لئے جسمانی بیماریوں سے زیادہ شدید ہے اور اس کا علاج بھی ہر شخص کے بس کا نہیں، اس لئے اس جگہ ذکر صرف قلبی اور روحانی بیماریوں کا کیا گیا ہے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ جسمانی بیماریوں کے لئے شفا نہیں ہے۔ روایات حدیث اور علمائے امت کے بے شمار تجربات اس پر شاہد (گواہ) ہیں کہ قرآن کریم جیسے قلبی امراض کے لئے اکسیر اعظم ہے، اسی طرح وہ جسمانی بیماریوں کا بھی بہترین علاج ہے۔

*۔۔۔ حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیان کیا کہ میرے حلق میں تکلیف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی یہی فرمایا: قرآن پڑھا کرو! (روح المعانی عن البیہقی فی الشعب 132/6)

نوٹ:

-1 تجربات و مشاہدات سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی مختلف آیتیں مختلف جسمانی امراض کے لئے بھی شفا ہیں، البتہ یہ ضرور ہے کہ نزول قرآن کا اصلی مقصد قلب و روح کی بیماریوں کو ہی دور کرنا ہے اور ضمنی طور پر یہ جسمانی بیماریوں کا بھی بہترین علاج ہے۔

-2 جو لوگ قرآن کریم کو صرف جسمانی بیماریوں کے علاج یا دینوی حاجات ہی کے لئے پڑھتے، پڑھاتے ہیں، نہ روحانی امراض کی اصلاح کی طرف دھیان دیتے ہیں، نہ قرآن کی ہدایات پر عمل کرنے کی طرف توجہ کرتے ہیں، ایسے ہی لوگوں کے لئے علامہ اقبالؒ مرحوم نے فرمایا ہے ؂

ترا حاصل ز یٰس آش جزین نیست

کہ از ہم خواندنس آسان بمیری

یعنی تم نے قرآن کی سورہ یٰس سے صرف اتنا ہی فائدہ حاصل کیا کہ اس کے پڑھنے سے موت آسان ہو جائے، حالانکہ اس سورت کے معانی اور حقائق و معارف میں غور کرتے تو اس سے کہیں زیادہ فوائد و برکات حاصل کر سکتے تھے۔

-3 ہدایت و رحمت: قرآن کریم انسان کو حق کے راستے اور یقین کی طرف دعوت دیتا ہے اور انسان کو بتلاتا ہے کہ پوری کائنات اور خود ان کے نفوس میں اللہ تعالیٰ نے جو عظیم نشانیاں رکھی ہیں، ان میں غور و فکر کرو تاکہ تم ان سب چیزوں کے خالق و مالک کو پہچانو۔ پھر قرآن مجید ہدایت و رحمت تو سبھی کے لئے ہے لیکن چونکہ اس سے اہل ایمان ہی مستفید ہوتے ہیں اور اسے اپنے لئے ہدایت اور رحمت کا ذریعہ بنا لیتے ہیں، اس لئے خصوصیت کے ساتھ ان کے لئے ہدایت اور رحمت ہونے کا ذکر فرمایا۔

(از معارف القرآن عثمانی، ج 4، تفسیر انوار البیان ج 4)

اللہ تعالیٰ قرآن پاک کو ہمارے دلوں کی بہار بنا دے۔ آمین (بشکریہ، ماہنامہ علم و عمل، لاہور)

مزید : ایڈیشن 1


loading...