جال بھی پرانا ہے شکاری بھی

جال بھی پرانا ہے شکاری بھی
جال بھی پرانا ہے شکاری بھی

  



عام انتخابات کے انعقاد میں ایک مہینے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے مگر ابھی تک وہ عوامی ماحول نہیں بن سکا ہے جو عام انتخابات کا خاصہ ہوتا ہے۔کسی پارٹی کے پاس امیدوار زیادہ ہیں اور ٹکٹ کم، کسی پارٹی کے امیدوار ٹکٹ نے ملنے پر علم بغاوت بلند کر رہے ہیں اور ماضی کا کچا چٹھا کھولنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو کوئی پارٹی ابھی تک امیدواروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

المیہ یہ ہے جو بھی حکومت اپنی مدت اقتدار مکمل کرتی ہے خزانہ خالی چھوڑ کر جاتی ہے۔ عوام کے مسائل جوں کے توں رھتے ہیں خزانہ خالی ہوتا جاتا ہے قرضے بڑھتے جاتے ہیں ۔ پاکستانی قوم کا ہر فرد صرف 170000 روپے کا مقروض ہے اور یہ کہنے میں حق بجانب ہے۔

وطن کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب ہی نہ تھے

2013 کے عام انتخابات کی تشہیری مہم میں عوام کو حسب روایت سنہرے خواب دکھائے گئے تھے جو خواب ہی رہے ۔تعبیر کا روپ نہ دھار سکے۔ن لیگ کی تشہیری مہم میں توانائی کا بحران ختم کرنا سڑکیں بنانا ریلوے سیکٹر میں بلٹ ٹرین متعارف کرانا ۔ جیسے دعوے نمایاں نظر آرہے تھے۔

پانچ سال گزرنے کے بعد جائزہ لیں تو مجموعی طور پر صورتحال بہت خراب رہی حکمرانوں کے وعدے وعدے ہی رہے مختلف منصوبوں کی افتتاحی تختیاں لگتی رہیں آخری سال میں کچھ افتتاح بھی نظر آئے۔لوڈ شیڈنگ کا بحران شدت کے ساتھ نظر آتا رہا ۔ جہاں پاور پلانٹ کے افتتاح ہوتے رہے اور ان سے متعلقہ کرپشن اسکینڈل بھی سامنے آتے رہے۔نندی پور پاور پلانٹ۔ اور قائداعظم سولر پارک بہاولپور اسکی روشن مثال ہے۔ موٹروے۔ میٹرو۔ اور سڑکوں کے منصوبے بھی پایاں تکمیل تک نہ یہنچ سکے۔حکمرانوں کو اپنے نا اہل ہونے کا اتنا یقین تھا کے کراچی حیدرآباد موٹروے کے ادھورے منصوبے کا افتتاح کیا گیا۔

پنجاب میں میٹرو بس کے چیمپئن بننے والے تین سال میں کراچی میں ایک گرین لآئن بس کا پروجیکٹ مکمل نہیں کر سکے اور اسکا الزام سندھ حکومت پر ڈالا جا رہا ہے کہ انہوں نے بسیں نہیں منگوائیں ۔مگر یہ بات سمجھ سے باہر ہے کے بسیں آ بھی جائیں تو چلیں گی کہاں کہاں کیوںکہ ابھی کافی کام باقی ہے۔

ن لیگ کی حکومت آتے ہی سادہ لو عوام نے سمجھا کہ بزنس مین حکمران ہے عوام کی معاشی حالت بہتر ہوجائے گی۔ریلوے۔ PIA . اور پاکستان اسٹیل مل جیسے ادارے جو کہ سفید ہاتھی بن چکے ہیں مسائل کے گرداب سے نکل آئیں گے

مگر صورتحال اسکے بر عکس نکلی ،ریلوے سیکٹر کے مسائل کیا حل ہونے تھے۔ ریلوے منسٹر کی تقاریر میں اسے منافع بخش ادارہ ثابت کیا جاتا رہا مگر عملی طور پر خسارہ بڑھتا ہی رہا۔ اتنا بھی نہ ہوسکا کے اگر بلٹ ٹرین نہیں چلا سکے تو کم از کم چائنہ سے بلٹ ٹرین کے ماڈل ہی منگوا کر مرکزی مقامات پر نصب کروادیتے اور بچوں کو تفریق کے مواقع بھی مل جاتے۔پاکستان ائیر لائن کے کیا کہنے، حکمرانوں کی نجی ائرلائن منافع میں اور حکومت کی ائرلائن خسارے میں۔ کوئی تو بتاو¿ کون لوگ ہو تسی۔

پانچ سال سے اسٹیل مل میں پروڈکشن بند ہے ملازمین کو نہ گولڈن ہینڈ شیک دیا جارہا ہے نہ ہی وقت پر تنخواہیں۔ مگر حکمرانوں کی اسٹیل ملز کی بھٹیاں جل رہی ہیں اور عام آدمی کے ارمان سلگ سلگ کر راکھ ہوتے جارہے ہیں۔ان تمام مسائل کے باوجود ن لیگ کا بیانیہ ہے ووٹ کو عزت دو۔دوسری طرف تحریک انصاف کو ابھی تک مکمّل اقتدار نہیں ملا ہے مگر خیبرپختونخوا میں ہونے والی تبدیلی اور ترقی کاغذات میں زیادہ نظر آتی ہے۔ بلین ٹرین منصوبہ کامیاب ہوا کے نہیں۔ پشاور کی میٹرو بنی کہ نہیں۔ تعلیم۔ صحت۔روزگار سے جڑے مسائل کیسے حل ہونگے اسکے لئیے گیارہ نکاتی منشور ضرور پیش کیا ہے مگر ابھی پہلی ترجیح حصولِ اقتدار ہے جسے حاصل کرنے کی لئیے ہر عمل کو جائز ہونے کی دلیل اور سند دی جا رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حالت سب سے دگرگوں ہے ۔دیہی سندھ میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو مختلف مقامی جماعتوں کے اتحاد GDA کا سامنا ہے جسکی سربراہی مسلم لیگ فنکشنل کے پیر پگارا صاحب کر رہے ہیں ۔ پہلی بار عوامی سطح پر کچھ مزاحمت بھی نظر آرہی ہے اور سابقہ امیدواروں سے جواب طلبی بھی کی جارہی ہے مگر یہ عمل ابھی محدود ہے۔

یوں تو پیپلز پارٹی نے اس الیکشن میں بھٹو برادری سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو ٹکٹ نہیں دیا مگر بھٹو صاحب کے نام کے ساتھ سندھ کے عوام کی جذباتی وابستگی ہے ۔ اگر زرداری صاحب کی پیپلزپارٹی نے سیٹیں حاصل کرنی ہےں تو سندھ کے عوام کے دلوں میں بھٹو کو زندہ رکھنے والے کام کرنے ہونگے

خدانخواستہ جس دن عوام کے دلوں سے بھٹو نکل گیا پیپلزپارٹی کا بھی کوئی پرسانِ حال نہ ھوگا۔جال بھی پرانا ہے۔ شکاری بھی پرانے ہیں کہیں روپ بدلا ہے کہیں جماعتیں۔عوام بھی وہی ہے دیکھیں شاید انکا ووٹ انکی تقدیر بدل جائے۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...