روایتی غیر روایتی جنگوں کے دور میں باہمی تعاون کے بغیر کامیابی کا حصول مشکل : ایئر چیف

روایتی غیر روایتی جنگوں کے دور میں باہمی تعاون کے بغیر کامیابی کا حصول مشکل : ...

  



اسلام آباد(آئی این پی )پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان نے کہا ہے کہ معاصرانہ سیاسی اور جغرافیائی حکمت عملی سے آگاہ ہونا ضروری ہے کیونکہ ان کا نہ صرف مجموعی سکیورٹی سے گہرا تعلق ہے بلکہ ان سے مکمل آگہی ہی آپ کو درپیش خطرات سے بہتر طور پر نبرد آزما ہونے کے قابل بناتی ہے، آپ کو پیش آنے والے خطرات اور پیچیدہ سکیورٹی ماحول جس کااس وقت دنیا کو سامنا ہے، سے احسن طریقے سے نمٹنا ہے، روایتی اور غیر روایتی جنگوں کے اس دور میں باہمی تعاون کے بغیر کامیابی کا حصول مشکل ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزائیروار کالج میں 31 ویں ائیر وار کورس کی کانووکیشن کی تقریب کے موقع پر کیا۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان نے اس تقریب کی صدرات کی۔ائیر چیف نے گریجویٹ ہونے والے افسران کو کورس کی کامیاب تکمیل پرمبارک باد دی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ائیر وار کالج سے حاصل کردہ علم اور مہارت شرکاء کی قومی سلامتی سے متعلق مطلوبہ ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہونگی ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بطور سینئر فوجی افسران آپ کو مکمل طور پر معاصرانہ سیاسی اور جغرافیائی حکمت عملی سے آگاہ ہونا ضروری ہے کیونکہ ان کا نہ صرف مجموعی سکیورٹی سے گہرا تعلق ہے بلکہ ان سے مکمل آگہی ہی آپ کو درپیش خطرات سے بہتر طور پر نبرد آزما ہونے کے قابل بناتی ہے۔آپ کو وسائل کے بہتر استعمال اور آپریشنل حکمت عملی کی بھاری ذمہ داریاں سونپی جانی ہیں ۔ مزید برآں آپ کو پیش آنے والے خطرات اور پیچیدہ سکیورٹی ماحول جس کااس وقت دنیا کو سامنا ہے، سے احسن طریقے سے نمٹنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی اور غیر روایتی جنگوں کے اس دور میں باہمی تعاون کے بغیر کامیابی کا حصول مشکل ہے ، یہی وجہ ہے کہ ملٹری آپریشن کے جدید نظریے کے مطابق باہمی تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اس سے پہلے ائیر وائس مارشل ابرار احمد ، کمانڈنٹ ائیر وار کالج نے کورس رپورٹ پیش کی۔پاک فضائیہ کے افسران کے علاوہ پاک آرمی، پاک نیوی اور دیگر 11 ممالک جن میں بنگلہ دیش ، چین، مصر، ایران ، اردن ملائیشیا ، سعودی عرب ، اومان ، جنوبی افریقہ، سری لنکا اور زمبابوے کے افسران بھی گریجویٹ ہوئے۔ اس تقریب میں کئی سول اور فوجی اعلیٰ عہدیداران اور مختلف ممالک کے ڈپلومیٹس نے شرکت کی۔

ائیرچیف

مزید : علاقائی