سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ، عمران خان سمیت کوئی بھی الزام گنندہ الیکشن کمیشن پیش نہ ہو سکا

سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ، عمران خان سمیت کوئی بھی الزام گنندہ الیکشن ...

  



سلام آباد(آئی این پی)الیکشن کمیشن نے سینیٹ الیکشن میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت 14جولائی تک ملتوی کردی، ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگانے والے سیاسی رہنماؤں مریم اورنگزیب،امیر مقام اور فاروق ستار سمیت کوئی سیاسی رہنما الیکشن کمیشن کے سامنے پیش نہ ہو سکا۔ الیکشن کمیشن میں گزشتہ روز سینیٹ انتخابات میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ کیس کی سماعت تین رکنی بینچ نے کی،ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگانے والے سیاسی رہنماؤں مریم اورنگزیب،امیر مقام اور فاروق ستار سمیت کوئی سیاسی رہنما الیکشن کمیشن کے سامنے پیش نہ ہوا ،الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت14جولاء تک ملتوی کردی ،واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگانے پر عمران خان،فاروق ستار ، مریم اورنگزیب،امیر مقام،عظمی بخاری،خواجہ اظہار الحسن،رضا ہارون اور شہاب الدین سے ثبوت مانگے تھے۔الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم پاکستان کے بیرون ملک فنڈز بھجوانے سے متعلق کیس کی سماعت 2ستمبر تک ملتوی کردی۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سن چیراٹی برطانیہ کو رقم بھجوائی گئی ،یہ کیس ایم کیو ایم پاکستان کیخلاف ہے ،اس وقت پارٹی کے کنوینر فاروق ستار تھے اس لئے درخواست میں فاروق ستار کا نام ہے ،الیکشن کمیشن نے درخواست گزار کو درخواست میں ترمیم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2ستمبر تک ملتوی کردی۔الیکشن کمیشن نے سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی کو عام انتخابات لڑنے سے روکنے کی درخواست مسترد کردی۔ الیکشن کمیشن میں گزشتہ روز سابق وفاقی وزیر اکرم درانی کی جانب سے بلدیاتی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور مبینہ جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے سے متعلق کیس کی سماعت تین رکنی بینچ نے کی۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اکرم درانی نے 2015میں بلدیاتی انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی،اکرم درانی نے تین جھوٹے بیان حلفی جمع کروائے۔ ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ اکرم درانی کی جانب سے معافی مانگنے پر یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے،اگر اکرم درانی نے جھوٹا بیان حلفی جمع کروایا تھا تو آپ کو درخواست دینے کا خیال تین سال بعد کیوں آیا،درخواست گزار کو اکرم درانی کے کاغذات نامزدگی چیلنج کرنے چاہئے تھے۔

الیکشن کمیشن

مزید : علاقائی


loading...