بھوک ، پیاس ، لاچارگی ، خوف سے آزادی ، معیشت کی تعمیر نو ، حکومت کو عوام کا جوابدہ بنانا

بھوک ، پیاس ، لاچارگی ، خوف سے آزادی ، معیشت کی تعمیر نو ، حکومت کو عوام کا ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیو زایجنسیاں) پاکستان پیپلز پارٹی نے الیکشن 2018ء کے انتخابی منشور کا اعلان کردیا ، چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری ، فرحت اللہ بابر، شیریں رحمان ، نیئر بخاری ، اعتزاز احسن ، قمرز ما ن کائرہ ، مصطفی نواز کھوکھر اور دیگر سینئر رہنماؤں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران 76صفحا ت پر مشتمل پار ٹی منشور کا اعلان کیا۔ منشور کااعلان کرتے ہوئے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہم نے اپنے پانچ سالہ دور میں ترقیاتی کام کئے ڈھول کم بجائے ، کام زیادہ کئے ،شہیدبی بی کا وعدہ نبھانا اورپاکستان بچانا ہے، بلاول بھٹو ہمارے مستقبل کے لیڈر ہیں جبکہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا پیپلز پارٹی بھوک مٹاؤ پروگرام شروع کرے گی ، جمہوریت کو مضبوط کرنا پیپلز پارٹی کے منشو ر کا حصہ ہے ، احتساب کے تمام ادارے تباہ کردیئے گئے ہیں جبکہ پارلیمنٹ کو دوہرے معیار پر لاکر کھڑا کردیا گیا ہے ، روزگار کے موا قع پیدا کرنا او لین ترجیح ،عوام کے حقوق کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے ، ہمارے منشور کے تحت حکومت عوام کو جوابدہ ہوگی ، بھا ر تی کی آبی دہشتگردی سے دنیا کو آگاہ ،مسئلہ کشمیر کو جلد حل کرنا ہوگا۔ جنوبی پنجاب صوبے کیلئے سیاسی جدوجہد اور اقتدار میں آکر کسان اور ہیلتھ کار رڈز کا اجراء کریں گے۔پارلیمنٹ کا استحصال کسی صورت قبول نہیں پارلیمنٹ پر لعنت ڈالنے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی ۔ بلا و ل بھٹو زرداری نے کہا ہمارا منشور بے نظیر بھٹو کا نامکمل مشن مکمل کرنا ہے، بی بی کا وعدہ نبھانا، پاکستان بچانا ، ہمارے منشور کا انقلابی نعرہ ہے۔ سابق حکومت کا معاشی ریکارڈ خراب ترین ر ہا ہے ،چار سال تک ملک بغیر وزیر خارجہ کے چلتا رہا ، پارلیمان کو بے خبر رکھا گیا جس کے منفی نتائج آج ہم سب کے سامنے ہیں،سانحہ سلالہ پر ہم نے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی جس پر پہلی بار سپر پاور نے پاکستان سے معافی مانگی، ا گر عوام نے موقع دیا تو یقین دلاتا ہوں ملکی وقار پر سمجھو تہ نہیں کریں گے، دنیا کو دہشتگردی کیخلاف اپنی قربانیوں کا احسا س دلائینگے ، مسئلہ کشمیر اجاگر اور پارلیمان کی رائے کواہمیت دیں گے۔ کشکول توڑنے والوں نے جتنے قرضے لئے اتنے قرضے پاکستان کی تمام حکومتوں نے مل کر بھی نہیں لئے۔ ہمارے دور میں بر آمدات عروج پر تھیں جو مسلم لیگ ن کے دور میں نچلی ترین سطح پر آگئیں۔ اسوقت گردشی قرضہ ایک ہزار ارب کی خطر ناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ ہم نے تمام ترچیلنجز اور عالمی معاشی بحران کے باوجو ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا۔ ہمارا شروع کردابینظیر انکم سپورٹس پروگرام بھی عالم مجبوری میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی کو جاری رکھنا پڑا۔نوجوانوں کے دو مسائل ہیں تعلیم اور روز گار اگربروقت حل نہیں کئے تو ہمارا معاشرے انتشار کا شکار ہوجائے گا۔ ہم اپنے منشور میں نوجوانوں کو روز گار کی گارنٹی دیتے ہیں، جس کیلئے ہم روز گار بیورو کا قیام عمل میں لائیں گے جس کا کام روز گار کے مواقع پیدا کرنا ہوگا۔پاکستان زرعی ملک ہے،اقتدار میں آکر زراعت و ٹیکسٹا ئل شعبوں پر خصوصی توجہ دیں گے، کیونکہ زرعی انقلاب لائے بغیر ملک میں معاشی انقلاب نہیں لایا جا سکتااسلئے کسانوں کی رجسٹریشن کر کے کسان بینظیر کارڈ دیں گے۔ مزدور ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اقتدار میں آکرانکے حقوق کا تحفظ کریں گے اور انکو لیبر قوانین و سکیورٹی کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔ ٹریڈ یونینز پر پابندیاں ختم کریں گے۔ پانی کی کمی بہت بڑا مسئلہ اس مسئلے کیساتھ ہم کو جنگی بنیادوں پر لڑنا ہوگا ۔ پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جو اس وقت اس مسئلے پر کام کررہی ہے۔پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ایک بھی صاف پانی کا منصوبہ نہیں لگایا گیا۔ ہم نے غربت کیخلاف بھرپور جنگ لڑی ہے،سندھ میں خواتین کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل بنایا گیا اور اب تک 8لاکھ خاندان اپنے پاؤں پر کھڑے ہوچکے ہیں۔ ہم پیپلز فوڈ کارڈ متعارف کروائیں گے اور ہر یونین کونسل میں فوڈ سٹور بنائیں گے جہاں سے کھانے پینے کی سستی اشیا ء ملیں گے اور یہ سٹور عورتیں چلائیں گی جس سے وہ خود مختار ہونگی۔ہم نے سندھ میں جدید ہسپتال بنائے ،مفت و معیار ی علاج کیلئے اپنی توانائیاں صرف کیں اوراقتدار میں آکراسکا دائرہ ملک بھر تک پھیلائیں گے، فیملی ہیلتھ کارڈ جاری کرکے ہسپتالوں میں مفت علاج یقینی بنائینگے۔ ماں بچے کی صحت سے متعلق انقلابی پروگرام شروع کیا جائے گا۔ سندھ میں کینسر ، لیور اور گردوں کی پیوند کاری مفت کی جاتی ہے جبکہ اس پر خرچہ سات سے آٹھ ملین آتا ہے ۔ اداروں کو اپنی حدودمیں رہ کر کام کرنا چاہئے۔ کیا یہ وہ جمہور یت ہے جس کیلئے شہید بھٹو اور بینظیر نے اپنی جان قربان کی۔ دوسری جانب سیاستدانوں کی ذمہ داری بھی ہے وہ پارلیمان کومضبوط کریں، پارلیمنٹ سے غائب رہ کر ووٹ کو عزت نہیں دی جا سکتی اسی طرح دھرنوں اور پارلیمینٹ پر لعنت بھیج کر بھی پارلیمینٹ کو مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں پارلیما ن اور جمہوریت کا استحصال قبول نہیں، آج ہر طرف انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ پاکستان بچانے اور بنانے کا عزم کر رکھا ہے ،آج تک ہم بنیادی مسائل کا حل نہیں نکال سکے۔ ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں کسی کا استحصال نہ ہو۔ ہم بی بی کاو عدہ نبھائیں گے اور پاکستان بچائیں گے۔دفاعی اور پارلیمانی اداروں کے درمیان بہتر تعاون اور نگرانی کیلئے قریبی تعلق کی حوصلہ افزائی کریں گے دفاعی بجٹ کو پارلیمینٹ میں جوابدہ بنائیں گے اور دفاعی اخراجات کی پارلیمانی نگرانی کی جائیگی، سچائی مفاہمتی کمیشن قائم کریں گے، خارجہ امور، قومی سلامتی، دفاع، معیشت اور علاقائی خود مختاری کے معاملات میں پارلیمینٹ کو اہمیت دی جائے گی۔ ضرورت ہے ووٹرز گھر وں سے باہر نکلیں ہم نے ملک اور عوام کی خاطر اصلاحات اور اقدامات کا ایک اولوالعزم منصبوہ تیار کیا ہے انتخابی منشور سیاسی اقدار جمہو ر یت ،مفاہمت اور شراکت اقتدار میں سب کی شمولیت کا اعادہ کرتا ہے۔انتخابی منشورمیں تمام شعبوں کا اعادہ کیا گیا ہے اور پرامن خوشحال و ترقی پسند پاکستان کے نصب العین کا اعلان کیا گیا ہے پاکستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے آئندہ کی حکومت کیلئے رہنما اصول جاری کیے گئے ہیں اور واضح کیا گیا ہے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اپنی تمام تر قربانیوں کے باوجود ملک بدستور عالمی برادری میں تنہائی کا شکا ر اور اپنا مثبت تاثر قائم کرنے میں ناکام ہے اس تنزلی کو روکنا ہو گا ہم پر لازم ہے حکومت کو واپس عوام کی خدمت پر لگائیں انتخابی منشور کے تحت اپنے شہریوں کو نا صرف بیرونی جارحیت اور داخلی تشدد و انتہا پسندی سے بچائیں گے بلکہ غربت، بھوک ، غذائی قلت ، بیماری ، بیروزگاری سے بھی عوام کو بچانا حکومت کی ذمہ داری ہو گی ہم سب کو ساتھ لیکر چلیں گے منصفانہ طرز عمل اختیار کریں گے جمہوری اصلاحات کا عمل جاری رہے گا ،پیپلز پارٹی کی اصلاحات کو ترک کرنے کی وجہ سے پاکستان کو مفلوج بنا دیا گیا ہم ریاست کو خطرات کی بھنور سے نکال کر امن ترقی اجتماعی خوشحالی کی راہ پر ڈالیں گے، قومی سطح پر فیصلہ سازی میں ہر طبقے کی نمائندگی کو یقینی بنائیں گے ،قومی اسمبلی کیساتھ سینیٹ میں بھی معذور افرادکیلئے خصوصی نشستیں رکھی جائیں گی اور معذور افراد کی بہبود سے متعلق پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں میں قائمہ کمیٹیاں قائم ہوں گی ، معیا ری و مفت تعلیم سب کیلئے ،2025تک تعلیم پر سرکاری خرچ کو بڑھا کر کل قومی پیداوار کے پانچ فیصد تک لائیں ،کھیلوں کی بحالی کیلئے اقدامات کیے جائیں گے ۔ ایف بی آر کی تشکیل نو کرتے ہوئے تین الگ الگ اداروں میں تقسیم کر دیا جائے گا، احتساب کا ایک با اعتماد نظام قائم کیا جائے گا سول سروس میں اصلاحات کی جائیں گی اور جنوبی پنجاب کا نیا صوبہ بنایا جائے گا گلگت بلتستان کیلئے اصلاحات کی جا ئیں گی ،پاکستان پیپلز پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت ملنے پر پاکستان آزاد کشمیر گلگت بلتستان میں ایک ساتھ انتخابات کا نظام وضح کیا جا ئیگا تا کہ مرکزی حکومت آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان کے انتخابات پر اثرانداز نہ ہو سکے ،ہماری حکومت کے تحت دہشتگرد گروہوں اور ان کی پشت پناہی اور مالی امداد یا ہمدردی کرنیوالوں کی ہرگز گنجائش نہیں ہو گی ، سکیورٹی کی جامع حکمت عملی لاگو کرنے سمیت ایسے عسکریت پسندوں اور دہشتگردوں کے ٹھکانوں کیخلاف فوجی آپریشن کیے جائیں گے جو ریاست کے حق کوو چیلنج کریں، قومی سلامتی کا ایک فعال جامع و درست خطوط پر منصوبہ تیار کیا جائے گا، انسداد دہشتگردی کی قومی اتھارٹی کی تشکیل نو کی جائے گی ، بلاول بھٹو زرداری نے سچائی اور مفاہمت کا کمیشن قائم کرنے کا اعلان بھی کیا، خارجہ پالیسی پر پارلیمان کو نگرانی کا اختیار ہو گا منشور میں امریکہ ، افغانستان، چین، ہندوستان، مشرق وسطیٰ ، جنوبی ایشیاء دیگر خطوں اور بین الاقوامی اداروں سے تعلقات اور روابط کی تجاویز بھی شامل ہیں ثقافت کیلئے بھی پیپلزفلم کونسل قائم کی جائے گی۔

پی پی منشور

مزید : صفحہ اول


loading...